آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

مومن کی معاشی زندگی اور شریعت کی ہدایت

آج کا پیغام - 26 مارچ ،18 رجب المرجب

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

 

دنیا گزارنے کے لئے دولت اور روزی کا حصول ہر آدمی کی لازمی ضرورت ہے ۔ انسان کو مکلف بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے لئے اپنی اولاد اور ماتحتوں کے معاش اور روزی روٹی کے لئے دوڑ بھاگ اور تگ و دو کرے کیونکہ انسان کے رزق اور روزی روٹی کو اللہ تعالی نے دنیا میں اس کے لئے پھیلا دیا ہے اس کو حاصل کرنا اور اس کے لئے محنت کرنا یہ انسان کے ذمہ ہے ۔ اسلام نے تعلیم دی ہے کہ آدمی کو اپنی روزی حلال طریقوں سے کمانی چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ یہ روزی آزادانہ طریقہ پر کمائی جائے دوسروں کی غلامی اور چاکری سے بہتر ہے کہ آدمی اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے نیز یہ کمائ حلال ہو ناجائز طریقہ سے حاصل نہ کی جائے ۔ قوت بازو سے روزی پیدا کرنا خواہ وہ صنعت و حرفت کے ذریعہ ہو یا تجارت و زراعت سے یا محنت و مزدوری کرکے یا دیگر حلال اور جائز طریقوں سے اس کی نظر میں کس قدر مطلوب ہے اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ پھاوڑا چلاتے ہوئے ایک صحابی کے ہاتھ سیاہ ہوگئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تمہارے ہاتھ پر کچھ لکھا ہے صحابی نے جواب دیا ۰۰ نہیں ۰۰ پتھر پر پھاوڑا چلاتا ہوں اور اس سے اپنے بال بچوں کے لئے روزی روٹی پیدا کرتا ہوں یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی سے ان صحابی کا ہاتھ چوم لیا اور رزق کی برکت کی دعائیں دیں ۔

قرآن مجید اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رزق کے سلسلہ میں دو معیار بتائے گئے ہیں ایک ہے کفاف یعنی بقدر ضرورت روزی ۔ اور دوسرا ہے تکاثر یعنی زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنا اور اس کو زندگی کا مقصد اور نصب العین بنالینا۔

قرآن مجید کی سورہ تکاثر میں یہ بتایا گیا ہے کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تکاثر کی نفسیات اور بیماری میں مبتلا ہیں یعنی حد سے زیادہ مال کمانے کی حرص اور صرف اسی کے لئے دوڑ بھاگ ۔ ایسے لوگ بالکل غفلت میں رہتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مال ذریعہ عیش نہیں بلکہ وہ ایک سنگین ذمہ داری ہے ایک ایسی ذمہ داری کہ حشر کے میدان میں خدا کی عدالت میں ان سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا کہاں سے کمایا کس طریقہ سے کمایا اور کہاں کہاں خرچ کیا ؟جس آدمی کہ اندر اس کا احساس پیدا ہوجائے گا وہ اپنی زندگی میں کبھی رزق کو اول درجہ نہیں دے گا بلکہ اس کو ثانوی درجہ دے گا ۔

دوسرا طریقہ کفاف کا ہے کہ وہ بقدر ضرورت روزی پر راضی اور خوش ہوجائے ۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :قد افلح من اسلم ،و رزق کفافا و قنعہ اللہ بما آتاہ ،صحیح مسلم کتاب الزکوة ) یعنی وہ آدمی کامیاب رہا جس نے خدا کی اطاعت کی ،اور اس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے جو کچھ دیا اس پر اس نے قناعت کرلی ۔

تکاثر ( ہائے دنیا ہائے دنیا) کی نفسانیت میں مبتلا ہونا در اصل مال و دولت روزی روٹی اور اسباب و وسائل کو ہی اپنا سب کچھ سمجھنا ہے ۔ ایسا آدمی رسمی طور پر سارے احکام و شعائر پر بظاہر عمل کرتا نظر آئے گا لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ مال و دولت کو ہی سب کچھ سمجھتا ہوگا مال ہی کو اس کی نظر میں اصل درجہ ہوگا ۔ ایسا آدمی دنیا میں مالدار دکھائی دے گا لیکن آخرت میں وہ کنگال نظر آئے گا ۔

لیکن جو شخص بقدر کفاف روزی پر مطمئن ہوگا وہ انسان ہی حقیقت میں کامیاب ہوگا کیونکہ ایسے آدمی کو دنیا میں یہ موقع نصیب ہوگا کہ وہ اپنی توانائی کو ضائع ہونے سے بچائے اور آخرت کی ابدی کامیابی کے لئے زیادہ سے زیادہ عمل کرے ۔

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker