ہندوستان

مالدار اپنی زکوٰۃ مستحق اداروں اور مدارس تک پہنچ کر دیں

بانی و محرک منبر و محراب فاؤنڈیشن کی اپیل
حیدرآباد:12/مئی(بی این ایس)
دینی مدارس اور ادارے جو علم دین کی نشر و اشاعت ، دین اسلام کے تحفظ اور ملت کے پسماندہ طبقات کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں اور جو سال بھر اپنی خدمات میں منہمک رہتے ہیں، ان کی محنتوں اور قربانیوں کا تقاضہ یہ ہے کہ ان دینی مدارس اور اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور مالدار جہاں اپنا مال خرچ کرتے ہیں وہیں اپنا وقت بھی صرف کریں اور خود بنفس نفیس دینی مدارس پہنچیں یا اداروں تک پہنچیں اور ان کی دینی، علمی اور ملی کاوشوں کو سراہیں اور ان تک اپنی زکوٰۃ کی رقم پہنچائیں۔ ان خیالات کا اظہارمنبر و محراب فاؤنڈیشن کے بانی و محرک مولانا غیاث احمد رشادی نے اپنے صحافتی بیان میں کہا۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے شہر میں چھوٹے بڑے مدارس ہیں جہاں سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ وسیع پیمانہ پر ان طلبہ کے قیام و طعام کا نظم اور ان کی تعلیم و تربیت کا نظم نیز بیسوں اساتذہ کرام کی تنخواہوں کا بروقت انتظام ان مدارس کے ذمہ دار علماء کیلئے بڑی بھاری ذمہ داری ہوتی ہے۔ اکثر مدارس اور دینی ادارے بھاری قرض کے بوجھ تلے لدے ہوئے ہیں۔ ایسی ناگفتہ بہ صورتحال میں مالداروں کو چاہئے کہ اپنی دولت کی صد فیصد زکوٰۃ نکالیں اور اس انتظار میں نہ رہیں کہ مدارس کے سفراء آئیں گے تو انہیں زکوٰۃ دیں تے۔ مالداروں کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ چونکہ زکوٰۃ ان پر اسی طرح فرض ہے جیسے نماز، روزہ اور حج جب نماز کی ادائیگی کیلئے مسجد جانا لازم سمجھتے ہیں اور لازم ہے بھی تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ زکوٰۃ کی رقم بھی ان مدارس اور دینی اداروں تک پہنچ کر ادا کی جائے۔ نیز حقیقی مدارس کے سفراء کی عزتِ نفس کا بھی لحاظ رکھیں۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker