ہندوستان

کون جیتے گا مدھوبنی؟ اس کو لے کر تذبذب برقرار

صادق آرزو کا دعوی ڈاکٹر شکیل احمد سیٹ کے ساتھ عوام کا دل بھی جیتیں گے

جالے: 14/ مئی ( پریس ریلیز )

2019 کے پارلیمانی انتخاب کے لئے مدھوبنی سیٹ پر ہوئی ووٹنگ کے کئی دن گزرنے کے بعد بھی عوامی سطح پر نتائج کو لے کر بحث وتبصرے کا دور جاری ہے اور آنکڑوں کی بنیاد پر اپنی اپنی جیت کے دعوے کرنے کا جو سلسلہ ووٹنگ کے فوراً بعد شروع ہواتھا وہ کسی بھی طرح تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے بلکہ حالات کے اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ جیسے جیسے 23 مئی کی تاریخ قریب آئے گی بحث وتبصرہ اور اٹکلوں کا دائرہ مزید وسیع ہو جائے گا حالانکہ سیاسی تجزیہ کاروں کی پیش کردہ تفصیلات کی روشنی میں اتنی بات تو سب ہی مانتے ہیں کہ مدھوبنی پارلیمانی سیٹ پر سہ رخی جنگ بے حد دلچسپ ہے مگر اس کا بازی گر کون ہوگا اس کو لے کر ہر طرف سے اپنے اپنے انداز میں دعوے کئے جارہے ہیں لیکن اس بیچ عوام میں سے اکثریت کی نگاہ اپنے سیاسی کیرئر کو داو پر لگا کر آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں اترنے والے کانگریس کے سینئر لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد پر ٹکی ہوئی ہے اور زیادہ تر لوگ یہ مانتے ہیں کہ مدھوبنی کا مستقبل ڈاکٹر شکیل احمد جیسے تجربہ کار سیاست دان کے ہاتھ میں ہی محفوظ رہ سکتا ہے حالاں کہ ان میں سے کچھ لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر انہیں اس مرتبہ کامیابی نہیں ملی تو ان کا سیاسی سفر ہمیشہ کے لئے تھم جائے گا جیسا کہ خود ڈاکٹر شکیل احمد نے اپنے بے باک بیان کے ذریعہ اس حقیقت کی ترجمانی کی ہے تاہم عوام کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو ان کے اس اقدام کو قومی مفادات کے لئے دی گئی بڑی قربانی کا نام دے کر اب بھی امید لگائے بیٹھا ہے کہ ڈاکٹر شکیل احمد بڑے فرق سے کامیاب ہوں گے اور اگر کسی وجہ سے حالات کے اشارے ان کے خلاف ریے تو وہ کوئی ایسا بڑا قدم اٹھائیں گے جس سے سیاست میں ایک بڑے انقلاب کی آہٹ سنائی دے گی،سینئر کانگریسی لیڈر اور جالے میں ڈاکٹر شکیل احمد کے انتخابی امور کے انچارج محمد صادق آرزو نے بھی ایک بار پھر ڈاکٹر شکیل احمد کی بڑی جیت کا دعوی کیا ہے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی اکثریت اور غیر مسلم برادران وطن کی خاص جماعت نے انہیں ووٹ کیا ہے اس سے اچھے نتائج کی امید ہے بلکہ میرا اندازہ ہے کہ ڈاکٹر شکیل احمد اس علاقے کے مستقبل کی شکل میں ابھر کر آئیں گے،محمد صادق آرزو نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہار جیت تو انتخابی نتائج کا حصہ مگر میں یقین کرتا ہوں کہ مسلمانوں کی محنت اور ڈاکٹر شکیل احمد کی اس علاقے کے وقار کی حفاظت کے لئے دی گئی قربانی رائگاں نہیں جائے گی،صادق آرزو نے ڈاکٹر شکیل احمد کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ کہنا ان کی خود اعتمادی کو واضح کرتا ہے کہ “اگر میں گٹھبندھن کے امیدوار سے کم ووٹ لایا تو ہمیشہ کے لئے انتخابی میدان چھوڑ دونگا” صادق آرزو نے کہا کہ اتنی بڑی بات وہی کہ سکتا ہے جن کو اپنے علاقے کی عوام پر بھروسہ اور اپنی کامیابی کا یقین ہو،انہوں نے کہا کہ مدھوبنی سیٹ کا سیاسی منظر تاریخ کے ہر دور میں کچھ اس طرح الجھا سا رہا ہے کہ اس نے آج تک اس علاقہ کی قابل رشک ترقی کا خواب پورا نہ ہوسکا تاہم میں سمجھتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر شکیل احمد یہاں سے جیتے تو مدھوبنی میں ترقی اور خوشحالی کی نئی بہار آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے ذاتی مفادات کے لئے کبھی بھی علاقے کے وقار یا اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے سیاسی سفر میں وہ اس مقام تک پہونچنے میں کامیاب ہوئے جس تک پہونچنے کی تمنا ہر کوئی کرتا ہے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker