رمضان وعیدینمضامین ومقالات

رمضان المبارک : فضائل و مقاصد اور معمولات

صدیق احمد بن مفتی شفیق الرحمٰن قاسمی

جوگواڑ نوساری گجرات

رمضان المبارک کا مہینہ بے پناہ رحمتوں اور برکتوں کا حامل ہے، رحمت و مغفرت اور جہنم سے نجات کا پروانہ لے کر آیا ہے ،رمضان صبر و غم خواری کا مہینہ ہے، اس ماہ میں مؤمن کارزق بڑھا دیا جاتا ہے، رمضان اللہ سے بچھڑے ہوئے بندوں کو قریب کرنے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لئے آتا ہے، یہ مہینہ خوداحتسابی اور ٹریننگ کا ہے، رمضان تقوی شفاعت اور قرب الٰہی کو اپنے اندر سموئے ہوا ہے ،الغرض یہ مہینہ 11ماہ غفلت میں گزارنے والوں کو متنبّہ کرنے اور ترقّی کی راہ پر گامزن افراد کو مزید فلاح و کامرانی کا عطیّہ دینے کے لئے آتا ہے ،اس ماہ کے فضائل بے شمار ہیں، اس ماہ میں ایک خاص اور اہم عبادت بھی مشروع ہے، جسے روزہ کے نام سے جانا جاتا ہے ،اوّلاً اس ماہ کے فضائل کو جان لیجئے، اس کے بعد روزہ کے فضائل و مقاصد اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کے مہینے کو کس طرح گزارا جائے ان تمام پہلو کو اجاگر کیا جائے گا،

 

رمضان المبارک کے فضائل :

پہلا عشرہ رحمت، دوسراعشرہ مغفرت، تیسرا عشرہ دوزخ سے چھٹکارہ کا ہے،

جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں،

آسمانی تمام کتابیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی ماہ مبارک میں نازل فرمائی،

اس ماہ میں نفل کا اجر فرض کے برابر اور فرض کا ستّر فرضوں کے بقدرعطاکیا جاتا ہے،

اللہ تبارک و تعالیٰ اس ماہ میں بے حساب آدمیوں کو دوزخ سے خلاصی نصیب فرماتا ہے،

ہر شب ایک منادی پکارتا ہے، أے خیر کے چاہنے والے! آگے بڑھ، اور أے شرکا ارادہ کرنے والے پیچھے ہٹ،

ہررات ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ، ہے کوئی مانگنے والا ،ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کو میں بخش دوں،

ہر شب روزہ میں مسلمان کی ایک دعاء قبول ہوتی ہے،

بندوں کےایک دوسرے سے اعمال میں بڑھنے کو دیکھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں کے درمیان فخر کرتے ہیں، اور خوش ہوتے ہیں،

اس ماہ میں ایک رات ہے جو ہزاروں مہینوں سے افضل ہے جسے شب قدر کے نام سے جانا جاتا ہے،

اس ماہ کی قدر کرکے اپنی مغفرت نہ کرانے والوں کو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بددعاءدی، اورحضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نےاس بددعاء پرآمین کہا،اس سےبھی اس مہینےکی فضیلت کااندازہ لگایا جاسکتاہے،

 

روزہ کے فضائل:

بنی آدم کو ہر نیکی کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک عطا کیا جاتا ہے، جتنا ﷲ چاہے۔ﷲتعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزہ کے، کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاءدوں گا۔‘‘

’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘

روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے،جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘

جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازہ نام ریّان ہے، جو صرف روزہ داروں کے لیے کھول دیا جاتاہے،

روزہ دارکو خاص خوشی حاصل ہوتی ہے،

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جسمیں ریاء نہیں ہے ،

 

روزہ کے مقاصد:

روزہ کے تین اہم مقاصد ہیں: (۱) تقویٰ (۲) خدا کی تکبیر و تعظیم کا جذبہ پیدا کرنا (۳) خدا کا شکر ادا کرنا۔

روزہ تزکیئہ نفس کا بہترین ذریعہ ہے،

تقویٰ کی قوّت حاصل کرنے میں روزہ کوبڑا دخل ہے،کیونکہ روزہ اپنی خواہشات کو قابومیں رکھنےکاملکہ پیدا ہوتاہے،وہی تقوی کی بنیاد ہے،

استحضار کی کیفیت پیدا ہوتی ہے،

نفس کی سر کشی ختم ہوتی ہے،

روزہ کے ذریعے بندہ اپنے اندر ملائکہ کی صفت پیدا کر لیتا ہے،

روزے میں نفس کشی، مشقّت اور جسم کو صبر و برداشت کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔

جائزمأکولات ومشروبات سے روک کر تربیت کی جاتی ہے حرام اور مشتبہ چیزوں سے رکنے کی،

اس سےاللہ کی اطاعت وفرماں برداری کرنے کا سبق پڑھایا جاتاہے،

روزہ جس طرح اخروی فائدے کو لیے ہواہے اسی طرح اسکےطبی فائدے بھی بے شمار ہیں،

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کےرمضان المبارک کے معمولات:

۱)کثرت تلاوت

۲)کثرت صلاة

۳)کثرت صدقات وخیرات

۴)کثرت استغفار

۵)اعتکاف

علماء ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سب سے بہتر یہ ھیکہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ حرم شریف میں گزارے، تاکہ صحیح طور پر اس ماہ کے فضائل کو حاصل کرسکے، ورنہ اہل اللہ کی خانقاہ میں جا کر رمضان المبارک کامہینہ گزارے تاکہ انکے متعین کردہ اصول اور مرتب کردہ نظام پر چل کر رمضان المبارک کی قدر کرنا آسان ہوجائے،اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو اپنے گاؤں کی مسجد میں گزارے،یا زیادہ سے زیادہ وقت مسجد میں عبادت میں لگے رہے،

علماء یہ بھی فرماتے ہیں کہ جسطرح رمضان المبارک کے مہینے کو گزاروگے اسی طرح پورا سال گزرے گا، اسی وجہ سے یہ مقولہ مشہور ہے کہ تم اپنی زندگی کو رمضان جیسی بنالو ،تمھاری موت عید جیسی آئے گی،

خلاصئہ کلام یہ ھیکہ جب ہم اس ماہ مبارک کی قدر کرکے حضور اقدس صلی اللہ علیہ کی تعلیمات کے مطابق گزاریں گے تو ان شاءاللہ ہم ضرور بالضرور اس ماہ کے تمام فضائل وبرکات کو حاصل کرکےعند اللہ مأجور ہونگے ،اوراسکے تمام فائدے کو حاصل کر کے اسکے مقاصد میں کامیاب ہونگے،اوراسکی برکت سے پوراسال اطاعت خداوندی کےساتھ گزارکررضاء الٰہی کو حاصل کر لیں گے،اور خاتمہ بالخیر کی دولت سے بہرہ ور ہونگے ،

اخیر میں میں دست بدعاء ہوں کہ اللہ تعالی ہم سب کو رمضان المبارک کی قدر کرنےکی توفیق عطافرمائے(آمین)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker