مضامین ومقالاتنوائے بصیرت

سادھوی کو بی جے پی کی امیدواری پر حیرت کیوں!

شکیل رشید
بی جے پی سے سادھوی پرگیہ کی امیدواری پر حیرت کیسی!
یہ ہندو توا وادیوں کے اس ایجنڈے کی بس ایک ہلکی سی جھلک ہے جو وہ ’ہندوراشٹر‘ کے نام پر سارے ملک میں نافذ کرناچاہتے ہیں۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا دہشت گردانہ حملوں کی ملزمہ ہونا بی جے پی کےلیے اس وجہ سے باعث شرم نہیں کہ یہ پارٹی جس تنظیم کی چھتر چھایا میں ہے، یعنی آر ایس ایس، اس کے قائدین نے ہندو توا کے فروغ اور ملک کے جمہوری اور سیکولر کردار کو ختم کرکے اس کی جگہ ’ہندو راشٹر‘ کے قیام کےلیے ’تشدد‘ کا سہارا لینے کو جائز قرار دیا ہے۔ آر ایس ایس کے دوسرے سرسنگھ چالک ایم ایس گولوالکر کی تقریریوں کی کتاب ’اے بنچ آف تھاٹس‘ میں مقصد کے حصول کےلیے تشدد کو ایک جائز ہتھیار قرار دیاگیا ہے۔۔ساورکر نے تو ہندوتوا کو انتہا پسندی سے اس طرح جوڑ دیا ہے کہ دونو ںایک دوسرے کےلیے لازم وملزم ہوگئے ہیں۔۔ لہذا اگر مالیگائوں میں دھماکہ کرنے اور بےقصوروں کی جانیں لینے کی ملزمہ سادھوی بی جے پی کے ٹکٹ پر لوک سبھا کا الیکشن لڑرہی ہے تو اس پر کوئی حیرت نہیں ہے۔
بی جے پی نے تو اپنے قائدین ۔۔۔گروگولوالکر اور ساورکر۔۔۔کی روایت پر ہی عمل کیا ہے؛ بی جے پی کے قائدین بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی نے جو خود کو ’پردھان سیوک‘ کہلانا پسند کرتے ہیں، سادھوی کی امیدواری سے صاف صاف یہ پیغام دے دیا ہے کہ ’وکاس‘ اور ’سب کا ساتھ‘ کا نعرہ جائے بھاڑ میں، پاکستان اپنی جگہ بیٹھا رہے، بی جے پی تودہشت گردی کی ملزمہ سادھوی کو الیکشن میں اتار کر ہندوئوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کرے گی اور مدھیہ پردیش کے رائے دہندگان کو کئی خانوں میں تقسیم کرکے لوک سبھا کی کئی سیٹوںپر قبضہ کرلے گی تاکہ دہلی میں اس کا اقتدار برقرار رہے! اقتدار اس لیے کہ ملک کو ’ہندو راشٹر‘ میں تبدیل کیاجاسکے۔ بی جے پی وہ پارٹی ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اس کی حکومت سب سے بہتر رہی ہے اور اس نے سب کا ساتھ لیا ہے، بلند وبانگ دعویٰ والی پارٹی کو سادھوی کو امیدواری دینے سے پہلے خوب سوچنا اور سمجھناچاہئے تھا، اسے غور کرناچاہئے تھا کہ مالیگائوں بم بلاسٹ کی کلیدی ملزمہ کو ٹکٹ دے کر اس ملک کی سیاست میں ایک ایسی راہ کھولی جارہی ہے جس پر چل کو کوئی بھی دہشت گرد، کوئی بھی ڈاکو، کوئی بھی چور، کوئی بھی انتہا پسند، کوئی بھی قزاق، لوک سبھا میں پہنچ سکتا ہے، ممکن ہے کہ کل کو سمجھوتہ ایکسپریس ، مکہ مسجد اور اجمیر شریف دھماکوں کے ’اعترافی‘ مگر این آئی اے کے ذریعے ’کلین چٹ‘ پانے والے ملزم اسیمانند اور راجستھان میں افروز نامی ایک مسلمان کو قتل کرکے اس کی لاش جلانے والے انتہا پسند شنبھولال ریگر کو بھی لوک سبھا الیکشن لڑنے کا ٹکٹ دے دیاجائے۔اسے سوچناچاہئے تھا کہ وہ ’قانونی کارروائی‘ کو نظر انداز کررہی اور لاقانونیت کو پروان چڑھا رہی ہے۔ لیکن بی جے پی کو یہ سب سوچنے کی کیا ضرورت ہے! ملک کے اخبارات بھلے ہی بی جے پی کے اس اقدام پر لعن طعن کریں، بھلے ’ہندوستان ٹائمز‘ اپنے اداریے میں اسے ’مضر نظیر‘ قرار دے، بھلے ہی ’اکنامکس ٹائمز‘ اپنے اداریے میں بی جے پی سے مطالبہ کرے کہ ’بھوپال سے پرگیہ کو ہٹالو‘ ، بھلے ہی ’انڈین ایکسپریس‘ اپنے اداریے میں کہے کہ ’سادھوی کے الیکشن لڑنے پر روک لگائی جائے‘، بھلے ہی جمعیۃ علما مہاراشٹر سادھوی کے الیکشن لڑنے کے خلاف عدالت جانے کی تیاری کرے، بھلے ہی تحسین پونہ والا الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر کہیں کہ سادھوی کو الیکشن نہ لڑنے دیاجائے۔ اور بھلے ہی اس ملک کے سیکولر او رجمہوریت پسند عوام، دانشوران اور سیاست داں بی جے پی کے سادھوی کو امیدواری دینے کے فیصلے کی مذمت کریں، نہ بی جے پی سادھوی کو الیکشن لڑنے سے روکنے والی ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے کسی کارروائی کی اُمید ہے۔ اب یہ بھوپال کی عوام پر، جہاں سادھوی کو کانگریسی امیدوار دگ وجے سنگھ کے خلاف میدان میں اتارا گیا ہے منحصر ہے کہ وہ سادھوی کو جتائیں یا ہرائیں۔ یہ ان کا امتحان ہے۔
سادھوی کو امیدواری دیتے ہوئے، بی جے پی کے حامیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیاگیا ہے کہ چونکہ تمام الزامات سے سادھوی کو بری کردیاگیا ہے اس لیے اسے اُمیدوار بنانادرست ہے۔ پر یہ دعویٰ اتنا ہی جھوٹ ہے جتنا جھوٹ بی جے پی کے دوسرے دعوے ہیں۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر پر ۲۹ ستمبر ۲۰۰۸ کے مالیگائوں بم دھماکوں کا الزام ہے۔ بھکو چوک پر کھڑی ایک ہیرو ہونڈا موٹرسائیکل میں دو بم چھپائے گئے تھے ، جو دھماکے ہوئے ان میں ۹؍افراد جاں بحق ہوئے تھے، اسی روز گجرات کے موڈسا میں بھی ایک دھماکہ ہوا تھا، جس میں ایک شخص کی جان گئی تھی۔ موڈسادھماکے کا الزام بھی سادھوی پر ہی لگا تھا۔ اے ٹی ایس نے دھماکوں کی چھان بین شروع کی تھی اور اس وقت کے اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے نے جو بعد میں ۱۱؍۲۶ ممبئی حملے میں شہید ہوئے، دھماکوں میں ’ہندو تو وادیوں‘ کا ہاتھ تلاش لیا اور سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر پر انہو ںنے شکنجہ کس لیا۔ بم بلاسٹ میں اے بی وی پی، راشٹریہ جاگرن منچ اور ابھینو بھارت کے نام سامنے آئے۔ سادھوی بذات خود اے بی وی پی کی کارکن تھی۔ آر ایس ایس کا نام بھی سامنے آیا۔ حالانکہ ہیمنت کرکرے کی شہادت کے بعد ’ہندو توادی دہشت گردوں‘ کی ’تفتیش‘ پر روک لگ گئی ، وہ یوں کہ نہ مزید گرفتاریاں ہوئیں اور نہ ہی گرفتار شدگان کی زبانوں سے مزید ’انکشافات‘ ہوئے۔ شہادت سے قبل ہیمنت کرکرے نے یہ انکشاف کیا تھا کہ دھماکوں سے متعلق ایک بڑے ہندو تو وادی قائد کا کردار سامنے آیا ہے او ربہت جلد ہی اس کی گرفتاری عمل میں آئے گی۔ لیکن ان کی شہادت کے بعد نہ ہی تو یہ پتہ چل سکا کہ وہ کس کو گرفتار کرناچاہتے تھے اور نہ ہی اے ٹی ایس نے کسی بڑے ہندوتوادی قائد کے خلاف کوئی کارروائی ہی کی ۔ اس کے باوجود کہ کرکرے نہیں رہے، انہو ںنے ایسی چھان بین کی تھی کہ سادھوی پر کسا ہوا شکنجہ کمزور نہیں ہوپایا، او ربی جے پی کے اس دعوے کے برعکس کہ سادھوی کو تمام الزامات سے بری کردیاگیا ہے، سچ یہ ہے کہ سادھوی ضمانت پر باہرہے۔ اور ضمانت بھی ’خرابی صحت‘ کی بنیاد پر ملی ہے۔ بمبئے ہائی کورٹ کی جسٹس شالنی پھنسلکر جوشی اور جسٹس رنجیت مورے کی بینچ نے سادھوی پرگیہ سنگھ کو ضمانت دیتے ہوئے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ یہ ضمانت اس لیے دی جارہی ہے کہ ملزمہ چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہے او روہ بنا سہارے کے چل پھر تک نہیں سکتی ہے۔ لوگ حیرت کررہے ہیں کہ بھلا کینسر کی مریضہ کو الیکشن لڑنے کی طاقت کہاں سے ملی! مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے ۔ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر پر ’یو اے پی اے‘ یعنی Unlawful Activities Prevention Actکی مختلف دفعات کے تحت الزامات طے ہیں۔ ۲۰۰۷ میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے مقدمے کی شنوائی کرتے ہوئے یہ حکم دیا تھا کہ سادھوی اور کرنل پروہت پر ’یو اے پی اے‘ کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایاجائے۔ این آئی اے کی خصوصی عدالت نے صرف یہ کیا کہ ملزمین پر سے ’مکوکا‘ کا اطلاق ختم کردیا، لہذا اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ سادھوی کو مالیگائوں بم بلاسٹ ۲۰۰۸ کے مقدمے سے بری کردیا گیا ہے تو وہ یاتو غلطی پر ہے یا پھر دروغ گوئی کررہا ہے اور حقائق پر دانستہ پردہ ڈال رہا ہے۔ بی جے پی یہی کررہی ہے۔ یہ کہنا کہ سادھوی تمام الزامات سے بری ہے حقیقتاً تمام حقائق پر جھوٹ کا پردہ ڈالنا ہی ہے۔ ہیمنت کرکرے نے اپنی چھان بین میں سادھوی کے خلاف بے حد پخثہ ثبوت فراہم کیے تھے۔ مثلاً یہ کہ وہ ہیرو ہونڈا موٹرسائیکل جو دھماکوں کےلیے استعمال کی گئی تھی سادھوی کے نام پر ہی تھی، نیز یہ کہ مالیگائوں اور اسی جیسے دوسرے مسلم اکثریتی علاقوں میں بم دھماکوں کا سلسلہ شروع کرنے کےلیے ’ہندو تووادیوں‘ کی جو بھی میٹنگیں ہوتی تھیں ان سب میں سادھوی نے شرکت کی تھی۔ کرکرے کی چارج شیٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ سادھوی کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ بم دھماکوں کےلیے لوگوں کو تلاش کرے اور تیار کرے۔ کرکرے نے انتہائی تفصیل سے سادھوی ، کرنل پروہت اور دوسرے ’ہندوتوادیوں‘ کے منصوبوں پر روشنی ڈالی ہے، مثلاً یہ کہ یہ گروپ ملک کے آئین کو بدلنا او رملک کو ’ہندو راشٹر‘ میں تبدیل کرناچاہتا تھا اور اس کےلیے اس نے ’تشدد‘ اور ’انتہا پسندی‘ بلکہ ’دہشت گردی‘ کا راستہ اختیار کیا تھا۔ یہ تمام الزامات ہنوز برقرار ہیں۔ بالفاظ دیگر یہ کہ سادھوی ابھی بھی مالیگائوں بم بلاسٹ او رانتہا پسندی ودہشت گردی کے ذریعے ملک کو ’ہندو راشٹر‘ میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر عملدرآمد کی ملزمہ ہے۔ اسے ابھی بھی بری نہیں کیاگیا ہے!
چونکہ شہید ہیمنت کرکرے نے ’ہندوتوادیوں‘ کے اصلی چہرے کو اجاگر کرنے کی ہمت او رجرأت کی تھی اس لیے بقول ریٹائر پولس ڈآئی جی ایس ایم مشرف وہ راستے سے ہٹادئیے گئے، لیکن ان کی تفتیش چونکہ عدالت کے ریکارڈ پر آچکی تھی اس لیے وہ سارے ’ہندوتوادی‘ جن پر ’دہشت گردی‘ کے الزامات ہیں نہ بری ہوسکے ہیں او رنہ ہی بے قصور ثابت ہوسکے ہیں، اس لیے کرکرے ان کی نظروں میں ’قوم پرست‘ نہیں ٹھہرتے۔ اسی پس منظر میں سادھوی کی اس بدزبانی کو دیکھناچاہئے جس کے لئے اس نے معافی مانگ لی ہے۔ سادھوی کا یہ کہنا تھا کہ کرکرے کو اس نے ’سروناش‘ یعنی ’ستیہ ناس‘ کا شراپ دیا تھا اسی لیے ۱۱؍۲۶ کے حملے میں کرکرے کی موت ہوگئی۔ پاکستانی دہشت گردانہ حملے کو روکنے کی کوشش میں ہیمنت کرکرے شہید ہوئے تھے یعنی انہوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جان دی تھی لہذا وہ سارے ملک کے ’ہیرو‘ تھے بلکہ ’ہیرو‘ ہیں، لیکن یرقانی یا زعفرانی یا بھگوا ٹولے کی نظروں میں وہ ’ہیرو‘ نہیں ’غدار‘ ہیں۔ دہشت گردی کی ایک ملزمہ کو ملک کے ’ہیرو‘ کے خلاف ’بد زبانی‘ کرنے کی یہ جرأت کیوں او رکیسے ہوئی تھی، اس سوال کا جواب سامنے ہی ہے۔ بی جے پی نے امیدوار بناکر ایک ملزمہ کو یہ جرأت اور ہمت بخشی تھی لہذا وہ سادھوی کی بدزبانی کی پوری طرح سے ذمے دار تھی اور ہے بھلے ہی سادھوی نے اپنی بد زبانی کےلئے معافی مانگ لی ہو۔ بی جے پی نے سادھوی کے بیان سے خود کو علاحدہ کرکے گویا یہ کہ اپنا دامن بچانے کی کوشش کی پر یہ کیسی مضحکہ خیز بات تھی کہ جس نے بدزبانی کی اس کو امیدوار بنارکھا تھا! ابھی تو بہت کچھ سامنے آنا ہے؛ بی جے پی کامیاب ہوئی تونہ جانے کتنی سادھویاں، پروہت او رمہنت دندناتے ہوئے نکلیں گے او رملک کو ’ہندو راشٹر‘میں تبدیل کرنے کےلیے تانڈو شروع کردیں گے۔ الیکشن کمیشن سے کوئی اُمید نہیں ہے اس لیے سارے ملک کو اس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ سادھوی کی ہار ضروری ہے کیو ںکہ یہ ہار ملک کو ’ہندو راشٹر‘ میں تبدیل کرنے کی سعی کرنے والوں کی ہار ہوگی ۔ اور یہ ہار سارے ملک کی جیت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker