مضامین ومقالات

گٹھ بندھن کا کنفیوژن

احمد نور عینی

 

بہار کی دو سیٹوں کو لے کر لوگ کافی کنفیوژن کا شکار ہیں: ایک کشن گنج کی سیٹ اور دوسری بیگوسرائے کی. کنفیوژن کی وجہ لالو اور کانگریس کا گٹھ بندھن ہے. اس گٹھ بندھن کا مقصد این ڈی اے کا زور توڑنا ہے. اس مقصد کو دیکھا جائے تو بہ ظاہر گٹھ بندھن کو ووٹ دینا زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے اور اگر امیدوار کی حیثیت سے دیکھا جائے تو اختر الایمان اور کنہیا زیادہ موزوں اور مضبوط نظر آتے ہیں, مگر ان دونوں کو ووٹ دینے میں یہ خدشہ ہے کہ کہیں سیکولر ووٹ تقسیم نہ ہوجائے اور این ڈے کا امیدوار جیت نہ جائے. اس کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے درج ذیل نقاط پر غور کرنا ہوگا:

* صوبائی سطح پر گٹھ بندھن کی ایک ایک سیٹ اس وقت اہم ہوتی ہے جب ودھان سبھا چناؤ ہو.

* ودھان سبھا چناؤ میں ایک دو سیٹ سے محرومی بھی حکومت سے محرومی کا باعث بن سکتی ہے.

* لوک سبھا چناؤ میں صوبائی سطح کا گٹھ بندھن مرکز میں حکومت تشکیل دینے کے تعلق سے اتنا اہم نہیں ہوتا کہ اس کی ایک ایک سیٹ کی حفاظت ضروری ہو, کیوں کہ صوبائی سطح پر اگر اس گٹھ بندھن کو اکثریت حاصل بھی ہوجائے تو بھی کوئی ضروری نہیں کہ وہ مرکز میں حکومت تشکیل دے سکے.

* بھارت کے حالیہ لوک سبھا چناؤ میں یہ بات اہم نہیں ہے کہ کانگریس پلس کو حکومت تک پہنچایا جائے; بل کہ یہ اہم ہے کہ بی جے پی پلس کو حکومت سے بے دخل کیا جائے.

* بی جے پی پلس کو حکومت سے بے دخل کرنے کے لیے انٹی این ڈی اے امیدوار کوجتانا ہوگا.

* بہار کی ان دو سیٹوں میں مسئلہ یہ ہے کہ گٹھ بندھن بھی انٹی این ڈی اے ہے اور اختر الایمان وکنہیا بھی.

* انٹی این ڈی اے ہونے میں چوں کہ کنہیا اور اختر الایمان زیادہ سخت ہیں اس لیے ان دونوں کو ترجیح دی جانی چاہیے.

* اگر ان دو سیٹوں سے گٹھ بندھن ہار بھی جائے تو بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا (بہ شر طیکہ کہ کنہیا اور اختر الایمان جیت جائیں) کیوں کہ گٹھ بندھن کا مقصد بھی انٹی این ڈی اے حکومت تشکیل دینا ہے اور یہ مقصد اختر الایمان اور کنہیا کے جیتنے پر زیادہ بہتر طور پر پورا ہوگا.

* خدا نخواستہ اگر این ڈی اے دوبارہ اقتدار میں آجائے تو اختر الایمان اور کنہیا کا ہاتھ حزب حاکم کے گریبانوں پر ہوگا جب کہ این ڈی اے کے جیت جانے کی صورت میں گٹھ بندھن کے جیتے ہوئے نیتاؤں کا کوئی خاص کردار نہیں ہوگا.

* لہذا ان دو سیٹوں پر گٹھ بندھن کو ووٹ نہ دے کر اختر الایمان اور کنہیا کو جتایا جائے تو یہ ملک وقوم کے حق میں زیادہ مفید ثابت ہوگا. البتہ اس کے لیے بڑے پیمانے پر ذہن سازی کی ضرورت ہوگی تاکہ سیکولر ووٹس تقسیم نہ ہوپائیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker