شمع فروزاںمضامین ومقالات

کم نقصان کا انتخاب

شمع فروزاں:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
الیکشن شروع ہو چکا ہے اور سیاسی جماعتیں سنہرے خواب اور سبز باغ دکھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں ، وعدوں کی بہتات بھی ہے اور اپنی خدمات کے بارے میں دعووں کی فراوانی بھی ، —- ہندوستان کے اکثر علاقے آج بھی روشنی سے محروم ہیں ، ہزاروں دیہات اور قریہ جات کا سڑکوں سے رابطہ نہیں ، بے روزگاری میں روز افزوں اضافہ ہے ، جرائم کی ایسی کثرت ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کا دامن بھی داغدار ہے، ملک کے بڑے بڑے قائدین کے بارے میں رشوتوں اور جرائم کے اسکامس گذشتہ پانچ سال میں بارش کی طرح منظر عام پر آئے ہیں اور آتے جارہے ہیں ، اور کیوں نہ ہو کہ پارلیمنٹ میں بھی اور مختلف ریاستوں کی اسمبلیوں میں بھی پولیس کے نامزد مجرم اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ اب وہ تیس ، چالیس فیصد تک پہنچ گئے ہیں ، ایسے لوگوں سے اس کے سوا اور کیا توقع رکھی جاسکتی ہے ؟ لیکن جب کسی چیز کی کثرت ہو جاتی ہے تو آہستہ آہستہ دل و دماغ اسے قبول کر نے لگتا ہے ، اور اس کی شناعت کا احساس کم ہوتا جاتا ہے ، یہی کیفیت اس وقت جرائم پیشہ سیاست دانوں کے سلسلہ میں پیدا ہو چکی ہے ، لیکن ان سب کے باوجود برسر اقتدار جماعت بہت ہی ڈھٹائی کے ساتھ اپنی چوکیداری کا نعرہ لگا رہی ہے ۔
اپنی کمزوریوں پر پردہ رکھنے اور لوگوں کی بھیڑ جمع کر نے کے لئے اب ایک نیا سلسلہ سیاست کے افق پر فلمی ستاروں کی بارات سجانے کا شروع ہوا ہے اور قومی وعلاقائی جماعتیں ایک سے ایک فلمی اداکار اور اداکارہ کو اپنے اسٹیج پر لارہی ہیں ؛ تاکہ عوام کو بہتر تماشہ دیکھا سکیں اور نو جوانوں کا شوقِ دید بھی پورا ہو ، یہ یقینا سیاسی قیادت کی سطحیت اور گراوٹ کی انتہاءہے اور اس انحطاط پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے ، اگر آئندہ سیاسی جلسوں میں رقاصاؤں سے رقص کرایا جائے اور گلوکاروں سے گیت سنوائی جائے تو تعجب نہ کرنا چاہئے ؛ کیوں کہ جب مقصود سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانا ہے اور کسی نہ کسی طرح عوام کی بھیڑ اکٹھا کرنا ہے ، تو پھر کھیل تماشہ کے ماہرین کا کوئی بھی گروہ سیاست کی بساط پر اتر سکتا ہے اور اپنے کرشموں سے ایک ازدحام جمع کر سکتا ہے ۔
مسلمانوں کے لئے موجودہ الیکشن میں بہت ہی نازک حالات لے کر آیا ہے ، فرقہ پرستی اور فاشنرم بامِ اقتدار پر چڑھ چکی ہے اور سر توڑ کوشش کررہی ہے کہ اپنے تختِ اقتدار کو مضبوط سے مضبوط تر کرلے ، بہت سی وہ جماعتیں جو سیکولرزم کا نقاب اب تک اوڑھے ہوئی ہیں اور جن کا سیکولرزم حکومت کے فرقہ پرستانہ ایجنڈے میں مزاحمت کی تحریک بھی پیدا نہیں کر پارہا ہے ، اقتدار کی حرص و ہوس نے ان کو اپنے نظریاتی دشمنوں کے ساتھ ایک کشتی کا سوار بنادیا ہے ، بلکہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کو اپنا نا خدا تسلیم کر چکے ہیں ، دوسری طرف وہ جماعتیں ہیں جو اپنے آپ کو جمہوریت کا نمائندہ قرار دیتی ہیں ؛ لیکن ان کا ماضی کچھ کم داغ دار نہیں ، ان کا حال یہ ہے کہ جماعتی سیاست ان کو ان نظریاتی مقاصد سے زیادہ عزیز ہے، جس کا وہ اپنی زبان اور اپنے منشور میں اظہار کرتے ہیں ، یہ امنگ اور حوصلہ سے عاری ہیں ، ان کی مثال ایسی فوج کی ہے جو نیم دلی کے ساتھ کسی فوج کے مقابلہ کے لئے لے جائی جاتی ہے ، نہ اس کے دوست متعین ہیں اور نہ دشمن ، یہ دو طرفہ آگ ہے ، جس کی حرارت انگیزی میں کم و بیش کا فرق تو ہو سکتا ہے ، لیکن کوئی اساسی اور بنیادی فرق ان کے طرزِ عمل میں نہیں ہے ؛ اسی لئے ایک صحافی نے اس صورتِ حال کو ’’ نرم ہندو توا ‘‘ بہ مقابلہ ’’ سخت ہندو توا ‘‘ کا نام دیا ہے ، انتخاب کی راہیں محدود ہیں اور کوئی تیسری ایسی قوت موجود نہیں، جس کے بارے میں توقع کی جا سکے کہ وہ ملک کے اقتدار کی باگ اپنے ہاتھ میں لے سکے گی ۔
آخر مسلمان ان حالات میں کیا کریں ؟ ایسا بھی نہیں ہو سکتا کہ ہم الیکشن سے اپنے آپ کو الگ کرلیں ، یہ بہت بڑی عاقبت نا اندیشی کی بات ہوگی اور جو تھوڑا بہت لوگ الیکشن کے وقت مسلمانوں کا آنسو پونچھنے اور کچھ جھوٹے سچے وعدے کر نے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی ختم ہوجائے گا ، اور پھر مسلمان اس ملک میں ایک ذلیل و مقہور گروہ رہ جائیں گے اور سنگھ پریواراوروی ، ایچ ،پی جس کے منصوبوں میں پہلے سے یہ بات داخل ہے کہ اقلیتوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا جائے ، یہ عملاً ان کے منصوبہ کو کامیاب کرنے کے مترادف ہو گا ، اس لئے الیکشن میں حصہ لینا ایک بہت بڑی ضرورت ہے ، اور ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ووٹ کا حق ضرور ہی استعمال کرے، اور یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم مسلمانوں کے ووٹ کو متحد کر نے کی کوشش کریں ، ہمارے بکھرے ہوئے ووٹ کی سیاست کے ترازو میں کوئی قیمت نہیں ہو گی ، ہمارے متحد ووٹ سے ہی ہم ملک کی سیاست میں اپنا وزن قائم کر سکتے ہیں ۔
اس وقت لوک سبھا کی ۵۴۵ سیٹیں ہیں ، جن میں سے ۲۰ سیٹیں پارلیمنٹ پُرکرتی ہے ، اگر مسلمانوں کی آبادی بیس کڑور مانی جائے تو ۵۴۵ میں سے ۱۱۹ سیٹیں مسلمانوں کی ہو نی چاہئیں جب کہ اب تک مسلمان ممبروں کی تعداد بہت ہی کم رہی ہے ، اور وہ بھی مسلمانوں کے نمائندے کم اور جس سیاسی جماعت کے واسطے سے منتخب ہوئے ہیں ، ان کے نمائندہ زیادہ رہے ہیں ، جنوبی ریاستیں آندھرا ، تلنگانہ، تمل ناڈ ، کرناٹک اور کیرالہ کی ۱۲۹ سیٹوں میں سے ۶۰ سیٹوں میں مسلمان ووٹرس کی تعداد ۲۰ فیصد سے زیادہ ہے ، ملک کے چودہ اضلاع میں مسلمان ووٹرس کا تناسب ۳۳ فیصد سے زیادہ ہے ، یوپی میں مسلمان ووٹرس کا تناسب ۹۳ ء ۱۵ فیصد اور بہار میں ۱۳ ء ۱۴ فیصد ہے ، بہار کے ضلع پورنیہ میں مسلم آبادی ۵۴ ء ۱۴ ، کٹیہار میں ۱۰ ء ۳۶ اور در بھنگہ شہر میں ۵۴ فیصد ہے ،کشن گنج میں اکثریت مسلم ووٹروں کی ہے، یوپی کے ضلع رام پور میں ۱۲ ء ۴۷ ، بجنور میں ۴۵ ء ۳۹، مراد آباد میں ۶۰ء ۳۸ ، سہارنپور میں ۵۶ ء ۳۱ ء مظفر نگر میں ۷۳ ء ۲۵ اور بہرائچ میں ۲۵ فیصد ہے ، لیکن افسوس کہ ان میں سے بہت سے مقامات و ہ ہیں ، جہاں مسلم ووٹ کے بکھرائو کی وجہ سے فرقہ پرست جماعتیں الیکشن جیت جاتی ہیں ، کم و بیش پارلیمنٹ کے ۷۴ حلقوں میں مسلم ووٹرس کا تناسب ۲۰ فیصد سے زیادہ ہے ، اگر ان پارٹیوں اور پارٹی کے امیدواروں کے ووٹ کا تناسب دیکھا جائے ،جو فتح یاب ہوتی رہی ہیں ، تو صاف اندازہ ہوگا کہ اگر مسلمان دانش مندی سے کام لیں او رمتحدہ طور پر کسی پارٹی کے حق میں ووٹنگ کریں ، تو وہ زیادہ تعداد میں مسلمان امیدواروں کو پارلیمنٹ میں پہنچا سکتے ہیں اور اگر بادشاہ کا نہیں ، تو کم از کم بادشاہ گر کا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب سے سوال کیا کہ علم کسے کہتے ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا : شر کے مقابلہ میں خیر کو جاننا ’’ معرفۃ الخیر من الشر‘‘ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ تو کوئی خاص بات نہیں ہوئی ، کیوں کہ ظاہر ہے کہ جب ایک طرف شر اور دوسری طرف خیر ہو تو خیر کا انتخاب کیا جائے گا اور شر کو چھوڑ دیا جائے گا ، پھر فرمایا کہ علم نام ہے دو شر میں سے ایسی چیز کے جاننے کا جو نسبتاً بہتر ہو ’’ معرفۃ خیر الشرین‘‘ یہ نہایت اہم قاعدہ ہے ، جو کتاب و سنت کے مختلف احکام سے ثابت ہے ، برائی کو روکنا واجب ہے ؛ لیکن حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاقت سے روکنے پرقادر نہ ہو تو زبان سے ٹوکنے پر اکتفا کرے اور زبان سے ٹوکنا بھی دشوار ہو تو دل سے برا سمجھنے پر اکتفا کرے ، اس کا مقصد یہی ہے کہ بعض دفعہ کسی برائی کو روکنے میں انتشار اور اختلاف کا اندیشہ رہتا ہے ، تو مسلمانوں کی اجتماعیت کو بر قرار رکھنے کے لئے ایسے موقع پر خاموشی اختیار کرلینا بہتر ہے ؛ چنانچہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ میرے بعد تم ایسے حکمرانوں کو دیکھو گے جو تم سے اپنے حقوق کو وصول کریں گے ، لیکن تمہارے حقوق ادا نہیں کریں گے ، ایسی صورت میں تم کیا کرو گے ؟ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم انھیں نوکِ شمشیر سے سیدھا کردیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ؛ بلکہ صبر سے کام لینا ؛ تاآنکہ وہ بھی اللہ کے دربار میں آجائیں اور تم بھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا منشاءیہی ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعیت کو بر قرار رکھنا حکمرانوں کی بے راہ روی سے زیادہ اہم ہے ، اس لئے اسے متاثر نہ ہونے دیا جائے ، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ صلوا خلف کل برّ و فاجر‘‘ ( اچھے اور برے امام کے پیچھے نماز ادا کرلو ) اس ارشاد کا منشاءبھی یہی ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے امام کو مقتدی کی نماز کا ضامن قرار دیا ہے ؛ اس لئے امام کو بہتر سے بہتر ہونا چاہئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر قرآن پڑھنے والے ،سنت سے سب سے زیادہ واقف و آگاہ اور سب سے زیادہ ورع و تقویٰ رکھنے والے کو امام ہونا چاہئے ؛ لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاجر کی اقتداء کو بھی جائز قرار دیا اور صحابہ رضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف جیسے لوگوں کی اقتداء میں بھی نماز ادا فرمائی ، اس کا منشاء بھی وہی ہے کہ امت کو انتشار اور بکھراؤ سے بچایا جائے ؛ کیوں کہ بعض دفعہ ایسے لوگ امامت پر فائز ہو جاتے ہیں ،جو کردار و عمل کے اعتبار سے مجروح ہوتے ہیں ؛لیکن اگر انھیں ہٹانے کی کوشش کی جائے تو فتنہ و انتشار کا اندیشہ رہتا ہے ، ایسی صورت میں امت کو انتشار سے بچانا زیادہ اہم ہے ۔
اسلامی قانون کے ماہرین نے اسی بنیاد پر چند قواعد مقرر کیے ہیں ، یہاں ان کا ذکر کرنا مناسب ہوگا :
۰ یتحمل الضرر الخاص لدفع الضرر العام ۔
عمومی نقصان کو دور کرنے کے لئے خصوصی اور شخصی نقصان کو گوارہ کیا جائے گا ۔
جیسے کوئی جاہل شخص ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کر لے تو اس سے اس کو روکا جائے گا ، اگر تاجر گراں فروشی شروع کردے تو اشیاء کا نرخ متعین کیا جا سکتا ہے ، تاکہ اس اجتماعی نقصان کو دور کیا جاسکے ۔
۰ إذا تعارض مفسدتان روعي أعظمہما ضرراً بارتکاب أخفہما ۔
جب دو برائیاں در پیش ہوں تو کمتر برائی کو گوارہ کر کے بڑی برائی کو روکا جائے گا ۔
اس اصول کو فقہاء نے مختلف الفاظ اور تعبیرات میں بیان کیا ہے ، مثلا یہ کہ ’’ دو شر میں سے کمتر کو اور دو ضرر میں سے ہلکے ضرر کو گوارہ کیا جائے گا ‘‘ یا یہ کہ ’’ جہاں دو نقصان در پیش ہو تو کمتر نقصان کو گوارہ کر کے بڑے نقصان سے بچا جائے گا ‘‘ ۔
۰ درأ المفاسد أولی من جلب المصالح ۔
مصلحت اور منفعت کو حاصل کر نے سے زیادہ اہم مفاسد کو دور کرنا ہے ۔
یعنی اگر ایک طرف کسی فائدہ کا حصول ہو ؛ لیکن اس میں دوسرا پہلو نقصان کا ہو ، تو نقصان کے دور کر نے کو ترجیح حاصل ہو گی ۔
غور کیجئے ! فقہاء کے اجتہادات ان ہی اصولوں پرمبنی ہیں ، اور ایک ایسے وقت میں جب کہ سیاست کے حمام میں تمام لوگ بے لباس ہیں اور مسلمان دو مقابل قوتوں کی ضرر رسانی اور تیشہ زنی کا تجربہ کر چکے ہیں ، ضروری ہے کہ وہ دانشمندی سے کام لیں اور زیادہ اور کمتر نقصان کا صحیح تجزیہ کر کے لائحۂ عمل بنائیں ، کہ ان حالات میں ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ فراستِ ایمانی سے کام لیتے ہوئے دو ناگزیر برائیوں میں سے کمتر برائی کو گوارہ کریں ۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker