ہندوستان

بی جے پی مخالف فرنٹ کا ’مشن اتحاد ‘شروع، چندرا بابو کی راہل گاندھی اور کیجری وال سے ملاقات، مایاوتی اور اکھلیش سے ملنے کی تیاری

نئی دہلی۔ ۱۸؍مئی: لوک سبھا الیکشن کے لئے آخری مرحلے کی انتخابی تشہیرختم ہوچکی ہے۔ اب 19 مئی کو ساتویں اورآخری مرحلے کے لئے ووٹ ڈالے جائیں گے اور23 مئی کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا نتیجہ آئے گا۔ ایک طرف وزیراعظم نریندرمودی اوربی جے پی صدرامت شاہ نے جمعہ کو پریس کانفرنس کرکے مکمل اکثریت کے ساتھ جیت کا دعویٰ کیا ہے تووہیں اپوزیشن ایک بارپھراتحاد کی کوششوں میں مصروف ہوگیا ہے۔ اپوزیشن یہ مان چکا ہے کہ اس لوک سبھا الیکشن میں کسی بھی پارٹی کو مکمل اکثریت حاصل نہیں ہوگی، اس لئے اپوزیشن خیمہ اپنے پالے میں تعداد کو یکجا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہوگیا ہے۔ شاید اسی کے تحت تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کے سربراہ اور آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرابابو نائیڈو ‘مشن اتحاد کے لئے پرزورکوشش کررہے ہیں۔چندرا بابو نائیڈو نے ہفتہ کو دہلی میں کانگریس کے صدرراہل گاندھی سے ملاقات کی۔ اس کے بعد لکھنو جاکربی ایس پی سربراہ مایاوتی اور ایس پی سربراہ اکھلیش یادو سے ملاقات کریں گے۔اس سےقبل نائیڈو نے جمعہ کی دیشام دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال سے ملاقات کی۔ عام آدمی پارٹی نے اسے خیرسگالی ملاقات بتایا۔ چندرا بابو نائیڈو اپوزیشن کے لیڈروں سے سلسلہ وارطریقے سے ملاقات کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے جمعہ کو کانگریس لیڈرابھیشیک منوسنگھوی اورمارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری سے بھی ملاقات کی۔ ایسا بھی کہا جارہا ہے کہ نائیڈوشرد یادوسے بھی ملاقات کرسکتے ہیں۔وہیں دوسری طرف لوک سبھا الیکشن کے آخری مرحلے کی ووٹنگ سے قبل ہی کانگریس نے حکومت بنانے کولے کرماسٹرپلان تیارکرنا شروع کردیا ہے۔ اس پلان میں کئی کردارہیں، کوئی راجا، کوئی رانی، کئی مہرے اورکئی پیادے۔ اورمشن یہ ہے کہ اگربی جے پی اکثریت تک نہیں پہنچتی ہے توکانگریس کسی طرح سے سبھی پارٹیوں کو ساتھ لاکرحکومت سازی کے اعدادوشمارکوحاصل کرسکے۔اس ماسٹرپلان کی شروعات یوپی اے چیئرپرسن اورکانگریس کی سابق صدرسونیا گاندھی سے ہوئی۔ سونیا گاندھی کی وجہ سے 2004 میں کانگریس نے 145 سیٹ پرہی منموہن سنگھ کی قیادت میں حکومت بنا لی تھی۔ کانگریس کی یہ تاریخ رہی ہے کہ 100 سے زیادہ سیٹیں پاتے ہی حکومت بنانے کی حکمت عملی میں کانگریس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ اوراس باربھی یہ کام سونیا گاندھی نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔اس کے ساتھ ہی سونیا گاندھی اوران کی ٹیم ایک بارپھرسرگرم ہوگئی ہے۔ کیونکہ انہیں بھی یہ احساس ہے کہ کئی علاقائی جماعتیں ایسی ہیں، جو سیدھے راہل گاندھی سے بات چیت کرنے میں مطمئن نہیں ہوں گی۔ اس لئے حکمت عملی کے طورپرسونیا گاندھی کو ایک بار پھرآگے لایا گیا ہے۔ 23 مئی کے نتائج سے قبل ہی کانگریس پوری تیاری کررہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker