مضامین ومقالات

مسلمانوں کیلئے پریشرگروپ بننے کاسنہراموقع

صدام حسین فیضی  09528568085

ملک کے موجودہ حالات انتہائی پرفتن ہیں،ہرطرف کاٹ مار،عیاری، دغابازی ،فحاشی، عریانیت اوربدعنوانی وبداخلاقی نے جنم لے لیاہے۔ انسانی جانوںکاکھلے عام قتل کرکے لاشوںکوچیل کووںکے حوالے کرنا،خواتین کی آبرو سے کھلواڑ، تعلیم وتربیت سے محرومی اورجائزضروریات تک کے پوراکرپانے کے لالے پڑجانا، یہ تمام غور و فکر کے موضوعات ہیں۔ 20کروڑکی مسلم آبادی کاحاشیہ پرکھڑے ہونااورہرجگہ ان کی ذلت ورسوائی آسانی سے نظر انداز کردیئے جانے والے موضوعات میں سے ہرگز نہیں ہوسکتے۔
مسلمانوںکی حالت آج کیاہے؟وہ کہاںکھڑے ہیں؟افسوس آج ان کاکوئی پرسان حال نہیں۔یہ وہی مسلمان ہیں جنہوںنے اپنے کوبے وقعت اوربے وزن کرلیاہے۔ اور یہ سب آپسی اتحاد کے فقدان کے باعث ممکن ہو سکاہے۔ چھوٹی چھوٹی قومیں ریزرویشن منوارہی ہیں،اپنی مانگیںپوری کرارہی ہیںمگرمسلمان اپنی ایک مانگ پوری نہیںکراسکتاہے، بلکہ وہ تو شاید وہ تو اپنی بات رکھنے کا ہنر ہی نہیں رکھتا۔کوئی انہیںگھاس ڈالنے کو تیارنہیںہے۔ حکومتیںبھی اچھی طرح جان چکی ہیں کہ مسلمان بکائواورلالچی قوم ہے۔ سو جب چاہواورجسے چاہو،خریدلو۔ اب اگران میںکہیں کوئی صاحب کرداروباضمیر ہے بھی تووہ کس شمار میںہے۔
یوپی اوردیگرکئی ایسے صوبے ہیںجہاںمسلمان بے بس ہیں۔ اس میںکوئی شک وشبہ نہیں کہ ملک میںمسلم آبادی کا ووٹنگ تناسب اس پوزیشن میںہیںکہ وہ جس طرف بھی جائیں اسکی جیت یقینی ہے لیکن کیامحض ووٹ پرسنٹیج کے لحاظ سے سیاست میںمسلمانوںکی کوئی اہمیت بڑھ سکی یا ان کی کوئی وقعت بن سکی؟ جواب لازما انکارمیںہوگا۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق مسلم آبادی لگ بھگ سواتیرہ کروڑتھی، جب کہ غیرسرکاری ذرائع  20کروڑسے زیادہ مسلم آبادی بتاتے ہیں۔ اتنی بڑی آبادی کے باوجودمسلمان اپنی بات یامطلب حکومت یاسیاسی پارٹیوںسے منوانے کی صورت میںنہیںہیں۔ چھوٹی چھوٹی ذات برادریاںپریشرگروپ بن کراپنی بات منوالیتی ہیں۔ کوئی وزارت لیتی ہیںتوکوئی ریزرویشن ،کوئی الیکشن میںٹکٹ توکوئی پارٹی میں عہدہ لیکن مسلمان محض جھوٹے وعدوںاورلالی پوپ پر قناعت کرلیتے ہیںاور افسوس کہ اسی پر مطمئن بھی رہتے ہیں۔ وہ اپنی بات نہ پرزورطریقے سے رکھ پاتے ہیںاورنہ حکومت وپارٹیوںسے منواپاتے ہیں۔ اسکی ایک اہم وجہ اوربڑاسبب مسلم قائدین کے درمیان اتفاق واتحادنہ ہوناہے اور دوسری بڑی وجہ مسلم ووٹوںسے بننے والے یہی اراکین اسمبلی وپارلیمنٹ ہیںجومنتخب تو مسلمانوںکے ووٹ سے ہوتے ہین لیکن وفاداری اس پارٹی کی نباہتے ہیں جس کے ٹکٹ پر وہ الیکشن لڑسکے۔ جبکہ دیگربرادریوںکے ارکان اسمبلی وپارلیمنٹ اپنی برادریوںسے نہ صرف یہ کہ جڑے رہتے ہیںبلکہ ان کی آوازبھی بنتے ہیں۔اسلئے ان کے حق میںپارلیمنٹ سے بل بھی پاس ہوجاتے ہیں، ان کے مطالبات بھی مان لئے جاتے ہیں۔
2-4ریاستوںکوچھوڑکرہرریاست میںمسلم آبادی کاتناسب اتناہے کہ بآسانی انتخابی نتائج پراثراندازہوا جا سکتا ہے ، اور اپنی بات پارٹی وحکومت سے منوائی جا سکتی ہے۔لیکن ایسا ہوتا نہیں۔ طاقت ہاتھ میںآتی ہے تواس کااستعمال مسلم رہنما مسلم قوم کیلئے نہیںکرتے بلکہ ذاتی مفادات اورچیلوں چپاٹوںکے ذاتی کاموںکیلئے کرتے ہیں۔اسی سبب سے دوررس نتائج کافقدان ہے۔مسلم قوم یا مسلم رہنماؤںنے کبھی اس پہلو پہ کام کرنا تو درکنار، شاید کبھی اس زاویے سے سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیںکی۔وہ اپنے کاندھے پرسیکولرزم اورجمہوریت کابوجھ ڈھوتے ڈھوتے لاچارومجبوراور بے بس ہوگئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ڈرا دھمکاکر، توکبھی جھوٹے وعدے کرکے ان کا ووٹ حاصل کر لیا جاتاہے اور پھر حاشیہ پرڈال دیاجاتا ہے۔ یہ روشن حقیقت ہے کہ مسلمان اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ 20 کروڑکی آبادی کم نہیںہوتی۔ پھربھی سیاست وحکومت اورالیکشن میںان کی اہمیت نہیںہے۔ان کے مطالبات کونظرانداز کیا جاتا ہے۔ ان کے پرسنل لاء اورمذہبی امورمیںدخل اندازی کی جاتی ہے ۔ اور وہ بے بس ہیں، کچھ نہیںکر سکتے۔ اکثریتی طبقہ کوخوفز د ہ کرنے کے لئے  ان کے سروں پر مسلم دہشت گردی کا بھوت تو سوار کردیا گیا لیکن نا سمجھی کی انتہا کہئے کہ یہ بے تکی منطق انہیں راس بھی آگئی۔ آخراتنی بڑی اقلیت کونظراندازکرنے کے پیچھے مقصد کیاہے؟ زبوں حالی اس مقام پر پہنچی ہوئی ہے کہ سچرکمیٹی کوکہناپڑاکہ مسلم قوم کے حالات دلتوں سے بدتر ہیں۔لیکن نہ اس پربحث ہوتی ہے، نہ اسے موضوع بحث بنائے جانے کے قابل ہی سمجھا جاتاہے۔خامیاں دونوں طرف برابر ہیں۔ نہ ہم کبھی پریشر گروپ بنے اورنہ بننے کی کوشش کی۔صرف ووٹربن کررہ گئے ۔ہمارے ووٹ کاٹے جائیں، ہمیںکوئی سروکار نہیں۔ وقت پر سوئے رہتے ہیں، اور جب بھی جاگتے ہیں، بے وقت جاگتے ہیں۔ کبھی کسی کوووٹ دے کرآزماتے ہیںاورکبھی اپنے ووٹ کوتقسیم کرکے ضائع کردیتے ہیں، کبھی ہم دلتوںکے ساتھ کھڑے ہوکران کی طاقت بن جاتے ہیں،توکبھی خودکوسیکولرکہنے والی پارٹیوںکے دام میں آکر ان کی جیت میںاہم رول اداکرجاتے ہیں۔ ہمارے ووٹوںکی بدولت کتنی چھوٹی بڑی پارٹیاںملک وریاست میںاقتدارمیںآئی لیکن خود ہم خود نہ کوئی طاقت بن سکے، جیسے ہمارا اپنا کوئی وجود ہی نہیں۔
 ہندوستان انڈونیشیا اورپاکستان کے بعدتیسراسب سے زیادہ مسلم آبادی والاملک ہے۔ مگرمسلمانوںپراقلیت کالیبل لگادیاگیایا ہم نے خودلگالیاکہ اس خول اوردربے سے باہربھی نہیںآپاتے اور اسی کارونا بھی روتے ہیں۔ اقلیتوں کی طرف پارٹیاں اور حکومتیں صرف الیکشن کے اوقات میں ووٹ بنک کی حیثیت سے دیکھتی ہیں، نہ یہ کہ ان کے مسائل سے انہیں کوئی دل چسپی ہوتی ہے۔سنجیدگی سے غور کرنے اور مستقبل کیلئے ایک مضبوط لائحہ عمل تیارکرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم دیگر اقوام و ملل سے کیوں پچھڑے ہوئے ہیں؟ ہماری پسماندگی بے شک ہماری ذاتی خامیوں کا نتیجہ ہے۔ جب تک ہم اس پہلوسے غورنہیںکریںگے ہم اوروں سے کبھی آگے نہیںبڑھ پائیں گے۔
افسوس ہماری اپنے ہی ملک میں غلاموںسے بدتر حالت ہے۔ ملک میںقصدا ایسے حالات پیداکئے جارہے ہیںکہ مسلمانوں سے ان کاآخری جمہوری حق بھی سلب کرلیاجائے اورانہیںملک بدر کردیاجائے، اے مسلمانوںاٹھو، اپنے آپ کو اور اپنی طاقت کو پہچانو، اپنے وقارکوبلندکرو،اپنے منتشرووٹوںکویکجاکرو،اپنی طاقت کوسمجھو،ایک دیواربن جائو،کیونکہ اتحادہی میں فائدہ ہے ورنہ پانچ سال تو کیا، نسل در نسل یوں ہی کچلے جاؤگے، اور بے وقعت رہوگے۔ ابھی وقت ہے سوچنے کا، سمجھنے کا۔ چابی آپ کے پاس ہے اورپہلے مرحلے کی تیاریاںمکمل ہونے جارہی ہیںاسلئے اس موقع کوغنیمت جانئے، اپنے ووٹ کی اہمیت کا احساس کیجئے،
ورنہ کل گلشن تو کیا، دریا تلک جل جائے گا جنگلوں کی آگ سے صحرا تلک جل جائے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker