مضامین ومقالات

’مسلمان غمخوار ہوتے ہیں‘ اس دعوے کی خودکشی!

اتواریہ: شکیل رشید
بات ان سے کرنی ہے جنہیں اللہ رب العزت نے زکوٰۃ دینے کے قابل بنایا ہے۔
اور ان مسلم تنظیموں، اداروں او رجماعتوں سے بھی بات کرنی ہے جو زکوٰۃ وصول کرتی ہیں، تاکہ مستحقین تک پہنچاسکیں۔
کیا آپ سب کو پتہ ہے کہ مہاراشٹر کے بیڑ ضلع کے گیورائی شہر کے طیب نگر علاقہ میں چار بچوں کی ایک ماں نے روزے کی حالت میں صرف اس لیے خودکشی کرلی کہ اس کے پاس سحری وافطار میں کھانے کےلیے کچھ نہیں تھا! بی بی بیگم کی عمر صرف ۲۹ سال تھی، اس کے شوہر ابراہیم شیخ خلیل کی عمر ۳۷ سال ہے، ان کے چار بچوں میں سب سے چھوٹی مسکان ہے وہ صرف سات مہینے کی ہے! قدسیہ کی عمر ۸؍سال ہے، ضیاء کی عمر ۷ سال او رالیاس کی عمر ۵ سال ۔ یعنی بچوں میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں ہے کہ اپنی د یکھ بھال خود آپ کرسکے۔۔۔۔طیب نگر کا علاقہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے، وہاں اکثریت مزدوروں کی ہے مگر خوشحال مسلمان بھی وہاں بستے ہیں۔ مدرسہ اور اسکول بھی چلتا ہے۔جو درد ناک اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق ادھر چند روز سے شیخ ابراہیم شیخ خلیل مزدوری کو جاتو رہا تھا لیکن اسے مزدوری مل نہیں رہی تھی۔ گھر میں کھانے پینے کی شدید تنگی آگئی۔ جس کے گھر چار چار چھوٹے بچے ہوں وہی تنگی کا مطلب اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔۔بی بی بیگم نے یقیناً جینے کی، اپنے لیے نہ سہی اپنے بچوں کےلیے جینے کی بھر پور کوشش کی ہوگی، اور یقیناً اس نے خودکشی کا قدم اسی وقت اُٹھایا ہوگا جب وہ اپنی کوششوں کے باوجود اپنے اور بچوں کےلیے کچھ خوراک اکٹھا نہ کرسکی ہوگی۔ بی بی بیگم کو اپنے بچوں سے کیسی محبت رہی ہوگی اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس نے بچوں کے سامنے خودکشی نہیں کی، پہلے انہیں گھر سے باہر نکالا پھر اس نے خود کو پھانسی لگالی۔ بی بی بیگم کو پتہ تھا کہ اگر اس کے بچوں نے اسے لٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا اور رونے لگے تو وہ خودکشی نہیں کرسکے گی۔ اس نے بچوں کو باہر کیا گھر کا دروازہ بند کیا اور خودکشی کرلی!
دعویٰ ہے کہ بی بی بیگم اور ابراہیم شیخ نے کسی سے اپنی مالی تنگی کا ذکر نہیں کیا تھا! ممکن ہے نہ کیا ہو لیکن ایک مسلم اکثریتی علاقے میں ان کے گھر میں فاقے کی بات چھپی نہیں رہ سکتی تھی، کوئی او رنہ سہی بچوں کی کیفیت سے ہی گھر کے حالات کا اندازہ ہوسکتا تھا۔۔۔ لیکن اب جواز دئیے جارہے ہیں ، لفظوں کا کھیل شروع ہے، ’ہمیں تو پتہ ہی نہ چلا!‘ ، ’ارے یہ بھوکے کیسے رہے!‘ وغیرہ وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اس قدر بے حس ہوچکے ہیں کہ اپنے پڑوسیوں تک کے حالات سے غافل بنے رہتے ہیں۔ ہم جاننا ہی نہیں چاہتے کہ ہمارے پڑوس کے لوگ خیریت سے ہیں یانہیں ہیں۔ اللہ رب العزت اور رحمت عالم حضرت محمدﷺ نے پڑوسیوں کے جو حقوق بتائے ہیں ہم نے انہیں طاق پر رکھ دیا ہے۔ کوئی بھوکا رہے ہم تو خوب کھائیں گے۔ کوئی پھٹے کپڑے پہنے ہم تو برانڈیڈ کپڑے پہنیں گے۔
بی بی بیگم کی خودکشی، وہ بھی آج کی جدید دنیا میں ساری مسلم قوم کی خودکشی ہے۔ یہ خودکشی اس دعوے کی خودکشی ہے کہ مسلمان غم خوار ہوتے ہیں بالخصوص رمضان المباک کے مقدس مہینے میں۔ یہ زکوٰۃ دینے والوں اور زکوٰۃ بانٹنے والی جماعتوں وتنظیموں اوراداروں کے ان دعوئوں کی بھی خودکشی ہے کہ ہم مستحقین تک زکوٰۃ کی رقم پہنچاتے ہیں۔ آج غریبوں تک رسائی کے سارے ذرائع اور وسائل موجود ہیں مگر ہم ایک بی بی بیگم کو نہیں بچاسکے۔ یہ تو ایک واقعہ ہے نہ جانے کتنی بی بی بیگم ہمارے سماج میں موجود ہیں، خودکشی کےلیے تیار ۔ اب اگر ایک بھی بی بی بیگم نے خود کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا کر خودکشی کی تو ہم اللہ کے غضب سے شاید نہیں بچ سکیں گے، غضب چاہے وہ مودی کی ہی شکل میں کیوں نہ ہو۔ اللہ ہمیں سمجھ دے او راپنے غضب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker