جہان بصیرتنوائے خلق

اسلام تلوار سے نہیں اخلاق سے پھیلا ہے

اسلام کے زور زبردستی سے پھیلانے کے دعوے کے رد میں کچھ دلائل اور حقائق

مکرمی :

اکثر الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام تلوارکے زور پر پھیلا ہے اور اسلام کے ماننے والوں نے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ زور زبردستی اور تلوار کا سہارا لیکرانہیں اسلام میں داخل کروایا۔ لیکن ہم جب باریک بینی سے تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ الزام سراسر بہتان اور جھوٹ پر مبنی ہے ۔بہت سے موئرخین کا نظریہ ہیکہ یہ غلط فہمی پھیلائی گئی کہ اسلام کی تبلیغ میں زور زبردستی اور تلوار کا دخل ہے ۔موئرخین اپنی دلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ حقیقت میںاسلام کی تبلیغ کرنے والے (جن میںصوفی ،مذہبی رہنمااور تاجر شامل ہیں)نے ’توحید(‘ایک اﷲکا نظریہ )کو سمجھانے اور اسے تسلیم کروانے میںکامیاب رہے ۔قرآن مجید میں ﷲ تعالیٰ فرماتاہے ’دین میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے ‘قرآن مجید کی اس آیت سے بھی پتہ چلتا ہیکہ اسلام میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ اسلام کے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ اسلام مذہب کے ماننے والوں کا اپنے اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اچھا رابطہ ہوناہے۔مثال کے طور پر انڈونیشیا جہاں دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے وہاں کسی باہری مسلم ملک کے ذریعے کوئی تخریبی مداخلت نہیں کی گئی ۔اس کے علاوہ دیگر مسلم ممالک جیسے مصر ، شام ، عراق میں قدیم دور سے عیسائیوں اور یہودیوں کی ایک بڑی تعداد رہتی آر ہی ہے ۔اسپین میں اس وقت جب مسلمانوں کی حکومت تھی تواس وقت بھی مسلمان دیگر عقیدے کے لوگوں کے ساتھ امن و شانتی کے ساتھ رہے ۔یہ بھی بات قابلِ غور ہیکہ اس عرصہ سے ہندوستان میں مسلمان مضبوط حالت میں رہے اور یہاں ہندو ہمیشہ اکثریت میں رہے لیکن اس ملک کو کبھی اسلامی ملک بنانے کی کوشش نہیں ہوئی ۔اس لئے کہا جاسکتا ہیکہ اسلام کی اصل روح امن ، محبت ، بھائی چار ہ ،عدم برداشت میں پنہاں ہے ۔جو اس کو مکمل طور سے قبول کرے گا تووہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے بہکاوے میں آنے سے محفوظ رہے گا۔

عمیر اختر نئی دہلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker