آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں

 

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

 

حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃاللہ علیہ روزے کی اہمیت و فضیلت، دین میں اس کی قدر و منزلت اور اس کے فلسفہ پر جب تقریر فرماتے، تو کبھی کبھی اپنا یہ واقعہ بھی بیان کرتے تھے کہ ایک موقع پر لکھنئو ریڈیو اسٹیشن کے ارکان اور نمائندے نے رمضان المبارک اور روزے کی اہمیت پر ریڈیو اسٹیشن سے نشر کرنے کے لئے ان کی تقریر ریکارڈ کرایا اور اگلے دن سحری کے وقت اس کو نشر کیا ۔

ایک بڑی تعداد نے مولانا کی اس تقریر کو سنا ۔ سنے والوں میں پنجاب کا سکھ بھی تھا جو رمضان کا روزہ کئ سالوں سے رکھ رہا تھا ۔ اور روزہ رکھنے کی وجہ اور سبب یہ تھا کہ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے کے بعد جب شام کے وقت کھاتا تھا اور پانی و شربت کا پہلا قطرہ اور گھونٹ حلق میں جاتا تھا تو وہ خاص لذت محسوس کرتا تھا اس کو بڑا مزہ آتا تھا اور ایک طرح کی خوشی اور فرحت محوس کرتا تھا ۔

اس سکھ نے مولانا کی پوری تقریر سنی لیکن اس میں اس کا تذکرہ نہیں تھا کہ افطار کے کھانے اور پینے میں کیا لذت اور مزہ ہے اور اس وقت کھانے اور پینے میں کیسی خوشی اور فرحت محسوس ہوتی ہے ۔ تو انہوں نے حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کے نام ایک خط لکھا اور مولانا کی تقریر کو سراہا اور اس کی تعریف کی ۔ اور لکھا کہ مولانا صاحب روزے کی اہمیت پر آپ نے بڑی اچھی دلچسپ اور مفید و معلوماتی تقریر کی ۔ لیکن ایک ضروری اور خاص چیز کا تذکرہ رہ گیا آپ نے یہ بیان نہیں کیا کہ روزہ دار کو روزہ کھولتے وقت کھانے پینے میں کیا خاص لذت ملتی ہے اور کتنا مزہ آتا ہے ۔

اس واقعہ کو حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ اللہ نے متعدد بار اپنی تقریروں اور مجلسوں میں بیان کیا ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ افطار کے وقت کھانے اور پینے میں جو لذت و فرحت اور خاص خوشی اور مزہ آتا ہے دنیا کے کسی کھان پان اور ڈش میں وہ مزہ نہیں آتا اور نہ وہ لذت اور فرحت محسوس ہوتی ہے اس کو ہر وہ شخص محسوس کر سکتا ہے جو روزہ رکھ کر شام کو افطار کرتا ہے ۔

میں تو اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ مجھے اس زیادہ کسی اور خورد و نوش میں آج تک مزہ آیا ہی نہیں اور نہ آج تک کسی اور کھانے میں ایسی فرحت اور لذت محسوس کیا ۔

حدیث شریف میں بھی اس جانب خاص اشارہ کیا گیا ہے ۔ :

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

للصائم فرحتان فرحة عند افطار و فرحة حین یلقی ربه

 

( نسائ ،کتاب الصوم باب فضل الصیام)

 

یعنی اللہ تعالی نے روزہ دار کے لئے دو خوشیاں رکھی ہیں، ایک خوشی وہ جو افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے ،اور دوسری خوشی اس وقت حاصل ہوگی جب وہ قیامت کے روز اپنے پرور دگار سے جاکر ملاقات کرے گا ،اصل خوشی تو وہی ہے جو آخرت میں اللہ تعالی سے ملاقات کے وقت نصیب ہوگی ۔

مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی لکھتے ہیں :

لیکن اس آخرت کی تھوڑی سی جھلک اللہ تعالی نے اس دنیا میں بھی رکھ دی ہے، یہ وہ خوشی ہے جو افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے ۔ پھر یہ افطار دو قسم کے ہیں؛ ایک افطار وہ ہے جو روزانہ رمضان میں روزہ کھولتے وقت ہوتا ہے ، اس افطار کے وقت ہر روزہ دار کو خوشی حاصل ہوتی ہے ۔ سارے کھانے پینے میں وہ لطف اور اتنی خوشی حاصل نہیں ہوتی جو لطف اور خوشی رمضان المبارک میں افطار کے وقت ہوتی ہے، ہر شخص اس کا تجربہ کرتا ہے ،علماء کرام روزانہ کے اس افطار کو ۰۰افطار اصغر۰۰ کا نام دیتے ہیں اور دوسرا افطار وہ ہے جو رمضان المبارک کے ختم پر ہوتا ہے ،جس کے بعد عید الفطر کی خوشی ہوتی ہے ،اس کو ۰۰افطار اکبر ۰۰ کہا جاتا ہے اس لئے سارے مہینے اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں روزے رکھنے اور اس کی بندگی اور عبادت کرنے کے بعد اللہ تعالی عید کے دن خوشی اور مسرت عطار فرماتے ہیں، ایک خوشی آخرت میں اللہ تعالی سے ملاقات کے وقت حاصل ہونے والی خوشی کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے ،جو اللہ تعالٰی نے عید کی شکل میں بندوں کو عطا فرمائی ہے ۔

(اصلاحی خطبات جلد ۱۲/ صفحہ ۶۳)

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہم تمام روزے داروں کو یہ دونوں خوشیاں نصیب کرے اور اخرت میں ہم سب کو دیدار الہی بھی نصیب ہو ۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker