مضامین ومقالات

تعلیم نسواں کی اہمیت

آج کے ترقی یافتہ دور میں آزادی نسواں اور تعلیم نسواں کے عنوان پہ بڑے زور شور سے اس کی اہمیت وافادیت اور نافع ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے حالانکہ اصل ضرورت تو تعلیم پر کافی حد تک غوروخوض کرنے کی ہے اسکول و کالجز کےمخلوط تعلیم کے مضر اثرات کی جو صورتحال ہے وہ آپ کے سامنے ہے شریف النفس، خوددار افراد اپنی لڑکیوں کو اسکول بھیجنا نہیں چاہتے ہیں جسکا بدل لڑکیوں کے لئےبنات کے مدارس ہیں اس وقت ہندوستان میں بے شمار ایسے مدرستہ البنات ہیں جو اپنے مقصد میں کامیاب نظر آرہے ہیں جس علاقے میں لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کے لئے مدرستہ البنات نہ ہو تولوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہم اپنی بچیوں کو مکاتب کی تعلیم مکمل ہوجانے کے بعد کہاں پڑھائیں ایسا کویء ادارہ تو ہو جس میں اعلیٰ اور معیاری دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم سے بھی آراستہ کی جائے اس سوال کا حل اسی میں ہے کہ ہر ایک علاقے میں ایسے مدارس قائم کیے جاءیں اللہ کا شکر ہے کہ مدھوبنی میں دو تین ایسے مدارس ہیں جو سرگرم عمل ہیں اسی سلسلہ کی ایک کڑی جامعہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہے اس کا قیام ایک سال قبل بےسروسامانی کی حالت میں عمل میں آیا یہ معتبر اشخاص کے ہاتھوں میں ہے ناظم حضرت مولانا ساجد ندوی ،مہتمم حافظ قمر عالم، نائب ناظم شمس الدین التمش ایک سال کی قلیل مدت میں ١٠٠ طالبات زیر تعلیم ہیں اور چار ماہر اساتذہ کی خدمات حاصل ہیں درجہ دینیات سوم تک کی تعلیم مگر عزائم عالمیت کے ساتھ میٹرک کی عصری تعلیم علاوہ ازیں کمپیوٹر ،دستکاری کی مفت تعلیم ،فی الحال بیرونی طالبات کا نظم و نسق نہیں ہے ان شاء اللہ آپ حضرات کی تھوڑی توجہ سے اسکا بھی انتظام و انصرام ہوجائے گا قابل غور ہے کہ جامعہ جس گاؤں میں واقع ہے اس کے اطراف و اکناف میں علمی، دینی پسماندگی بہت زیادہ ہے تعلیم نسواں انحطاط و تخلف کا شکار ہے جامعہ کو تعلیمی اور تعمیری کاموں کے لیے زرکثیر درکار ہے انتظامی ڈھانچہ کو زیادہ منظم کرنا ہے آپ کی تھوڑی توجہ سے اسکو ترقی کا زینہ ہاتھ لگ جائے تو چڑھے گا اور چڑھتا چلا جائے گا اسکے قیام سے بچیوں میں دینی تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے اسلیئے ضرورت ہے اس مدرسہ کو مزید ترقی دینے کی۔
یہ معزز حضرات اخلاص اور لگن سے مدرسہ کو ترقی کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ تعالی ان کی کوششوں کو کامیابی و کامرانی سے ہم کنار کرے۔
یہ نوخیز جامعہ اس کا مستحق ہے کہ اہل خیر حضرات اس ادارہ کا دامے، درمے، قدمی ،سخنے تعاون فرما کر ثواب دارین کے مستحق ہوں۔

اسکے ذمہ داران کی بے پناہ محنتیں ؛کاوشیں اپنے علاقے میں ایک نئ روشنی بکھیر رہی ہیں اور وہ سب نئے رنگ وآہنگ کے ساتھ بے مثال کردار ادا کررہے ہیں اس ادارہ کے متعلق خبریں میری نگاہوں سے گزرتی رہتی ہیں ان کی تمام تر سرگرمیاں اس بات کی گواہ ہے کہ ان حضرات کے اندر ملت کا وہ درد و کسک ہے جو ذمہ داران مدارس کے قلب و جگر کے گوشے میں ہونا چاہیے مسلسل ان کی سرگرمیوں کو پرکھتا رہا مگر یہ ناکامی ،کاہلی ، ناامیدی اور مایوسی سے پرے معلوم ہوئے۔
یہ حضرات بچیوں کی تعلیم و تربیت پر اچھی توجہ دے رہے ہیں ایک ایسے ضلع میں جہاں ایکا دکا ایسا مدرسہ ہے جس میں بچیوں کی بہتری کے لیے شاذ ونادر کوئی مرد مومن اٹھتا ہے کیونکہ اس میں بڑے اخلاق و للہیت کی ضرورت پڑتی ہے اسکے بغیر ایک ذمہ دار “ڈوبتے کو تنکے کا سہارا”ثابت نہیں ہوسکتے۔
میری بس یہی دعا ہے
اے جامعہ! تیری خوشبو سے پورا ضلع ‏مہک اٹھے تیرا عکسِ جمیل تجھے شہرت دوام عطا کرے
اے جامعہ! تیری علم و آگہی کی کوکھ سے فاطمہ و حفصہ رضی اللہ عنہما نکلے جرأت و بیباکی کی مثال شیر دل رضیہ سلطانہ نکلے، حضرت خدیجۃ نکلے ، حضرت زینب نکلے، زیب النساء بیگم نکلے،رابعہ بصری نکلے، ملکہ نور جہاں نکلے ،رابعہ خضداری نکلے، ملکہ زبیدہ نکلے ، حبہ خاتون نکلے ، فاطمہ جناح نکلے۔ تیرے صحن سے صحابیات کے علم و عمل کا مزاج بنے ،جب تو تعلیم کا پرچم لے کر اٹھے کوہساروں کی بلندیاں ہم رکاب رہے ،جب تیری بیٹیاں اسٹیج پر آئے تو جذبوں , امنگوں اور عزموں کو حرارت بخشے ،ان کے عزم کی جوانی کے سامنے ناکامی و ناامیدی بھی راہ بھول جائے ،تیری بیٹیاں میدان استقامت کی ایسے کوہ گراں بنے کہ کٹھن گھاٹیوں کی فلک بوس پہاڑیں ان کی بے مثال جرأت و بہادری کی کھلی کھلی شہادت دے، تو صرف اپنے تابناک روایات کو تابندہ رکھ عزت ، شہرت اور کامیابی تیری جھولی میں آ گرے گی ، تو صرف چمستان مدھوبنی بہار سے گلہاءے رنگارنگ کو علم و فضل کی سرخیوں میں پیش کر تو آبروئے علم و آگہی کا تابندہ ستارہ بن کر ابھرے گی، تو اپنی محنتیں کاوشیں جاری رکھ تیرے انداز تعلیم کو ایسی اہمیت ملے گی جو باغات میں متعدد پھولوں میں گلاب کو حاصل ہوتی ہے ،تو تعلیمی میدان میں نمایاں رول ادا کر تعلیم نسواں کے لیے تو ضرب المثل بنے گی ۔
میری رب سے دعا ہے کہ تو تعلیم کی راہ میں سدابہار پھولوں کی مانند مہکتا رہے تو حضرت خدیجہ، ام سلمہ عائشہ اور فاطمہ رضی اللہ عنھن کی تعلیمات پر کھری اترے گی۔۔

شارق سلطان
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker