ہندوستان

بابا صاحب امبیڈکر کر سالگرہ عقیدت واحترام سے منائی گئی

دربھنگہ۔ ۱۵؍اپریل: (رفیع ساگر) آئین کے معمار بھارت رتن ڈاکٹر بھیم راو امبیدکر کی 128 ویں سالگرہ مقامی بلاک کے راڑھی گاوں کے امبیدکر پوری میں پوری عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔1/2 کی ضلع پارشد سشیلا دیوی اور پنچایت سمیتی رکن پربھاوتی دیوی نے مشترکہ طور پر شمع روشن کرکے اس تقریب کا افتتاح کیا۔ رام للت پاسوان کی صدارت اور چوکیدار نوین پاسوان کی نظامت میں منعقدہ تقریب سے ہم لیڈر نریش چودھری،سابق ضلع پارشد سدھیر ساہ،رادھے شیام منڈل ،دینیش یادو ،سوریہ پرکاش نائک،کماری نیہاریکا ،قاضی بہیڑہ کے مکھیا مہیش ساہ،للن پاسوان سکریٹری جالے،بابا جہانگیر پرمان پاسوان،ڈاکٹر اشرفی ،ادئے یادو اور رام جلم بیٹھا سمیت کئی سیاسی ،سماجی اور عوامی نمائندوں نے خطاب کئے۔ اپنے خطاب میں ماسٹر للت پادوان نے بابا بھیم راو امبیدکر کی زندگی کو ہندوستان کے لئے مثل راہ بتایا۔انہوں نے کہا کہ ان کے فلسفے کو زندگی میں اتارنے کی ضرورت ہے ۔آئین میں جو حقوق دیئے گئے ہیں اس کی خلاف ورزی ہونے پر آواز بلند کریں۔مسٹر للت پاسوان نے آگے کہا کہ تعلیم یافتہ اور منظم ہو کر ہی ہم جمہوری لڑائی کے ذریعہ اپنا حق پا سکتے ہیں۔اسی طرح ہم لیڈر نریش چودھری اور قاضی بہیڑہ کے مکھیا مہیش ساہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آئین کے خالق بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر بھی ایک دلت تھے۔ انہوں نے اپنی قابلیت اور اعلی تعلیم کی بنیاد پر نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پوری دنیا میں اپنا ایک اہم مقام بنایا تھا۔ ان کی قابلیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس کمیٹی نے ہندوستان کا آئین تشکیل دیا وہ اس کے سربراہ تھے۔ لیکن چونکہ دلت تھے اس لیے انہیں بھی نیچی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ بھی ذات پات کے شکار بنتے رہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک سماج میں تعلیمی بیداری نہیں آئے گی اس طرح کے ناروا سلوک جاری رہیں گے۔ جبکہ چوکیدار نوین پاسوان نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر کے نہ صرف دلتوں اور کمزور طبقات بلکہ مسلمانوں پر بھی بڑے احسانات ہیں۔جنہوں نے ایک ایسا دستور مدون کیا جس میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے تعلیمی حقوق کو بنیادی حقوق کا درجہ دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker