ہندوستان

مسلم نوجوان نے،گرمی سے بچنے کے لیے ڈرائیوروالدکے لیے بنایا ائیر کولر آٹو رکشہ

صرف پندرہ سو روپیے میں رکشہ کو ایئرکنڈیشن بنانے والے نوجوان سے خصوصی بات چیت
اورنگ آباد :19؍مئی(بی این ایس)
مہاراشٹر کے ثقافتی شہر اورنگ آباد کے ۱۵ سالہ بچے نے اپنے رکشہ ڈرائیور والد کی گرمیوںمیںپریشانی دیکھ ایجادکیاکم خرچ طریقہ کہ جس سے آٹورکشہ دینے لگا ایئر کنڈیشن کااحساس ۔ شہر کی ملی جلی آبادی سوامی وویکانند نگر ہڈکو میں رہنے والا یہ ہونہار طالب اس وقت اپنی ایجاد کی وجہ سے شہر بھرمیں موضوع بناہوا ہے اور ہر طر ف سے اس کی ستائش کی جارہی ہے۔
مہاراشٹرمیںاس وقت شدت کی گرمی ہے ،درجہ حرارت 42سے اوپر چل رہا ہے۔ ایسی حالات میں جب ایک دسویں جماعت کا طالب علم دیکھتا ہے کہ اس کے والد آٹو رکشہ چلارہے ہیں ،پسینہ پوچھ رہے ہیں ، سواری بھی پسینے سے شرابور ہے ۔ اسی کے ساتھ وہ سڑکو ںپر دوڑتی ایئر کنڈیشن قیمتی کاروں ،OLAاور UBERکے گاڑیوں کو جو پھراٹے سے سڑکوں پر دوڑرہی ہیں۔عام آدمی نہ تو ان گاڑیوں میں بیٹھ سکتاہے اور نہ ہی گرمی کی شدت سے بچ سکتاہے۔ طالب علم بے چین ہے ،وہ اس تگ و دو میں ہے کہ کس طرح سے اپنے والد کو اس مصیبت سے نجات دلائے جو رات دن محنت کررہے ہیں۔ والد صاحب کبھی کبھار ایئر کنڈیشن ،کولر،ACکا کام بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے کچھ سامان گھرمیں پڑا رہتا ہے۔گرمی کی وجہ سے گھرمیں کولر (coolerلایا گیا اور بس کیا تھا اسی کولر کو دیکھ کر اس کے دماغ نے تیزی سے کام کرنا شروع کردیااور اس نے اپنے والد مظہر مرزا سے کہا کہ ابو جان میں دیکھتا ہوں کہ آپ اتنی شدت کی دھوپ میں رکشہ چلاتے ہیں ،رکشہ چھت گرم ہوجاتاہوگا او ر لوگ بھی نہیں بیٹھتے ہوں گے ،میں چاہتاہوں کہ جس طرح آپ نے ہمارے لیے گھر میں کولر لے کر آئے ہیں اسی طرح کا ایک کولرآپ کی رکشہ میں بھی لگایاجائے۔
اس طالب علم کا نام ہے ،ایان مرزا، جواورنگ آ باد (مہاراشٹر ) کے رضیہ سلطانہ اردو ہائی کا طالب علم ہے ۔ جب ایان کے والد نے اپنے پیارے بیٹے کے منھ سے یہ جملہ سنا کہ ’’ میں آپ کے لیے رکشہ میںکولر لگانا چاہتا ہوں ‘‘تو حیرت سے اس کو تکتے رہ گئے۔گھر کے کباڑ خانے میں پڑی ہوئی چیزوں کو اس نے جمع کیا اور کچھ چیزوں سنڈے مارکیٹ سے خرید لایا ۔سب سے پہلے اس نے چھت کی گرمی کوروکنے کے لیے اندر سے فوم کو فیویکال سے چپکایا اور اس کے اوپر رنگین کالین چڑھا دی۔رکشہ کے اندورنی حصہ میںجہاںڈرائیور بیٹھتا ہے اس کے اوپر کمپیوٹر میں استعمال ہونے والے دو پنکھے کی مدد سے کولر تیار کرلیا۔ پچھلے حصے میںپچیسلیٹر پانی کی ٹاکی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ پانچ لیٹر پانی بھرا جاتاہے۔ ٹاکی کے اندرپلاسٹک کے پائپ میں سراخ بنا ئے گئے ہیں جو ہوا کو ٹھنڈا کرنے کا کام انجام دیتاہے اور سامنے جو جالی لگائی گئی اس سے ٹھنڈی ہوا باہر نکلتی ہے جو سارے رکشتہ کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ مرزا ایان کا تعارف اور اس کے خاندانی پس منظر کے بارے میں اورنگ آباد کے مشہور عالم دین و سماجی کارکن مرزاعبدالقیوم ندوی کا کہنا ہے سائنس مسلمانوں کی میرا ث ہے اور مسلم سائنسدانوں نے دنیا کوکئی نئی ایجادات سے روشناس کرایاہے ،ہمارے شہر کے ننھے منے بچے مرزا ایان بیگ نے آٹو رکشہ میں کولر لگاکر اسی میراث کوآگے بڑھانے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔
لڑکے کے والد مرزا مظہر جو رکشہ ڈرائیو ہے ان کا کہنا ہے کہ ایان بچپن ہی سے ذہین اور ہوشیار ہے، وہ ہمیشہ اپنے بیٹے کی حوصلہ آفزائی کرتے رہتے ہیں۔ جب ایان سے آٹو رکشہ کوایئر کنڈیشن بنانے میںاخراجات کے بارے میںپوچھا تو اس نے بتایاکہ کل ملاکر خرچ 1500روپیے آیاہے ۔ابھی اس میںمزید تبدیلی ،اضافہ کر بہترین بنایاجاسکتاہے،میری کوشش رہے گی کہ اسے خوب سے خوب بنایا اور عام انسان جو بڑی بڑی ایئر کنڈیشن کرایہ کی کاروںمیںنہیں بیٹھ سکتے ہیں وہ رکشہ میںبیٹھک کر ان کاروں کا مزہ لیں۔
اس سے قبل جب ایان آٹھویں جماعت میں تھے انہوںنے سائنس کی نمائش میں ہائی ڈورلیک(Hydraulic lift)بنائی تھی جسے بہت پسند کیاگیاتھا۔ایان کی خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ بھنگار اور کباڑ میںپڑے ہوئے سامان سے کچھ نہ کچھ نیابناتا رہتاہے۔ آگے چل کر وہ میکینیکل انجینئر بن کر اپنی قوم اور سماج اور ملک کے لیے کچھ کرکے دکھانے کا جذبہ اس کے اندر شدت سے پایاجاتاہے۔ وہ بھی چاہتاہے کہ جس طرح سابق صدر جمہوریہ ہند اے پی جے عبدالکلام نے میزائل بناکر پورے دنیا میں بھارت کا نام روشن کیااور ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بہ شانہ کھڑاکردیا کچھ اسی طرح وہ کرنا چاہتاہے ۔ ایان مرزا کے رکشہ میں کولر بنانے کے کام کی ہر جانب سے پذیرائی ہورہی ہے اور کئی فلاحی و سماجی تنظیمیں اس کے اعلی تعلیم کے لیے مددکرنے تیارہیں۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker