مسلم دنیا

ابوظہبی میں خطے کے سب سے بڑے مندرکا سنگ بنیادرکھ دیاگیا


ابوظہبی۔ ۲۲؍اپریل: متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں خطے کے سب سے بڑے مندرکا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی جس میںاماراتی وزرا اور حکام کے علاوہ ہندو ؤں کی مذہبی اور سماجی جماعت ’بی اے پی ایس‘ کے مذہبی پیشوا مہانت سوامی مہاراج نے شرکت کی۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں امارات میں انڈین سفیر اور ہندو برادری کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ ابوظبی میں بومریخہ علاقے میں ہائی وے کے قریب 55ہزار مربع میٹر رقبے پر خطے کا سب سے بڑا مندر تعمیر کیا جائے گا۔ مندر میں عبادت کے لیے مرکزی ہال کے علاوہ سروس سینٹر ، تعلیمی مرکز، لائبریری،گفٹ شا پ ، نرسری، پارک اور ریسٹورینٹ بھی بنایا جائے گا۔ امارات میں مقیم 20 لاکھ سے زائد ہندوؤں کے لیے یہ مندر بنیادی مرکز کی حیثیت رکھے گا۔ مندر کے دروازے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے کھلے رہیں گے جو کبھی بھی مندر کا دورہ کر سکیں گے۔ مندر کی تعمیر میں استعمال ہونے والے بنیادی مواد کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کی ٹیم پہلے سے ہی امارات میں موجود ہے۔ ہندو ؤں کی مذہبی اور سماجی جماعت ’بی اے پی ایس‘ کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ مندر کی تعمیر ان کی تنظیم کے زیر نگرانی کی جائے گی۔محکمہ سماجی فروغ کے سربراہ ڈاکٹر مغیر الخیلی نے سرکاری نیوز ایجنسی ’وام‘ کو بتایا کہ ولی عہد ابوظبی شیخ محمد بن زید ال نہیان کی سربراہی میں منعقد ہونے والی کابینہ میں محکمہ سماجی فروغ کے اختیارات واضح کیے گئے تھے جس کے دائرہ کار میں عبادتگاہیں ، کمیٹیاں ، کلب اور معاشرتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا قیام بھی شامل تھا۔محکمہ سماجی فروغ نے امارات کی روادارانہ پالیسی اجاگر کرنے کے لیے ملک میں مقیم ہندوکمیونٹی کے لیے مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی ہے اورعبات گاہ تعمیر کرنے کا سب سے پہلا لائسنس جس کا نمبر 001ہے بھی ہندو کمیونٹی کوہی دیا ہےجو امارات اور انڈیا کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل 1958میں دبئی کے حکمران شیخ راشد بن سعید آل مکتوم نے دبئی میں واقع ایک عمارت کے فلیٹ میں ہندو اور سکھ برادری کو عبادت گاہ قائم کرنے کی اجازت دی تھی۔2012 میں دبئی میں سکھ برادری نے تعداد میں اضافے کے پیش نظر اپنے لیے الگ عبادت گاہ تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ دبئی حکومت کی آمادگی پر ’گرونانک دربار‘ کے نام سے متعدد منزلہ عبادت گاہ تعمیر کی گئی تھی۔ بعدازاں ہندو برادری کو بھی دبئی میں مندر تعمیر کرنے کی اجازت مل گئی تھی۔اماراتی دستور ملک میں مقیم دیگر مذاہب کے ماننے والوںکو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ قانون کے مطابق کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی عبادت گاہ تعمیر کرنے کی درخواست کرسکتی ہے جس کا فیصلہ دبئی کے حکمران بذات خود کرتے ہیں۔ اجازت ملنے پر عبادت گاہ کے لیے زمین مفت فراہم کی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker