مضامین ومقالات

کرنے کے ہیں کچھ کام اور بھی سیاست کے علاوہ

فیروز عالم ندوی

معاون ایڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی

 

آزادی ہند کے ایک دو دہائی بعد اہل سیاست نے انتخابی مہمات میں کامیابی حاصل کرنے کی غرض سے لٹھیتوں کا سہارا لینا شروع کیا، پھر کچھ عرصہ بعد انھیں پہلوانوں نے براہ راست انتخابات میں حصہ لینا شروع کر دیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری سیاست غنڈوں اور اوباشوں کے نرغے میں چلی گئی۔ یہی لوگ اس میدان کے اصل شہسوار بن گئے۔ اس راہ کے خد و خال کو طے کرنے میں ان کے طرزِ فکر کو محوریت حاصل ہو گئی۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ صاحب علم وفضل حضرات خود کو اس سے دور رکھنے میں عافیت سمجھنے لگے۔ پڑھے لکھے اور مہذب طبقہ کی کنارہ کشی نے زندگی کے اس میدان کو کافی نقصان پہنچا یا۔

 

1980 عیسوی میں سنگھ کی کوکھ سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے جنم لیا۔ اس کے حسب و نسب کے اعتبار سے اس کی غرض و غایت کو بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اٹل بہاری واجپائی کے زیرقیادت اس پارٹی نے دو مختصر میعادی اور ایک طویل میعادی حکومت بنائی۔ اس کے بعد پھر دو ٹرم کانگریس کی حکومت رہی۔ 2014 آتے آتے ایسا محسوس ہوا کہ سنگھ پریوار ہندووادی حکومت کے قیام کے لئے پوری طرح جلد بازی میں ہے اور ہر قیمت پر ایک ایسے ہندووادی حکومت کے قیام کے لئے بے چین ہے جو ان کے ذریعہ گڑھے گئے متشددانہ مفروضوں کو اس ملک کے طول و عرض میں نافذ کر سکے۔ توقع کے عین مطابق پارٹی کے بانیان اور سرکردہ لوگوں کو کنارہ کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو کلیدی عہدوں اور مقام پہ لایا گیا جو تمام اخلاقیات سے بالاتر ہو کر بہر صورت ایک مستحکم حکومت قائم کر سکیں ۔ پھر ان لوگوں نے اپنی سطحیت کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے تمام اخلاق و اقدار سے بالا تر ہو کر حصول حکومت کے لئے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے ۔ خریدوفروخت ، سرمایہ داروں سے خفیہ معاہدے اور قومی اداروں کے ساتھ سیٹنگ۔ بہر صورت پارٹی واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آ گئی۔

 

سیاست کی روش پہلے ہی سے خراب چلی آ رہی تھی۔ اس پر غنڈوں اور لٹھیتوں کا قبضہ ہوتا چلا آ رہا تھا اب اس پارٹی نے تمام سطحی کاموں کو انجام دے کر اس کی رہی سہی کسر کو پورا کر دیا۔

 

ان سب کے درمیان مسلمانوں کا رویہ بڑا ہی عجیب و غریب اور غیر واقعی رہا۔ کبھی کسی پارٹی کو غیر ضروری طور پر اپنا ہمدرد سمجھتے رہے تو کبھی کسی کو انتہائی درجہ میں اپنے وجود کا دشمن تصور کر لیا ۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر مختلف پارٹیاں ہمیں صرف اور صرف استعمال کرتی رہیں ۔

 

2019 کے پارلیمانی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے۔ حسب سابق مسلم دانشوران برساتی مینڈکوں کی طرح اپنے اپنے خول سے باہر آ کر اپنی اپنی ٹرٹراہٹ سے آسمان سیاست کو غیر قابل فہم بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

 

ملت کا ایک بڑا طبقہ کانگریس کی جیت میں اپنی بھلائی تصور کر رہا ہے۔ ماضی میں اس کی مسلم دشمنی کی جو سیاہ تاریخ ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ حال کی بات یہ ہے کہ شمال مشرق میں مسلمانوں کی ایک بڑھتی ہوئی قیادت کو دبانے کے لئے اس دوست نما پارٹی نے اپنے آپ کو بی جے پی کے سامنے قربان کردیا ہے ۔ دہلی میں عاپ کو نظر انداز کر کے اپنے سیکولرزم کا معیار بتا دیا ہے۔

 

تقریباً دو ماہ بعد الیکشن کے نتائج آجائیں گے اور پھر سارے مفکرین اپنے اپنے بلوں میں واپس جاکر مسلمانوں کی مظلومیت اور ان کی بے بسی پر گھڑے بھر بھر کر آنسو بہائیں گے۔ ایئر کنڈیشن کی برودت سے ملت کے مظلومیت کی سوزش کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں گے اور آئندہ انتخابات تک کے لئے ملت کی ساری ذمہ داریاں اللہ کے سپرد کرکے خود سو جائیں گے۔

 

دنیا دار الحوادث ہے، یہاں حادثات کا تانتا لگا رہتا ہے۔ابھی ایک مشکل سے نکلے نہیں کی دوسری مشکل سر آ گئی۔ یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہے گا۔ زندہ قومیں انہیں نامساعد حالات کے اندر مثبت چیزوں کی دریافت کرکے صحیح سمت میں پیش قدمی کرتی ہیں جب کہ مردہ قومیں آہ و فغاں کرتی ہیں اور حالات کا رونا روتی ہیں ۔

 

ہندوستان کی ابتر ہوتی سیاسی صورتحال مسلمانوں کے لیے ایک بہترین موقع تھا کہ وہ اپنی افادیت ثابت کر سکیں ۔ جیسا کہ آپ نے اوپر کی سطروں میں پڑھا جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خراب سے خراب تر ہوتی سیاسی روش ہندوستان کے جملہ باشندگان کے لیے نقصان دہ ہے نہ کہ صرف ایک طبقہ کے لیے ۔ یہ ایک بہتر موقع تھا جب آپ لوگو کے درمیان جاکر ان کے اندر صحیح سیاسی شعور پیدا کرتے ، سیاست دانوں کے ہتھکنڈوں کو اجاگر کرتے ، ان کے عوام مخالف فیصلوں سے لوگوں کو آگاہ کرتے اور سمجھاتے۔ نہ کسی پارٹی کے دوست بنتے اور نہ کسی کے دشمن۔ اس کام کو اگر بڑے پیمانہ پر منظم طریقے سے کیا جاتا تو یہ اس ملک کے جملہ باشندگان کے حق میں انتہائی مفید ہوتا اور مسلمان خود دفاعی پوزیشن سے نکل کر ایک اچھی صورتحال کی طرف آتے۔

 

کثیر طبقاتی معاشرہ میں خود کو بلند و بالاتر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ تمام شعبہ ہائعبہ ہائ ہے کہ آپ تمام شعبہ ہائعبہ ہائے حیات میں نمایاں ہوں، ساتھ ہی ساتھ آپ سب کے لئے مفید بھی ہوں۔ اس کے لئے سیاست میں بھی اچھی حصہ داری ضروری ہے مگر یہ حصہ داری مظلومیت کے آخری پائیدان پر بیٹھ کر ملن کر ملنے والی نہیں ہے۔ اس کے لئے پہلے خود کو نمایاں بنانا ہویاں بنانا ہوگا اور اس سمت میں بڑھنے کے لیے تمام ضروری اقدام کو ترجیحی طور پر کرنا ہوگا۔

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker