مضامین ومقالاتہندوستان

آج ۵۹؍ سیٹوں کے لیے آخری مرحلے کی پولنگ، مودی، شتروگھن سنہا، افضال انصاری، میسا بھارتی ، سمیت ۹۱۸؍ امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ

تمام تیاریاں مکمل، سیکوریٹی کے سخت انتظامات

نئی دہلی۔ ۱۸؍مئی: لوک سبھا الیکشن ۲۰۱۹ کے آخری مرحلے میں کل اتوار کویوپی سمیت ملک کی ۷؍ریاستوںبہار، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، پنجاب، ہماچل پردیش اور مرکز کے زیر انتظام خطہ چنڈی گڑھ کی ۵۹ سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیںگے۔الیکشن کمیشن نے آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں اور تمام لوک سبھا حلقوں میں انتخابی سپروائزر اور نگرانی ٹیمیں تمام سرگرمیوں پر نظر رکھی ہوئی ہیں۔ پولنگ مراکز کے پاس سکیورٹی کے چاک چوبند انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ مراکز پر مرکزی پولس فورس کی اضافی تعیناتی کی گئی ہے۔مغربی بنگال میں تشدد کے واقعات کو دیکھتے ہوئے خصوصی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔وہاں سریع الحرکت ٹیموں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ساتویں اور آخری مرحلے کی بے خوف ، صاف و شفاف ووٹنگ کے پیش نظر اترپردیش میں دو لاکھ سیکورٹی اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے۔ ۱۳ پارلی،انی حلقوں کیلئے۔ساتویں اور آخری مرحلے کے تحت ۱۳؍پارلیمانی حلقوں کےلیے ۱۹‘ مئی کو صبح سات بجے سے شام چھ بجے کے درمیان ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جبکہ رابر ٹس گنج پارلیمانی سیٹ کے تحت رابرٹرس گنج، دودھی اور چکیا اسمبلی حلقوں میں دو گھنٹے قبل ہی ووٹنگ اختتام پذیر ہوجائےگی۔ 13 پارلیمانی حلقوں کے ساتھ آگرہ(شمالی) اسمبلی سیٹ کے لئے ضمنی انتخاب کے تحت ووٹ ڈالے جائیں گے۔اس مرحلے کے تحت مسٹر مودی(وارانسی)، مرکزی وزیر منوج سنہا(غازی پور)،اپنا دل سونی لال کی فاونڈر انوپریا پٹیل(مرزا پور)، یو پی بی جے پی صدر ڈاکٹر مہندر ناتھ پانڈے(چندولی)، بھوجپوری اداکار اور بی جے پی امیدوار روی کشن( گورکھپور) باہو بلی مختار انصاری کے بھائی افضال انصاری (غازی پور)کے قسمت کا فیصلہ کیا جائےگا۔چیف الیکشن افسر وینکٹیشور لو نے اتوار کو بتایا کہ پولنگ پارٹیاں اپنے متعلق پولنگ بوتھ کے لئے روانہ کردیا گیا ہے۔ موسم کی تند مزاجی کے پیش نظر متعلقہ افسران کو پولنگ بوتھوں پر پینے کے پانی، چھاؤں کے لئے مناسب انتظام اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔ریاستی حکومت نے دوران ووٹنگ کے دوران کسی بھی قسم کی بدنظمی و افراد تفری سے بچنے کے لئے سنٹرل فورسز کی 200 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں اس کے علاوہ پی اے سی اور ضلع پولیس پولنگ بوتھوں پر سخت سیکورٹی کے لئے اپنی اچکتی نگاہیں رکھیں گے۔رائےدہندگان میں اعتماد کی بحالی کے لئے حساس حلقوں میں پیرا ملٹری فورسزز فلیگ مارچ کرر ہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے گھوسی، غازی پور، بلیا، مرزا پور اور گورکھپور میں تشدد کی سابقہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی کے اضافی انتظامات کئے ہیں۔ سخت سکیورٹی بندوبست کے درمیان اس مرحلے کے لئے ووٹنگ صبح سات بجے شروع ہوگی اور ووٹر شام چھ بجے تک اپنے ووٹ کےحق کا استعمال کر سکیں گے۔ شام چھ بجے پولنگ مراکز کے دروازے بند کر دیے جائیں گے لیکن جو ووٹر اس سے پہلے مرکز کے اندر چلا جائے گا اور لائن میں کھڑ ہوجائے گا اسے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو گا۔ اس مرحلے میں وزیر اعظم نریندر مودی، شتروگھن سنہا،میسا بھارتی،سنی دیول، روی کشن، افضال انصاری ، کرن کھیر ، اجے رائے، شالنی دیوی سمیت ۹۱۸ امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ای وی ایم میں بند ہوجائے گا۔ اطلاع کے مطابق سب سے اونچے پولنگ مرکز ہماچل پردیش کے ضلع لاحول ا سپیتی کے ٹشیگنگ میں بھی ووٹنگ کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔منڈی پارلیمانی حلقہ کے تحت آنے والا یہ ووٹنگ مرکز 15256 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اس ووٹنگ مرکز کے ارد گرد کے علاقے میں اکثر برف کی موٹی چادر چڑھی رہتی ہے اور انتظامیہ نے اسے دور کرنے کے لئے تمام انتظامات کئے ہیں۔ اس مرکز پر ہیلی کاپٹر سے ای وی ایم پہنچائی گئی ہیں۔ اس مرحلے میں 10 کروڑ ایک لاکھ 75 ہزار ووٹر 918 امیدواروں کی انتخابی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ واضح رہے کہ آج ہونے والی ووٹنگ کے بعد انتخابات کے ساتوں مراحل کااختتام ہوجائے گاجس کے بعد ۲۳مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔بی جے پی نے سال ۲۰۱۴ کے لوک سبھا الیکشن میں آخری مرحلے کی ۵۹ سیٹوں میں سے ۳۰ سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker