مضامین ومقالات

تراویح کی اہمیت

محب اللہ قاسمی

رمضان کا مبارک مہینہ جیسے ہی سایہ فگن ہوتا ہے ۔ ہم لوگ زیادہ سے زیادہ وقت عبادات میں صرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اس مہینے میں اللہ تعالی کا خاص کرم ہوتا ہے۔ نوافل اجروثواب میںفرائض کے برابرہوجاتے ہیں۔ اس لیے نوافل کی بھی کثرت ہوتی ہے۔ تراویح درحقیقت قیام لیل ہے۔ یعنی رات کو نماز میں کھڑے ہوکر قرآن پڑھنا اور سننا۔ اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ہم احادیث نبویﷺ کا مطالعہ کریں توجس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ کا رمضان کے روزے سے متعلق یہ ارشاد ہے:

” مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (متفق علیہ)
’’جس نے رمضان کا روزہ ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رکھا تواس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں‘‘۔

اسی طرح آپ نے اس مبارک مہینے کے قیام لیل کے سلسلے میں بھی یہ ارشاد فرمایا:
وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (متفق علیہ)
جس نے رمضان کے مہینے میں قیام لیل (رات کو کھڑے ہوئے کر نوافل ) کا اہتمام ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رکھا تواس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں‘‘۔

اس روایت سے صلوۃ تروایح کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے عہد میں صحابہ کرام ؓ مسجد میں انفرادی طور پر یا چھوٹے چھوٹے گروپس کی شکل میں تراویح کی نماز پڑھتے تھے۔ آپ ﷺ نے انھیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو ان سب کو یکجاکیا اور ان کی امامت فرمائی۔ صحابہ کرام کا نبی کریم ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا شوق بہت زیادہ بڑھنے لگا تو تیسرے دن آپ ؐان کی امامت نہیں فرمائی اور ارشاد فرمایا:
’’ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ نماز فرض نہ ہوجائے اس لیے آپ نے اس روزتراویح کی نماز نہیں پڑھائی ۔‘‘

اس کے بعد صحابہ کرامؓ بدستور انفرادی طور پریا چھوٹے چھوٹے گروپ میں ابوبکر ؓ کے پورے دور خلافت اور حضرت عمر کے عہد خلافت کی ابتدا میں نماز پڑھتے رہے۔ حضرت عمر ؓنے ایک موقعے پر مسجد میں لوگوں کو الگ الگ نماز پڑھتے دیکھا تو انھیں ایک امام پر جمع کیا اور اسی کی اقتدا میں نماز تراویح کا اہتمام شروع ہوگیا۔تک سے لے کر آج تک دنیا کے ہر گوشے میں جہاں مسجد ہے وہاں تراویح کا باجماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس میں مکمل قرآن سننے اور سنانے کا اہتمام ہوتا ہے۔

حدیث کے الفاظ کے پیش نظر ہم اس نماز کو اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اللہ تعالی ہی سے ثواب کی امید کے ساتھ نماز پڑھیں تو یقینا اللہ تعالی ماہ رمضان میں قرآن کریم کی سننے کی برکت سے ہمارے گزشتہ گناہوں کومعاف فرمائے گا۔

اس لیے تعداد رکعات میں الجھنے یا اس کے سنت، یا سنت مؤکدہ یا واجب ہونے نہ ہونے کے مسائل میں پڑنے کے بجائے اگر ہم نفل ہی سمجھ کر پڑھ رہے ہیں تو ضرور پڑھیں۔ یہ ہمارے اجر میں اضافہ کا سبب ہوگا۔ نبی کریمﷺ اس ماہ مبارک میں بہ کثرت نوافل کا اہتمام کرتے تھے۔ ہمیں بھی اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں رمضان کی رحمتوں اوربرکتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ آمین
(محب اللہ قاسمی)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker