ہندوستان

رمضان المبارک میں دیگر عبادتوں کے ساتھ دعاؤں کی کثرت کریں ۔مولانا محمد شبلی القاسمی

پھلواری شریف: (بی این ایس)
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا پاکیزہ اور نورانی کلام ہے ،جو گناہوں کی نحوست سے پاک سینوں میں ہی محفوظ رہ سکتاہے ،گناہ کی ظلمت و اندھیری اور قرآن کریم کا نور یکجا نہیں ہو سکتا، حفاظ کرام خو ش نصیب اور اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے ہیں جن کے سینوں میں قرآن کریم محفوظ ہے ،ہمیں حفاظ کرام کی قدر کرنی چاہئے ،حفاظ کرام کی اصل پذیرائی اور مقبولیت کا مظاہرہ آخرت میں ہوگا ،اللہ تعالیٰ حفاظ کرام کے والدین کے سروںپر روشن اور حد درجہ چمکتاتاج پہنائے گا۔میں حافظ قرآن اور ان کے والدین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے قرآن کریم کی اہمیت کو سمجھا ۔
ان خیالا ت کا اظہار مولانا محمد شبلی القاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے جناب الحاج محمد مکرم حسین صاحب پھلواری کے مکان پر تراویح میں ختم قرآن کی مجلس سے کیا ،حافظ مناظر حسین صاحب نے بہت اچھے انداز میں قرآن پاک تراویح کی نماز میں سنا یا ۔
مولانا نے اپنے خطاب میں فرمایا ـکہ رمضان کے مہینہ میں اللہ تعالیٰ کثرت سے دعائیں قبول فرماتا ہے ،لہٰذا افطار وسحر کے اوقات قبولیت کے خاص اوقات ہیں اپنے رب سے خوب مانگئے وہ ایسا رب ہے جو مانگنے پر خوش ہو تا ہے ،اس ماہ میں عبادتوں کی کثرت سے اپنی جنت آباد کریں اور اپنے گناہوں سے توبہ کرکے اپنے ندامت کے آنسو ؤں سے جہنم کی آگ کو بجھا لیجئے ،رمضان المبارک میں اپنے تمام اعضاء جسمانی کو گناہوں سے بچائیں ،زبان کو جھوٹ ،غیبت ،چغلی اور دیگر گناہ کی باتوں سے بچانا روزہ کی حفاظت ہے ۔ ورنہ روزے کا ثواب برباد ہو جاتاہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کہ بہت سے روزے دار ایسے ہیں جن کو سوائے بھوکا رہنے کے کچھ ہاتھ نہیں لگتا ،وہ ایسے ہی لوگ ہیں جو روزہ کی حالت میں بھی اپنے کو گناہ سے نہیں بچائے‘‘رمضان المبارک کے پورے ماہ تراویح کا اہتمام کیجئے ،گھر میں عبادت کے اندر مسابقہ کا مزاج پید اکیجئے ،اگر کسی نے ایک دن میں دو پارہ قرآن کریم پڑھا تو دوسروں میں یہ لالچ ہو کہ ان سے زیادہ تلاوت کرلیں ۔بلوغ کے ساتھ گھر کے بچے اور بچیوں کو روزہ کا پابند بنائیں عموما ًہو تا یہ ہے کہ ایک شخص نے نماز جوانی میںنہیں پڑھی بڑھاپے میں اللہ کا خوف پیدا ہواوہ گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور نماز شروع کر دیتا ہے ،لیکن اگر کسی نے جوانی میں روزہ نہیں رکھا تو پھر بڑھاپے میں چاہنے اور رغبت کے باوجودبھی وہ اس کا اہتما م نہیں کرپاتے اور روزہ رکھنے کی ہمت اپنے اندر نہیں جٹا پاتے ،اس لیے شروع سے روزہ کا اپنے کو پابند بنانا چاہئے ،روزہ اور قرآن قیامت کے دن روزہ داروں اور قرآن کی قدر کرنے والوں کی رب کے حضور پیروی کرے گا ،اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش قبول فرمائے گا۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker