مضامین ومقالات

چندے کے لیے خلافِ شریعت علاقائی تصدیقات(دوسری قسط)

 

مفتی محمد اشرف قاسمی گونڈوی
(مہدپور ضلع اجین، ایم پی)
ashrafgondwi@gmail.com

چندے کے لیے تصدیقات

ضرورت مند مدارس مسلمانوں سے امداد کے لیے اپنے سفرا (محصلین) کے لیے مختلف ذمہ دار علما اور اداروں سے تصدیق نامے حاصل کرتے ہیں۔ ان تصدیق ناموں کو دیکھ کر زکوۃ وغیرہ رقوم اور امداد کی ادائیگی کے لیے معاونین کو شرعی طور پر مزید کسی تحری اور غور وفکر کی ضرورت نہیں رہتی ہے، بلکہ ان تصدیق ناموں کو دیکھ کر ادا کی گئی زکوۃ سے معطی حضرات اپنے فرض سے سبک دوش اور ان شاء اللہ عند اللہ ماجور ہوجاتے ہیں۔ تصدیق نامے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ: کسی کاغذ یا (Letterhead) پر ’’ تصدیق نامہ‘‘ لکھ کر نیچے مدرسے کا نام اور استحقاق اور پھر تصدیق جاری کرنے والوں کے اسما درج کردیے جائیں؛ بلکہ تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ جس کے بارے میں صحیح مصرف یا مستحق ہونے کے لیے اس عنوان سے تحریر لکھی جائے اس کے بارے میں تصدیق کنندہ خود اچھی طرح واقف ہو یا اپنے طور پر شرعی شہادت سے تحقیق کی ہو؛ اگر تصدیق کنندہ بذات خود تصدیق حاصل کرنے والے ادارے کو نہیں جانتا ہے یا اپنے ذریعے اس کو شرعی شہادت نہیں ملی ہے، بلکہ اس نے تصدیق حاصل کرنے والے کے پاس موجود کاغذات کی بنیا د پر ’’تصدیق نامہ‘‘ لکھ کر دے دیا تو تصدیق نامہ حاصل کرنے والا تو حق بجانب ہوسکتا ہے؛ لیکن اس طرح تصدیق جاری کرنے والا شرعی طور پر جھوٹا قرار پائے گا۔ عام مسلمان اگر ایسے جھوٹوں کی طرف سے لکھے گئے ’’تصدیق نامہ‘‘ کو دیکھ کر نامعلوم سفیروں کو زکوۃ وغیرہ کا چندہ دیتے ہیں تو زکوۃ ادا نہیں ہوگی ساتھ ہی جھوٹا ’’تصدیق نامہ ‘‘ جا ری کرنے والوں کی تشجیع کے گنہ گار ہوں گے۔ ذیل میں’’ تصدیق نامہ‘‘ کے تعلق سے تین قسمیں بیان کی جاتی ہیں، عام مسلمان نیز ارباب حل و عقد غور کریں کہ لوکل تصدیق جاری کرنے والے علماء و ائمہ حضرات کس زمرے میں آتے ہیں۔؟

چندے کی معتبر تصدیقات

(۱) جمعیۃ العلما، دارالعلوم دیوبند، مظاھرعلوم سہارنپور ندوۃ العلما لکھنؤ، ملی کونسل اور دوسرے وہ ادارے جن کی جڑیں پورے ملک، بلکہ باہر کی دنیا میں بھی ہیں، ان کی تصدیقات معتبر ہیں؛ کیوں کہ یہ ادارے اپنے حلقہ اثر کی وسعت کے ذریعے مدرسوں کی صورت حال کو معلوم کر سکتے ہیں۔ اور وا قعی حالات کے پیش نظر، یہ ادارے تصدیقات جاری کرنے کے اہل ہیں؛ کیوں کہ تصدیقات جاری کرتے وقت یہ ادارے یا ان اداروں سے جڑے افراد اپنی تحقیق کے بعد غلط تصدیقات دینے سے بڑی سے بڑی شخصیات کی سفارشات کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس طرح کے ’’تصدیق ناموں‘‘ کی اصابت کے لیے ایک مثال پیش کرنا مناسب ہے:
شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحبؒ کے (ایک واسطہ کے ساتھ) خلیفہ، مشہور پیرِ طریقت، کچھ خاص علاقوں میں متعدد مدرسوں کے ذمہ دار ہیں؛ غالبا ان کی لاعلمی میں بعض مدارس میں کچھ کوتاہیاں پائی جاتی تھیں، ان کی سرپرستی میں قائم اسی قسم کے ایک مدرسے میں عظیم الشان جلسہ ہوا، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے استاذالمکرم حضرت مولانا عبد الحق صا حب رحمہ اللہ (محدث دارالعلوم دیوبند) تشریف لائے۔
جلسہ ختم ہونے کے بعد پیرِ طریقت موصوف نے مدرسہ کے لیے تصدیق نامہ لکھنے کی فرمائش کی۔ اتفاق کی بات یہ کہ جلسہ، مدرسہ سے دور ہوا، مہمان موصوف مدرسہ کو دیکھ نہیں سکے تھے؛ اس لیے غور وفکر کے بعد دو چار دن میں لکھنے کے لیے کہا، اسی اثنا اپنے تلامذہ اور دوسرے ذرائع سے مدرسہ کی صورت حال معلوم کرلی اور پھر ’’تصدیق نا مہ‘‘ لکھنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ’’ہم نے مدرسہ نہیں دیکھا تو جھوٹ کیسے لکھ دوں؟‘‘

تصدیقات یا سفارشات

(۲) کچھ مرکزی ادارے مالی لحاظ سے مستحکم ہوتے ہیں وہ اپنی خدمات کی توسیع اور مدارس کے تعاون کے لیے ’’تصدیق نا مہ‘‘ جاری کرتے ہیں اور تصدیق نامہ حاصل کرنے والے مدارس کی صورت حال کو اپنے طور پر معلوم کرتے ہیں جیسے کہ بڑے مرکزی ادارے کرتے ہیں، اگر کسی مدرسہ کے بارے میں اپنے ذریعہ ان کو معلومات نہیں حاصل ہو سکتی ہیں تو پھر بڑے اداروں کی تصدیقات پر اعتماد کرکے اپنے ادارے کا تصدیق نامہ جاری کردیتے ہیں۔ تصدیق حاصل کرنے والے مدرسوں کو صرف اپنے لیٹر ہیڈ (Letterhead) کا کاغذ نہیں تھماتے ہیں، بلکہ مالی مدد بھی کرتے ہیں۔ تصدیق نامہ جاری کرنے کا یہ نظام؛ مضرت سے کچھ پاک ہوتا ہے، ان کے ذریعہ جاری ہونے والی تصدیقات درحقیقت شرعی لحاظ سے سفارشات ہوتی ہیں۔

غلط تصدیقات یا شہادات زور

وہ افراد جن کے پا س اپنے طور پر معلومات حاصل کرنے کا کوئی آسان ذریعہ نہیں ہے۔ مثلاً کشمیر کا کوئی سفیر کیرالا جائے تو وہاں کے علاقائی ائمہ کو اُس سفیر اور اس کے مدرسے کے بارے میں معلومات فراہم کرانے والے افراد، اکثر حالات میں ملنے مشکل ہیں؛ اس لیے اپنی طرف سے تصدیق نامہ جاری کرنے کے لیے پہلے ذریعے پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ اگر پہلے لکھا ہوا کوئی تصدیق نامہ ان کو مل جاتا ہے تو اسی کی بنیاد پر اپنے لیٹر ہیڈ (Letterhead) پر اپنی طرف سے ’’تصدیق نامہ‘‘ لکھ دیتے ہیں۔ قرآن و حدیث کا مسلمہ اصول ہے کہ: شہادت یا تصدیق محض تحریر کو دیکھ نہیں دی جاسکتی؛ بلکہ تحریر پر انسانی گواہ کا ہونا ضروری ہے۔
۔۔واستشھدوا شھیدین من رجالکم ۔۔۔۔الخ{البقرة: ۲۸۲}
’’۔۔۔اور اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ بنالو‘‘ {البقرة: ۲۸۲}
اس طرح کی تصدیقات جاری کرنے والوں کے پاس اپنے ایسے افراد و ذرائع نہیں ہوتے ہیں؛ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی طرف سے جاری ہونے والی تصدیقات ’’شہادات زور‘‘ ہیں۔ لوکل تصدیق کو دیکھ کر چندہ دینے کا التزام کرنے کا مطلب جھوٹی بات پر عمل اور جھوٹوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے؛ اس لیے لوکل علاقوں میں تصدیق جاری کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ خود کو ’’شہادات زور‘‘ سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی نیا تصدیق نامہ جاری کر نے کی بجائے جس تصدیق نامہ پر بھروسہ کر کے تصدیق فرما تے ہیں؛ اسی پہلے تصدیق نامے کو ہی دیکھ کر مسلمانوں کو چندہ دینے کی ترغیب دیں!

علاقائی تصدیق کا زور؛ لمحہ فکریہ

چندے کے سلسلے میں مدرسوں کے لیے تصدیق جاری کرنے والے، بعض متمول مدرسوں کی طرف سے دور دراز علاقوں میں مدرسوں کی ضروریات، خدمات اور ان کی واقعیت کا معائنہ (Inspection) کرنے کے لیے کچھ افراد (معائنہ کار Inspectors,) کو بھیجا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایسا بھی سننے میں آتا ہے کہ بسا اوقات یہ مشاہدین و معائنہ کار (Inspectors) حضرات علاقائی تعصب کی بنیاد پر اپنی رپوٹ تیار کرنے کے لیے ذہنی طور پر ایک خاکہ پہلے ہی بنالیتے ہیں، ان کی آمد و رفت صرف اصحاب خیر مسلمان اثریا کو فریب دینے کے لیے ہوتی ہے، زمینی صورت حال سے واقفیت (Inspection) سے قبل ہی انہوں نے جو خاکہ بنایا ہوتا ہے کہ ’’فلاں غریب ریاست میں ہمارے علاقے سے کم سے کم چندہ جائے‘‘ اسی خاکہ کے مطابق صرف بڑے اور مشہور اداروں میں حاضر ہوتے ہیں، اور مجبورًا اُن بڑے اداروں کی ہی تصدیق کرتے ہیں۔ باقی بے شمار چھوٹے اور ضرورت مند مدارس میں حاضر ہی نہیں ہوتے اور اپنی رپورٹ میں گم نام و کمزور مدارس کے وجود کی نفی کر دیتے ہیں۔ نیز ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ مشاہدین و معائنہ کار (Inspectors) متومل مدارس میں لکژری انداز میں قیام کرتے ہیں اور یہ بڑے مدارس والے نہیں چاہتے کہ ان کے علاوہ علاقے کے دوسرے مدارس کو چندے کے لیے کوئی تصدیق حاصل ہو، اس لیے اپنے علاقے میں واقع چھوٹے مدارس کی ہزاروں برائیاں بیان کرکے چھوٹے، ضرورت مند مدرسوں کے وجود کی نفی کراتے ہیں اور یہ نمائندے بڑوں مدرسوں کی نمک حلالی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے ہیں؛ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مختلف علاقے میں بیٹھے تصدیق کنندگان کی لغو تصدیق اور شہاداتِ زور کے سبب کام کرنے والے علما اور مدرسوں کے خلاف، ایک پورے مافیا کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے؛ اس لیے مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہمارے مرکزی اداروں سے جو تصدیقات جاری کی جاتی ہیں، مسلمان انہیں پر اعتماد کرکے مدرسوں کا تعاون کریں، علاقائی تصدیقات کے سلسلے کو مضبوط کرکے اسلام، علما اور مدارس کے خلاف کسی مافیا کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ دیں۔

(۷؍رمضان ۱٤٤٠ھ / 13 مئی 2019ء)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker