اصلاح معاشرہمضامین ومقالات

لقمہ حرام کا اثر بد

ظفر قاسمی

جامعہ شیخ الہند ہاسن

حرام لقمہ ہرحال میں اپنا اثر دکھاتا ہے، لقمہ حرام کا ایک دانہ بھی اگر انسان کے معدہ میں چلا جائے تو نسلوں کی تباہی مقدر ہوجاتی ہے، قرآن و احادیث میں اس سلسلے میں جابجا وعیدیں آئی ہیں، ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے، آخرت میں ثواب و عذاب پر یقین رکھتا ہے اس کے لیے لازم ہے کہ وہ لقمہ حرام سے اپنے آپ کو بچائے، بلکہ ایمانی تقاضا ہے کہ مشتبہ چیزوں سے بھی اپنے آپ کو بہت دور رکھے. لقمہ حرام کا اثر اتنا دور رس اثر ہوتا ہے کہ انسان کے اندر سے اچھے اور برے اعمال کی تمیز ختم ہوجاتی ہے، نیک و بد کی پہچان باقی نہیں رہتی ہے اور اسے ہر شخص اپنی طرح نظر آنے لگتا ہے، معاشرہ اور سماج کے اچھے اور نیک لوگ بھی اسے اپنی طرح بد نظر آنے لگتے ہیں اور اس کے اثرات بد اس سے منتقل ہوکر اس کی نسلوں میں سرایت کرجاتے ہیں.

احادیث نبوی صل اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی آیت سے یہ بات ثابت ہےکہ جو انسان حرام کھائے گا اسے نیک اعمال کی توفیق نہیں ملے گی اگر مل بھی گئی تو اجر سے محروم ہوگا، گناہوں کی طرف دل مائل ہوگا اور بڑے سے بڑا گناہ کرے گا لیکن اسے اسکے گناہ ہونے کا احساس نہیں ہوگا اور جب احساس ہی مفقود ہوگا تو توبہ کیونکر کرے گا بندہ.

 

اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ علماء کرام اور اکابر کی تحقیر، تذلیل و تنقیص بہت بڑا گناہ ہے، (واضح رہے کہ تحقیر و تنقیص کسی کی بھی ہو حرام ہے)اسی طرح اتہام بازی بھی بہت بڑا گناہ ہے، خواہ متَّہَم شخص کافر ہی کیوں نہ ہو، پھر متَّہَم فرد دینی اعتبار سے جس درجے کا ہوگا تہمت کا گناہ اسی حساب سے ہوگا.

 

اور آپ (مخاطب کا نام محذوف ہے) تحقیر، تنقیص، تذلیل اور تہمت لگانے میں بہت بیباک واقع ہوئے ہیں اور مکمل جرآت کے ساتھ سارے اکابر پر غلط روش اختیار کرنے اور امت کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے انکی تحقیر و تذلیل کرتے نظر آتے ہیں، (حالانکہ یہ آسمان پر تھوکنے کی طرح ہے کہ “آسمان پر تھوکا ہوا منہ پر آتا ہے اور آپ” أنف فی الماء واست فی السماء” کے بھی مصداق ہیں)

اس لئے میں یہ بات کہتے ہوئے کسی قسم کی جھجھک محسوس نہیں کررہا ہوں کہ آپ کے لقمہ میں حرام مال کی ملاوٹ ہے، اور آپ درس قرآن و درسِ حدیث کیلئے مختلف شہروں میں تشریف لیجاتے ہیں، بہت ممکن ہے کہ درس قرآن اور درس حدیث کے نام پر حرام مال وصول کرتے ہوں گے تو وہ حرام لقمہ اسی راستے سے آتا ہوگا اور دین کے نام پر خوب بٹورتے ہوں گے،اگر یہ راستہ نہیں تو پھر کوئی دوسرا راستہ ہوگا جس کی نشاندہی آپ ہی کرسکتے ہیں.. لیکن آپ کے معدہ میں حرام لقمہ کا ہونا یقینی ہے،اسمیں کوئی دو رائے نہیں ہے، آپ کی عادات اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ آپ کا معدہ لقمہ حرام سے تر ہے جس کی وجہ سے آپ مستقل اکابر علماء و بزرگان دین پر تہمت لگاتے رہتے ہیں اور ان کی کردار کشی کرتے رہتے ہیں جوکہ ایک نیک عالم دین کے شایان شان نہیں ہے. ہم نے قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے اصولوں سے آپ کے لقمہ حرام کی نشاندہی کی ہے، میں اپنی جانب سے کچھ نہیں کہہ رہا ہوں اور نہ ہی میری بساط ہے کہ میں کسی پر حرام خور ہونے کا الزام لگا سکوں، لیکن آپ کی حرکتوں سے تنگ آکر قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ چند معروضات آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جرات کی ہے.

اللہ ہمیں اور آپ کو حرام مال کمانے، لقمہ حرام کھانے حتی کہ مشتبہ مال کو بھی اپنا رزق بنانے سے محفوظ رکھے آمین.

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker