ہندوستان

*بیویوں کے ساتھ ظالمانہ رویہ مسلمان شوہروں کے کردار کے منافی*

*تقریب نکاح سے جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک، مولانا سرفراز احمد ملی القاسمی کاخطاب*
حیدرآباد:18/اپریل (بی این ایس)
خاندانی نظام کاآغاز شوہر وبیوی کی پاکیزہ ازدواجی زندگی سے ہوتاہے، کائنات میں سب سے پہلے انسانوں کے درمیان پہلا رشتہ ازدواجیت کاہی قائم کیاگیا،اب اس ازدواجی رشتے کی خوشگواری اورپائیداری اسی وقت ممکن ہے جب دونوں یعنی شوہرو بیوی ازدواجی زندگی کے آداب و فرائض سے بخوبی واقف بھی ہوں، اور عمل کرنے کاعزم جواں بھی رکھتے ہوں، اللہ تعالی نے مردوں کو خاندان کاسربراہ مقرر کیاہے اس لئے نہیں کہ وہ اپنے گھروالوں کو ظلم و ستم کانشانہ بنائے، بیوی کے ساتھ بدسلوکی کرے، مارپیٹ، لڑائ جھگڑے اورنازیباالفاظ کااستعمال کرے، شریعت شوہروں کو ہرگز ایسا حق نہیں دیتی کہ وہ ظلم وتشدد اور بیوی کے حقوق کو غصب کرے،ان خیالات کااظہار شہر کے ممتاز عالم دین، مولاناحافظ سرفراز احمد ملی القاسمی جنرل سکریٹری کل ہند معاشرہ بچاؤ تحریک نے شہر کے امیر پیٹ میں نکاح کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہاکہ بعض شوہر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ عورتوں کے حاکم ہیں،اسلئے اپنی بیویوں کو غلام بنائے رکھنے کا اسکو حق حاصل ہے،ایسی سوچ اور اس طرح کاخیال اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے،ایسا طرز عمل ظلم ہے، جس کی شریعت نے قطعا اجازت نہی دی،اس میں کوئی شک نہیں کہ شریعت اسلامیہ خواتین کو شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری کاحکم دیتی ہے اسکی عزت و تعظیم کی ہدایت دیتی ہے،اسکی زیادتیوں پرصبروبرداشت کرنے کی تلقین کرتی ہے،لیکن شریعت کایہ حکم شوہر کو اس امر کی اجازت نہیں دیتاکہ وہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور بیوی کو گھرمیں ایک لونڈی یاملازمہ سے زیادہ حیثیت نہ دے،یہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ بات بات پر گالیاں دینا،بیوی کو بے عزت اور اسکی توہین کرنانیز جسمانی ایذا پہونچانا ہمارے معاشرے میں روز مرہ کامعمول ہوگیاہے،ایسا ظالمانہ رویہ ایک مسلمان شوہر کے کردار کے منافی ہے، غیروں کے ساتھ شوہر کابرتاؤ عام طور سے مہذبانہ اور تہذیب و شرافت کے دائرے میں ہوتاہے،لیکن اپنے گھر میں جلاد، بے رحم اورظالم، غیروں کے ساتھ تحمل بردباری اورغصہ پر قابولیکن گھرمیں بیوی بچوں کے ساتھ ذراذراسی بات پر ضبط وبرداشت مفقود ہوجاتی ہے،بلکہ ہروقت چھوٹی چھوٹی بات پر غم و غصہ کااظہارکرنا جیسے وہ اسکہ اہل خانہ نہ ہوں، دشمن ہوں، مولاناقاسمی نے کہا کہ عورت کی خوشگوار پرسکون زندگی کادارومدار اکثر وبیشتر شوہر کے طرزعمل پر ہوتاہے، اسلئے قرآن کریم میں مردوں کو خاص طور پر یہ حکم دیاگیاکہ”ان عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی زندگی بسر کرو”(سورہ نساء)اورایک حدیث میں ہے کہ مسلمانوں میں کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جنکے اخلاق اچھے ہوں، اور خیر کے زیادہ حامل وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں زیادہ بہتر ہوں”(ترمذی)مسلمان شوہر کےلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے برتاؤ میں توازن کو ملحوظ رکھے،گھر میں ایک ظالم وجابر اورگھر سے باہر شفیق ومہربان، یہ منافقت نہیں تو اور کیاہے؟ایک مسلمان کاکردار گھر میں اور گھر سے باہر ایک ہی جیسا ہوناچاہیے، اور اسے ہرجگہ اورہر وقت نیکی واچھائ کاپیکر ہوناچاہیے،مولانا نے مزید کہاکہ اکثر شوہر،بیویوں کے ساتھ اپنے ظالمانہ سلوک کو خاطر میں نہیں لاتے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بیویوں سے بدسلوکی روارکھناانکا حق ہے، اوراس حق کو استعمال نہ کرنے سے خدانخواستہ انکی مردانگی میں فرق آجائے گا،بیوی چونکہ شوہر کے ماتحت ہے اسلئے شوہر یہ سمجھتاہے کہ وہ اسکے ساتھ زیادتی اور بدسلوکی کاملزم نہیں ٹہرایا جائے گا، جبکہ وہ بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کرکے گناہ گار ٹہرتاہے،حضرت فاروق اعظمؓ فرماتے ہیں کہ”جولوگ نماز ادا کرتے ہیں ہمیں انھیں مارنے کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، نماز کی ادائیگی کے علاوہ بیوی شوہر کے ساتھ محبت کے بندھن سے بھی وابستہ ہے، اگر بیوی سے کوئی معمولی خطاسرزد ہوجائے یا وہ اپنی ذمہ داریوں میں کاہلی وسستی برتنے لگے تو ایسے موقع پر شوہر کو ضبط وتحمل اورصبر سے کام لینا چاہیے،حکمت ودانائی اور عقلمندی سے اسکی اصلاح کرنی چاہیے،بلاجواز غم وغصہ کااظہار، عزت نفس کو مجروح کرنا،طعن وتشنیع اور غیر مہذب زبان کااستعمال ظلم کے افعال میں شمار ہوتےہیں،اللہ تعالیٰ ہم سبکو مثالی شوہر بنائے،بعد ازاں مولانا قاسمی نے خطبہ نکاح پڑھا اور سادگی کے ساتھ شادی کر نے پر نوشہ اور اسکے خاندان والوں کو مبارکباد دی،دعاء اور شکریہ پر یہ مجلس ختم ہوئی ،عوام کی کثیر تعداد موجود تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker