نوائے بصیرت

’مرکز علمی دارالعلوم امدادیہ: رہے سلامت تمہاری نسبت‘

نازش ہماقاسمی

(ممبئی اردو نیوز/ نیشنل بیورو چیف بصیرت آن لائن )
مجھے فخر ہے کہ میں نے آزادی کے دو سال بعد ممبئی میں قائم ہونے والے ایک ایسے ادارے میں علم حاصل کیا ہے جہاں سے کبار علماء وقت نے زانوئے تلمذ تہ کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا پوری دنیا میں منوایا ہے اور ملک وبیرون ملک میں امت مسلمہ کی قیادت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، تصوف وسلوک کی منزلیں طے کرکے روحانی فیض پہنچا رہے ہیں، سیاست میں جاکر پارلیمنٹ میں مسلم نمائندگی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں اور درس وتدریس کو اپنا مشغلہ بناکر قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی صدائیں بلند کررہے ہیں۔ اس ہمہ گیر اور مرکز علمی ادارہ کا نام دارالعلوم امدادیہ چونا بھٹی مسجد مرکز ممبئی ہے۔ دارالعلوم امدادیہ کی بنیاد سرزمین ممبئی میں اس وقت رکھی گئی تھی جب ممبئی میں کفر و الحاد کا دور دورہ تھا، مسلمان صرف نام کے مسلمان رہ گئے تھے، خدا سے بُعد تھا، سنت نبوی سے بغض پیدا ہوتا جارہا تھا۔ اور خصوصا علم کے متوالوں کو اپنے علمی تشنگی بجھانے کے لیے کوئی جگہ نہیں مل پارہی تھی، ان حضرات کو جگہ جگہ دقت و دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ تو اس وقت کے کچھ ولی صفت، متقی و پرہیزگار، ہستیوں سے ممبئی کے مسلمانوں کی بے بسی دیکھی نہ گئی۔ انہوں نے ان کی بے بسی کو دور کرنے، طالبان علوم نبویہ کی تشنگی بجھانے اور امت مسلمہ کی حقیقی رہنمائی کے لیے اس ادارے کی بنیاد ۱۹۴۹ء میں نمازی منزل دوٹانکی ممبئی میں رکھی اور وہیں سے یہ مدرسہ پروان چڑھا جو آج ایک اسلامی قلعہ کے مانند ہے۔ اس ادارہ کی بنیاد رکھنے والوں میں حضرت مولانا عبدالعزیز صاحب بہاریؒ (بانی اول)، حضرت مولانا دوست محمد صاحبؒ، حضرت خواجہ نقشبندی سرہندیؒ، حضرت مولانا تقی صاحبؒ، حضرت مولانا محمودالرحمن صاحبؒ، حکیم فصیح الدین خان اعظمی اور جناب ولی عمر بھڑوچہؒ صاحب کے اسما قابل ذکر ہیں۔ اس ادارہ کو ۱۹۶۹ میں چونا بھٹی مسجد مرکز ممبئی میں منتقل کردیاگیا جہاں اسے پچاس سال کا طویل عرصہ ہوچکا ہے۔ اس مدت میں ادارہ کے فارغین نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جو تاریخ میں سنہرے اوراق میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ اس ادارہ سے مولانا عمر پالپنوریؒ، مولانا یونس پونہ والے، مشہور تاجر، ممبر آف پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا محمود دریا بادی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ دارالعلوم امدادیہ کے فیض یافتگان آج ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے قابل ذکر اداروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جس میں دارالعلوم وقف دیوبند، دارالعلوم حیدرآباد، جامعہ مسیح العلوم بنگلور، مدرسہ امدادیہ اشرفیہ راجوپٹی(بہار) وغیرہ شامل ہیں۔ مدرسہ امدادیہ نے سفر میں اگر بہاروں کا سامنا کیا ہے تو بادسموم کی لہروں سے بھی مقابلہ کیا ہے، مگر پھر بھی ہردور میں وہ آفتاب کی طرح جگمگا کر نور بصیرت بکھیرتا رہا۔ مدرسہ امدادیہ ازہر ہند دارالعلوم دیوبند سے مربوط ہے اور ممبئی میں اہل السنہ والجماعۃ کا ترجمان ہے۔ یہاں ناظرہ سے لے کر عربی ہفتم تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جس میں تقریباً چار سو سے زائد طلبہ کرام مستفید ہوتے ہیں درجہ حفظ کی پانچ ترتیب ہیں اور ہر سال حضرت الاستاذ قاری نسیم الحق معروفی امام مسجد چونا بھٹی مرکز ممبئی کی سرپرستی میں حفاظ کرام کی ایک خاصی تعداد نکلتی ہے جو اندرون وبیرون شہر اپنے قرآنی علوم سے عوام و خواص کو فیض پہنچاتے ہیں۔ اس ادارہ کو شروع سے ہی ایسی قیادت میسر رہی کہ ہر دور میں اس نے مخلصانہ قیادت کے زیر اثر رہ کر امت مسلمہ کی داد رسی کی اور مادیت پرستی سے دور رہ کر ہمیشہ اپنے فارغین کو حصول دنیا میں ملوث نہ ہونے کا مشورہ دیکر آخرت پیش نظر رکھنے کی نصیحت کی۔ دارالعلوم امدادیہ کو اگر ممبئی کا سب سے پہلا ادارہ قرار دیاجائے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا یہ ام المدارس ممبئی ہے۔آزادی کے بعد ہندوستان کی نشاۃ ثانیہ میں ممبئی کے مسلمانوں کو اس ادارے نے حوصلہ دیا اور ہمیشہ حب الوطنی کی تعلیم دی۔۹۲ کے فسادات میں لہولہان ہوا،مولانا ابوالقاسم شہید کردئیے گئے مگر پھر بھی ہمت نہیں ہاری، باطل قوتوں کا مقابلہ کیا اور ہندوستانی عدلیہ پر بھروسے کرتے ہوئے اب بھی انصاف کی منتظر ہے۔
اس مدرسہ کے سرپرستوں میں سر سید ثانی ڈاکٹر اسحاق جمخانہ والا کا بھی نام آتا ہے جن کا انتقال چند برس قبل ہوا ہے، انہوں نے اپنی سرپرستی میں انجمن اسلام کی طرح امدادیہ کی شاخ در شاخ تو نہیں قائم کی؛ لیکن مدرسہ کو اکابرین کی روح پر قائم ضرور رکھا۔ فی الحال اس دارالعلوم کی باگ ڈور حافظ عظیم الرحمان صاحب صدیق (ایم اے، ایل،ایل،بی) اعزازی ناظم اعلی دارالعلوم امدادیہ، مولانا جنیدبنارسی(چیئرمین)، مولانامحمود دریابادی، مولانا بدرالدین اجمل، ڈاکٹر عبدالرئوف سمار، جناب ابوبکر بھائی وغیرہم کے ہاتھوں میں جو بخوبی اسے نبھارہے ہیں۔ گزشتہ برس دارالعلوم امدادیہ پر غم کے بادل ٹوٹ پڑے تھے، اس کی در و دیوار مغموم تھی، وجہ ادارہ کے دو عظیم مربی، رہبر کا چند ماہ کے دوران بارگاہ الہیٰ میں چلے جانا تھا۔ پہلے چالیس برس سے زائد عرصے پر محیط امدادیہ کو سر سبز و شاداب بنانے میں اہم رول ادا کرنے والے مشفق و شفیق مہرباں وغم گسار مولانا محمد شفیق قاسمی علیہ الرحمہ کا انتقال ہوگیا ان کے انتقال کے چند دن بعد ہی مولانا حسین قاسمی پالنپوری ؒاپنے مشفق دوست کی جدائی برداشت نہیں کرسکے اور وہ بھی خدا کے حضور پہنچ گئے۔ اللہ انہیں جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔ (آمین)
دارالعلوم امدادیہ کے باکمال اساتذہ جن کی سرپرستی میں طالبان علوم نبویہ اپنی تشنگی بجھا رہے ہیں ان کے اسما درج ذیل ہیں: مولانا بدرالدین قاسمی (صدرمدرس)، مولانا غلام رسول قاسمی (ناظم تعلیمات)، قاری نسیم الحق معروفی (نائب صدر مدرس)، مولانا عبدالرزاق قاسمی (ناظم کتب خانہ)، مفتی اشفاق قاسمی (نائب ناظم تعلیمات)، مولانا قطب الدین قاسمی، مولانا شاہنواز خان قاسمی (ان سے راقم نے بھی کسب فیض کیا ہے)۔ ان کے علاوہ مولانا صابر قاسمی، قاری افتخار، قاری احمد اللہ، حافظ علاء الدین، مولانا حسین قاسمی، قاری عبدالرقیب قاسمی، قاری لطف الرحمان، منشی شفیع، مولانا اظہر قاسمی، مولانا بدرالزماں قاسمی، مولانا اسعد قاسمی، مولانا عمران وغیرہم ہیں جو ہمہ وقت تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی فلاح وبہبود اور ان کے اخلاق وکردار سنوارنے میں منہمک رہتے ہیں۔ جن کی سرپرستی میں دارالعلوم امدادیہ کامیابی کے منازل طے کررہاہے اللہ تبارک وتعالی سے ان کی درازئ عمر کے لیے دعاگوں ہوں۔ ان اساتذہ باکمال سے مجھے نسبت ہے اور میں اس نسبت پر فخر کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ’رہے سلامت تمہاری نسبت‘ خدا ان بزرگان دین کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھے اور ادارہ کو مزید ترقیات سے نوازے۔ آمین!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker