مضامین ومقالات

لوک سبھا چنائو ۲۰۱۹کون بازی مارے گا؟

شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز/ سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن )
مغربی بنگال جلتے جلتے بچ گیا!
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ہمت نے فرقہ پرستوں کے منصوبوں پر پانی پھیردیا۔
منصوبہ سیدھا سادا تھا کہ لوک سبھا چنائو کے سارے مرحلوں میں ایسی فرقہ وارانہ کشیدگی اور ایسا تشدد پھیلایا جائے کہ ووٹر فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم ہوجائیں اور بھگوا ٹولے کی چاندی ہوجائے۔ پر پرودگار کے فضل وکرم سے لوک سبھا چنائو کا آخری مرحلہ بھی اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ اور اسے ملک کی خوشی نصیبی ہی کہا جائے گا کہ شرپسندوں نے اقلیتوں کے خلاف تشدد کی جو منصوبہ بندی کی تھی وہ بری طرح نام رہی ہے ۔ الیکشن کے اعلان سے قبل ہی مختلف ذرائع کہہ رہے تھے کہ فسادات کرائے جائیں گےاور اگر ذرائع کی مانی جائے تو اصل منصوبہ یہی تھا کہ فرقہ وارانہ فسادات بھڑکا کر، رام مندر کے نام پر فسادات کو ہوا دے کر اور اکثریتی فرقے کو اقلیت کے خلاف کھڑا کرکے اس چنائو میں بھرپور کامیابی حاصل کی جائے لیکن اکادکا چھوٹی موٹی وارداتوں کے علاوہ چنائو کا پورا عمل اطمینان بخش کہا جاسکتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ یوں بھی لگ رہا ہے کہ چنائو کے لیے استعمال ہونے والے اے وی ایم کے غلط استعمال کے تعلق سے جو منصوبہ بندی کی گئی تھی اس میں بھی بی جے پی کو دیگر سیاسی پارٹیوں کے چوکنا رہنے کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔
بہرحال اس وقت پورے ملک کو الیکشن کے نتائج کا انتظار ہے ، ایک بے صبری اور بے قرار ی اور بے چینی کا عالم ہے اور اندیشے اور امیدیں ہیں۔رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہونے کے باوجود عام طور پر افطاری اور تراویح کے بعد بھی لوگوں کی زبان پر چنائو کا تذکرہ آہی جاتا ہے جس سے اس پارلیمانی الیکشن کی عوامی سطح پر اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
عام تجزیات کے مطابق یوں لگتا ہے کہ بی جے پی کو اپنے منصوبوں کے مطابق اچھی خاصی تعداد میں سیٹیں تو ضرور مل جائیں گی لیکن وہ سرکار بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ اور اس سروے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پہلی بار مختلف ریاستوں میں اپنی اپنی بنیادوں کو مضبوط رکھنے والی مقامی پارٹیوں نے اس بات کی بھر پور کوشش کی ہے کہ ان کی ریاستوں میں بی جے پی کے قدم نہ جمنے پائیں۔ا ن ریاستوں میں مغربی بنگال ، کرناٹک، تمل ناڈو، راجستھان ، مدھیہ پردیش وغیرہ قابل ذکر ہیں جہاں مقامی سیاسی پارٹیوں نے جم کر چنائو میں حصہ لیا اور بی جے پی کی لاکھ کوششوں کے باوجود اس کے قدم نہیں جمنے دئیے ۔اس سلسلے میں یوں لگتا ہے کہ کانگریس نے بھی مقامی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ تعاون کیا ہے، اکا دکا سیٹوں پر چنائو لڑنااور چنائو مہم میں کانگریس کے چوٹی کے لیڈروں کی عدم موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ کانگریس نے جو حکمت عملی تیار کی تھی وہ کامیاب رہی ہے۔ جہاں تک پارلیمنٹ پر تسلط کا تعلق ہے اترپردیش (یوپی) بہار اور مہاراشٹر ایسی ریاستیں ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں اراکین پارلیمان چن کر پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں ، ان ریاستوں میں بھی آثار یہی بتا رہے ہیں کہ بی جے پی کا کے قدم اکھڑ رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات بھی ہوگی اور ملک کی جمہوریت کو ناپاک عزائم سے پاک کرنے کی کوشش کا ایک حصہ بھی۔
اگر تجزیہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ یوپی اے اور این ڈی اے کی اس ٹکر میں نتائج بالکل یکطرفہ تو نہیں ہوں گے لیکن پھر بھی یوپی اے اس پوزیشن میںہوگی کہ وہ حکومت سازی کا دعویٰ کرسکے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یوپی اے کو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو وزیر اعظم کون بنے گا؟ عام طور پر یہی اشارے مل رہے ہیں کہ اس مقصد کے لئے راہل گاندھی کو آگے بڑھا یا جائے گا لیکن سیاسی طور پر حالات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حکومت بہت زیادہ مضبوط نہیں ہوگی ، تھوڑی سی اتھل پتھل وزارت عظمیٰ کی کرسی کو ہلاکر رکھ دے گی۔ غالباً اس پس منظر میں خود کانگریس کی یہ کوشش ہوگی کہ کہ مقامی پارٹی کو آگے بڑھایا جائے اور اس پارٹی کے لیڈر کو وزارت اعظمیٰ کا عہدہ دیا جائے۔ بی ایس پی سپریمو مایاوتی، ممتابنرجی، اکھلیش وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار مہاراشٹر کے مرد آہن شرد پوار نے بذات خود چنائو میں حصہ تو نہیں لیا لیکن ان کی سرگرمیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بی جے پی کو شکست دلانے کے لیے اندر ہی اندر محوری کردار ادا کررہے تھے۔ اسی وجہ سے چنائو لڑے بغیر شردپوار کا نام بھی اس عہدے کے لیے تذکرے میںہے۔ شردپوار کی قیادت اس اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ہی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اپنے تعلقات بہتر رکھے اور مرکز میں وزیر دفاع بننے کے بعد بھی سبھی کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے رہے۔ مختلف جماعتوں کے لیڈروں سے ان کے بہتر تعلقات عین ممکن ہے ان کے لیے کوئی راہ ہموارکریں۔
بی جے پی نے اس چنائو میں دوسری پارٹیوں سے مل جل کر مقابلہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی ضرور لیکن کچھ پارٹیوں سے اس نے مجبوری سے ہی اتحاد کیا ، حالانکہ بی جے پی یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ اب اسے کسی کے ساتھ بھی میل جول کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ وہ سیاسی پارٹیاں جو بی جے پی کے لیے نیک فعال ثابت ہوئیں ان میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا اور نییش کمار کی جے ڈی یو کے نام شامل کیے جاسکتے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی بی جے پی نے جھک کر سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ اپنی شرائط پر انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا ۔ مہاراشٹر میں بی جے پی شیو سینا گٹھ بندھن کے باوجود پچھلے چار ساڑھے چار سالوں میں جو حالات دیکھنے میں آئے اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ شیو سینا کو ہر محاذ پر منھ کی کھانی پڑی اور اس نے بی جے پی سے سمجھوتے میں ہی اپنی بقا محسوس کی۔ مہاراشٹر میں تو اسے شرد پوار کی حکمت عملی ہی کہا جائے گا کہ شیوسینا کو سبق سکھانے کے لیے انہوں نے ’منسے‘ کے سربراہ راج ٹھاکے کے کندھوں پر ہاتھ رکھددیا اور ان کا بخوبی استعمال بھی سامنے آیا۔ اب یہ تو چنائو کے نتائج ہی بتائیں گے کہ راج ٹھاکرے کی خود اپنی ذاتی مہم بی جے پی شیو سینا گٹھ بندھن کے لیے کتنی نقصاندہ اور کانگریس این سی پی گٹھ بندھن کے لیے کتنی سود مند ثابت ہوگی۔
رہے نتیش کمار تو لالوپرسادیادو سے علیحٰدہ ہوکربہار میں وہ اچھے حالات سے نہیں گذر رہے ہیں۔ لالو پرساد یادو کے بیٹے تیجسوی یادو ان کے سامنے ایک بڑے چیلنج کے طور پر ابھرے ہیں اورایسا سمجھا جارہا ہے کہ وہ نتیش کی نیا ڈبو دیں گے۔ اہم ترین نتائج یوپی کے ثابت ہونگے ، یوپی میںجسے زیادہ سیٹیں ملیں وہ حکومت سازی کی پوزیشن میں ہوگا۔ بی جے پی نے وہاں فرقہ پرستی ، کذب و افتراء کا ہر کھیل کھیلا لیکن اس بار یقینا اسے پہلے جیسے کامیابی ملتی نظر نہیں آرہی ہے ۔ اکھلیش اور مایاوتی کے اتحاد نے بھی اور پرینکا گاندھی کی سیاسی سرگرمیوں نے بھی اس کے لیے شدید مشکلات پید اکردی ہیں۔ اس کی سیٹیں یقینا گھٹ رہی ہیں۔
مغربی بنگال کا ذکر اوپر آچکا ہے وہاںبی جے پی صدر امیت شاہ کی ریلی میں جو ہوا وہ سارے ملک کے لیے ایک طرح کا انتباہ ہے۔ فرقہ پرست لیڈروں کی طرف سے یہ ایک طرح کی دھمکی ہے کہ جو ہماری راہ سے ہٹ کر چلے گا اس کی راہ میں ہم کانٹے بودیں گے۔ لیکن ممتا بنرجی نے امیت شاہ کو ایسی ٹکر دی ہے کہ وہ مدتوں یاد رکھیں گے ۔’ کولکتہ تشدد ‘سے بی جے پی کی ساکھ بے حد متاثر ہوئی ہے اور مغربی بنگال میں آخری مرحلے کی پولنگ یقینا اس کے لیے بہتر ثابت نہیںہوئی ہوگی۔ ویسے ایک بے حد تشویش ناک خبر ہے کہ ممتابنرجی کو سبق سکھانے کے لیے بایاں محاذ کے لیڈروں اورورکروں نے بی جے پی کا ساتھ دیا ہے ! خیر یہ وہ چہرے ہیں جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہتے ہیں ، نتائج جو بھی ہوں،ان کے چہروں کومکمل طور پر عیاں کردیں گے۔اب ۲۳؍مئی کا انتظار ہے۔
چنائو کے نتایج ملک کو ایک نئی راہ دکھاسکتے ہیں اور سیاسی محاذ پر ملک میں بڑی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ اب رہا سوال اقلیتی فرقے یعنی مسلمانوں کا تو مسلمان پچھلے ستر برسوں سے کانگریس، بی جے پی اور نہ جانےکسے کسے ، خود اپنی سیاسی پارٹیوں جیسے کہ مسلم لیگ ، پیس پارٹی اور ایم آئی ایم اور ان کے لیڈروں کو اپنے کندھوں پر ڈھوتے رہے ہیں ، لیکن کانگریس کے مسلم لیڈروں یااور کسی سیاسی پارٹی کے مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا ہے ، یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا ۔ ہر لیڈر کو بظاہر تو دکھاوے کے طور پر مسلم مسائل سے دلچسپی رہی ہے لیکن ان کا بنیادی نصب العین اپنی سیاسی پارٹیوں کو مضبوط بنانے اور اپنے سیاسی آقائوں کی جوتیاں اٹھانے کے علاوہ اور کچھ نہیں رہا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ہوش کے ناخن لیں، کسی مسلم کو ٹکٹ دے دیا گیا ہے اس لیے اس پارٹی کی حمایت کی جائے یہ یکسر غلط تصورہوگا۔جیسے کہ کنہیاکمار کے سامنے تنویرحسن کے لیے لوگ زور مارتے نظر آئے تھے ۔ بلکہ ہونا تو یہ چاہیئے کہ اگر کوئی غیر مسلم لیڈر واقعی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کرتا ہے تو مسلمان اسے آگے بڑھانے میں ہرگز پش و پیش نہ کریں۔ اپنےلیڈر کرسیوں سے چمٹے رہ سکتے ہیں لیکن غیر مسلم لیڈر اس بات کا ضرورت خیال رکھیں گے کہ اگر ہم نے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں کیے تو وہ آئندہ ہمارے ساتھ نہیں ہونگے، اس لیے مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے تئیں وہ تو سنجیدہ ہوسکتے ہیں لیکن مسلم لیڈر قطعی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker