جہان بصیرتنوائے خلق

شدت پسندی کی روک تھام کے لئے امن کے قیام کی ضرورت

مکرمی!

جہاد لفظ کا استعمال غلط طور سے کیا جا رہا ہے ۔اس لفظ کا استمعال دہشتگردی کو فروغ دینے کیلئے کیا جا رہا ہے اس کو روکنے کے لئے مذہبی سرپرستی کے زریعےامن و انصاف اور مذہبی کتابوں کے استمال کی ضرورت ہے ۔یہ بات واضح ہے کہ جنگ کے زریعے اسلامک شدت پسندوں کو نہیں ہرایا جا سکتا ہے ۔پھر بھی کچھ مسلم نو جوان شدت پسندی کی طرف جا رہے ہیں ۔اسلام مذہب امن بھائی چارہ اور محبّت سے لوگوں کو انکی منزل کی طرف لے جاتا ہے ۔دہشت گرد اسلام کو بد نام کر رہے ہیں ۔خود کو اعلی بتا کر اور دوسروں کو نیچا دکھا رہے ہیں ۔یھاں تک کہ وہ مرد خواتین میں بھی تفریق کرتے ہیں ۔مرد کو اعلی سمجھتے ہیں ۔ہندو اور مسلم دونوں شدت پسندی کے شکار هو رہے ہیں ۔علماء کو چاہئے کہ وہ بھٹکے ہوءے نو جوانوں کو حق کا راستہ دکھایں اور اسلام مذہب کا صحیح مطلب سمجھاءیں ۔اللہ اور اسکے رسولوں نے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو نیچا دکھانے سے منع کیا ہے۔ مذہبی کتابوں میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ اسلام شدت پسندی کا مذہب ہے ۔ہمارے نبی نے یہ بھی نہیں کھا ہے کہ دن رات عبادت میں لگے رہو ۔مسلم طبقات کے بیشتر لوگ امن اور بهایی چارہ کو پسند کرتے ہیں ۔سواے القاعدہ ،لشکرے طیبہ، جیش محمد جیسی تنظیمیں اسلام جیسے اچّھے اور پاک مذہب کو بدنام کر رہے ہیں ۔اللہ‎ کی نظر میں سب سے خراب جانور گونگے بھرے ہیں ،جنکا مصرف نہیں ہے ۔قرآن نے دوسرے مزاہب کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ۔اللہ‎ نے جو کتاب رسول کو دی ۔وہ بہت اچّھی اور ہدایت والی کتاب ہے ۔جو کچھ کام نہیں کرتے وہ اللہ‎ کو پسند نہیں ہیں ۔مسلم کو شدّت پسندی کو روکنے کے لیے اہم قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔اور چاہئے کہ امن و بهایی چارہ کو قایم رکھیں ۔جس میں سبھی کو اتفاق رکھنا چاہئے ۔

سعید خان

نئی دہلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker