ہندوستان

رمضان المبارک کی خوشیوں میں روہنگیائی مسلمانوں کو شریک کریں مخیر حضرات : غیور احمد قاسمی

نئی دہلی:11/مئی (بی این ایس)

دہلی، میوات، متھرا میں جمعیۃ علماء ہند کا روہنگیائی مہاجرین میں کپڑے راشن دوائیاں تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری

دہلی واطراف دہلی کیمپوں میں مقیم روہنگیا مسلمان شدید گرمی سے دوچار ہیں پینے کا پانی، کولر اور پنکھوں کی سخت ضرورت ہے موجودہ وقت میں روہنگیا مسلمانوں کی مدد اہل ثروت لوگوں کی اہم ذمہ داری ہے واضح ہو کہ جمعیۃ علما ہند رمضان سے قبل ہی ان لوگوں کی خبر گیری میںلگی ہوئی ہے اور گرمیوں کے کپڑے تقریباً ایک ہزار عدد، راشن کٹ تقریباً دوسو افراد دوائیاں 185 لوگوں میں تقسیم کی گئی نوح نگلی کے لوگوں میں جدیدکپڑے او رپینے کا پانی ماہ رمضان کے لئے مہیا کرایاگیا۔ مولانا غیور احمد قاسمی نے مختلف جگہوں کا دورہ کرنے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال عورتوں اور بچوں کو دوائیاں کی سخت ضرورت ہے ان لوگوں فی الحال دوائیاں بچوں اور عورتوں کے ئے افطار کے لئے فروٹ اور مشروبات وغیرہ ضرورت ہے قرب وجوار کے لوگ مجبور ولاچار قوم کے ساتھ بھی اجتماعی افطار کریں اور رمضان کی خوشیوں روہنگیائی مسلمانوں کو شریک کریں۔ دنیا میں جب اسلام کا سورج طلوع ہوا اور نبی آخرالزماں، محسنِ انسانیت، رحمت العالمین، حضرت محمد مصطفیٰؐ مسندِ رسالت پر جلوہ افروز ہوئے، تو آپؐ نے اللہ کے احکامات کی روشنی میں غریب، محتاج اور مسکین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کے بارے میں لوگوں کو سخت ترین عذاب کی وعید سنائی اور انہیں پابند کیا کہ وہ اپنے مال کا ایک حصّہ ان بیکس لوگوں پر خرچ کریں، تاکہ وہ جنّت میں بہترین انعام پاسکیں۔ اللہ تعالیٰ، سورۃ الذٰرّیت میں فرماتا ہے’’ وہی متّقی لوگ بہشت کے باغوں اور چشموں کے کناروں پر عیش سے رہیں گے، جو اپنے مال کا ایک حصّہ دنیا میں غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرتے ہیں۔‘‘سورۃ المعارج میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’جن کے مال میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں دونوں کا حصّہ مقرر ہے، یہی لوگ جنّت میں عزت و اکرام سے ہوں گے۔‘‘ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ تم ان غریب غربا کو دے کر کوئی احسان نہیں کرو گے، بلکہ اللہ نے تمہارے مال میں ان کا حصّہ مقرر فرما دیا ہے۔
چناں چہ اگر ان کا حصّہ پہنچاؤ گے، تو انعام کے مستحق ہوگے۔ صحابہ اکرامؐ نے حضور نبی کریمؐ سے استفسار کیا کہ ’’یا رسول اللہ ؐ! ہم اپنے مال کو کہاں خرچ کریں؟‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے احکامات نازل فرمائے۔’’آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کہاں خرچ کریں؟ آپ فرما دیجیے کہ تم جو مال خرچ کرو، وہ والدین، رشتے داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو نیکی تم کروگے، اللہ تعالیٰ اس سے بہ خوبی واقف ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ)بلاشبہ، جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اللہ ان کے مال میں برکت فرماتے ہوئے اسے کئی گنا بڑھا دیتا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو جس قدر چاہے بڑھا چڑھا کر دولت عطا فرمائے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایسے سخی اور متّقی لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے۔’’جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال اس دانے جیسی ہے، جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے، بڑھا چڑھا کر دے۔ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے،اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں ،یتیموں،محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔تقسیم کرنے والوں میں مولانا اسلام الدین قاسمی، مولانا خلیل احمد قاسمی، قاری سعید میرٹھی، ضیاء اللہ قاسمی، قاری سمیع الدین، محمد عثمان ، عمر حمزہ، محمد ہارون وغیرہ۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker