آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

مسلمان متحد ہو کر حق رائے دہی کا استعمال کریں

آج کا پیغام - 11 اپریل، 4 شعبان المعظم

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

 

ہم مسلمان اس ملک کے وہ باشندے ہیں کہ یہاں کے چپہ چپہ پر اور ذرہ ذرہ پر ہمارے احسانات ہیں اس ملک کو ہمارے اسلاف نے خاص طور پر علماء کرام نے آزادی دلانے میں اپنے خونوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ اور یہاں کے مسلم حکمرانوں نے اس ملک کو وہ گل بوٹے اور ایسی دلکش عمارتیں اور ایسی ترقیاں دیں کہ آج بھی دوسرے ممالک رشک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور ہمارے ملک کی قومی معیشت کا ذریعہ ہیں۔ اس ملک میں آج ہماری تعداد تقریبا ۲۵/ کروڑ ہے ۔ ہماری رگوں اور خمیر میں ہندوستان کی مٹی شامل ہے ۔ ہمارے آباء و اجداد کے احسانات اس ملک کے چپہ چپہ پر ہیں اور اس کا گواہ اس سرزمین کا گوشہ گوشہ ہے ۔ مسلمانوں کا اس ملک میں وجود یوں ہی نہیں ہے بلکہ بقول مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں نے اس ملک میں پورے عزم کے ساتھ سوچ سمجھ کر رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے عقیدے اور تشخص کے تحفظ کے ساتھ اس ملک میں رہیں گے ۔

یہ بھی حقیقت ہے ہمارے  مذھبی قائدین اور علماء کرام اپنی سادگی اور سادہ لوحی کے ساتھ ملک کو آزادی دلانے کی لڑائی لڑتے رہے اور برادران وطن کے ساتھ مل کر اس ملک کو آزادی دلائی ۔ لیکن آزادی کے بعد مسلمانوں کا ٹھوس اور مضبوط لائحہ عمل طے کرنے میں وہ ناکام رہے اور اپنی اس بے مثال قربانیوں کے بعد پھر اپنی تعلیمی و تدریسی خدمات میں متوجہ ہوگئے ۔ آزادی کے بعد مسلمانوں کا کوئ متحدہ پلیٹ فارم نہ رہا ۔کوئ مضبوط اور مستحکم ملی قیادت نہ رہی مسلمان مسلک و مشرب میں بٹ گئے اور ان کی طاقت منتشر ہوگئ ان کا شیرازہ بکھر گیا ۔ جس کا خمیازہ آج ہم سب بگھت رہے ہیں ۔ اور جس کا خوفناک انجام آج ہمارے سامنے ہے ۔

ادھر برادران وطن کی ایک تنظیم اور جماعت جو آزادی کی لڑائی سے بالکل دور رہی ، آزادی کے سورماوں سے فاصلہ بنائے رکھا بلکہ خفیہ طور پر انگریزوں کے ایجنٹ بنے رہے اور اس کی معاونت کرتے رہے ۔ اس نے جب دیکھا کہ اب آزادی پکی اور یقینی ہے تو اس نے آزادی کے بعد کی پوری پلانگ اور منصوبہ بندی شروع کردی اور لائحہ عمل طے کرنے میں جٹ گئی کہ مستقبل میں یہ ملک ہندو راشٹر کیسے بنے ؟ یہاں مسلمانوں کی حیثیت عرفی کس طرح ختم ہوجائے ان کا وجود کیسے مٹ جائے ؟اگر وہ رہیں بھی تو ہماری تہذیب و کلچر کے ساتھ ہمارے رنگوں میں رنگ کر ۔ ہماری تہذیبوں میں گھل کر ۔ اور وہ اپنے منصوبے کی تکمیل کے لیے مسلسل محنت اور جدوجہد کرتے رہے اور اس طرح وہ اپنے پلانگ اور منصوبے کو نافذ کرنے کے قریب پہنچ گئے اور ہم مسلمان اس ملک میں تمام تر قربانیوں اور محنتوں کے باوجود حاشیے پر چلے گئے ۔

آج صورت حال ہمارے لئے بہت نازک ہے ۔ گزشتہ کچھ سالوں سے ملک کا ماحول اور منظر نامہ بدلا بدلا سا ہے خبریں بڑی عجیب و غریب سی آرہی ہیں ۔ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے ۔ مستقبل میں مسلمانوں کو حق رائے دہی سے بھی کیسے محروم کیا جائے اس کی پلانگ زور شور سے جاری ہے ہندو راشٹر کا مطالبہ اور دھرم پریوتن کی مہم چلائی جا رہی ہے ۔ لیکن افسوس کہ ہم مسلمان نوشتہ دیوار پڑھ کر بھی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں، پوری طاقت بے جا بحثوں اور کاموں میں صرف کر رہے ہیں ۔ مخالف پوری بیدار مغزی کے ساتھ حکمت عملی طے کر رہے ہیں اور ہمارے علماء کرام اور فارغین مدارس اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ داڑھی رکھنا یہ نبی کی سنت تھی یا عادت ۔ داڑھی ایک مشت ہو یا اس کم ،ایک مشت سے کم داڑھی والا فاسق ہے یا نہیں؟ صحابہ کرام کی عدالت کس درجہ کی ہے ؟ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ بارے میں کیا موقف اپنائیں کن کی طرف داری کریں؟ اس طرح کے موضوعات ان حالات میں زیر بحث ہیں ۔ افسوس ہوتا ہے ان حضرات کے عقل و دانش اور فہم و بصیرت پر حالات کیا ہیں اور تیاری کس چیز کی کررہے ہیں ؟ گھر میں جنازہ رکھا ہو تو تجھیز و تکفین اور تدفین کی تیاری کی جاتی ہے نہ کہ اس دن بازار جاکر شادی کے کپڑے خریدے جاتے ہیں ۔ اسی طرح گھر میں شادی بیاہ ہو تو شادی کی تیاری کی جاتی ہے اس کے لئے انتظامات کئے جاتے ہیں نہ کہ اس دن کفن دفن کی تیاری کی جاتی ہے ۔

ہم مسلمان اب کب ہوش کے ناخن لیں گے ؟ ہماری آنکھیں کب کھلیں گی ؟ کہنے کو تو بہت کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہماری بہت سی غلطیاں ایسی ہیں اور ہو رہی ہیں جو دانستہ ہیں جانتے ہوئے بھی ہم غیر ضروری بحثوں میں اور لا یعنی باتوں میں الجھے ہوئے ہیں حالات کے تدارک کی ذرا بھی فکر نہیں کررہے ہیں ۔ مضامین و مقالات کی تو بھیڑ ہے ۔ آراء اور نظریات کی تو کثرت ہے لیکن عملی میدان میں ہم کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں ہاں نام و نمود اور شہرت خوب حاصل کر رہے ہیں ۔ میدانی کام کس طرح ہو ڈور ٹو ڈور ہم لوگوں کے پاس کیسے پہنچیں ملک کی سالمیت کے لئے افراد سازی کیسے کریں اور برادران وطن کو بھی صحیح صورت حال سے کیسے واقف کرائیں اس کی طرف ہماری کوششیں بالکل نتھینگ ہیں ۔ آر ایس ایس کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ وہ کس طرح خفیہ طور پر اپنے نظریات اور منصوبے کو نافذ کرنے کامیاب ہے ۔

آج ہمارے پڑھے لکھے مفکر و دانشور طبقہ اور انٹکیچول طبقہ کا حال یہ ہے وہ ان مسائل کو بھی جن کو بند کمرے میں حل ہونا چاہیے واٹسیپ اور فیس بک پر حل کر رہے ہیں ۔ جو مشورے اور تجاویز رازدارانہ طور پر پیش کرنی چاہیے وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں تک پہنچا کر حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں پتہ ہی نہیں کیا چیزیں اعلانیہ ہوتی اور کیا رازدارانہ ۔

بات کہیں سے کہیں چلی گئی ابھی جو محاذ ہمارے سامنے ہے ہم سب کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہر شخص ہر کام نہیں کرسکتا اس لئے جس کے اندر جس انداز کی صلاحیت ہو وہ آگے آئیں اور ایک دوسرے کا تعاون کریں ۔ سیاسی صورت حال کی تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ امت کسی ایک قیادت کے سایہ میں اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود متحد ہو جائیں اور صورت حال کا مقابلہ کریں ۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو سارے قائدین اپنی اپنی قیادت کے ساتھ ہم فکر و خیال ہوجائیں ۔

الحمد للہ ایک جماعت اور طبقہ مستقل فکر لئے ہوئے ہے وہ لوگ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں خدا کرے ان کی محنت رنگ لائے ان کو کامیابی ہاتھ آئے اور قوم کی کشتی ڈوبنے سے بچ جائے ۔

 

یاد رکھئےاس بار2019 کا الیکشن ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کےلئے فیصلہ کن ثابت ہونے والا ہے. اگر موجودہ حکومت پھر سےحکومت میں واپس آگئی تو اسکا منصوبہ ہندوستان کے دستور کو ختم کرنا ہے جسکے بعد 23 کروڑ مسلمانوں کی حیثیت دوسرے درجہ کی کردی جائیگی اسکے بعد رفتہ رفتہ یہاں کے مسلمانوں کا حال کیا ہوگا اللہ خیر کرے ،ایسی صورت حال میں ہندوستانی مسلمانوں کی بقاء کے صرف دو راستے ہونگے یا تو ہندو مذہب قبول کرلو یا پھر رفیوجی بن کرکسی اور ملک کو فرار ہوجاؤ. یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ ہم مسلمان آج بھی غفلت میں جی رہے ہی‍ں حتیٰ کہ ہمارے مذہبی رہنماء بھی کما حقہ اس تعلق سے لوگوں میں شعور پیدا کرنے سے قاصر ہی‍ں. اس الیکشن میں ہمارا اتحاد ہی اب ہمیں بچا سکتا ہے.اس بار آپکا ووٹ محض ایک ووٹ نہیں بلکہ آپکی اور آپکے گھر والوں کی زندگی بچانےکا ٹکٹ ہے.. آپکو بس ایک دو تین نکاتی لائحہ عمل پر کام کرنا ہے.. ایک نکتہ آپکے عمل کا ہے اور دوسرا دعاء کا…

آپ ووٹ ایک مذھبی فریضہ سمجھ ڈالیں ۔ اس کی قیمت کو سمجھیں دوسروں کو سمجھائیں ۔ ووٹ کے دنوں میں کہیں کا سفر نہ کریں ،لازمی طور پر حق رائے دہی کا استعمال کریں ۔ بوڑھے کمزوروں اور خواتین کو ووٹ مراکز تک پہنچائیں، جتنی بھی تگہ و دو کرسکتے ہوں کریں ۔

آپ ووٹ صرف ایک ہی سیکولر پارٹی کو دیں اور اپنے سب ملنے والوں کی ذہن سازی بھی کریں آپ ان پارٹیوں کے سواء کسی دوسرے کو ووٹ ہرگز نہ دیں .. اگر کہیں آزاد امیدوار ہی مناسب اور لائق ہو جیتنے کی پوزیشن میں ہو اور ملک و ملت کے لئے مفید ہو تو اسی کو آگے بڑھا دیں ۔

دوسری چیز یہ ہے کہ ہم خدا سے رشتہ اور تعلق مضبوط کریں اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں ،حالات کی تبدیلی کے لئے دعاؤں کا کثرت سے اہتمام کریں درود شریف کا ہر وقت ورد کریں ۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل نعم المولی و نعم النصیر کو اپنا وظیفہ بنائیں اور لا حول و لا قوۃ الا باللہ کو بھی پڑھتے رہیں ۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker