ہندوستان

دواخانہ عثمانیہ کی عمارت کی معقول مرمت جلد سے جلد کی جائے

مرکزی صدر صفا بیت المال انڈیا کا حکومت سے مطالبہ
حیدرآباد:20/مئی (بی این ایس)
تاریخی و تہذیبی شہر حیدرآبا د کے قلب میں واقع تاریخی و مثالی دواخانہ عثمانیہ کی تاریخی عمارت ہماری تہذیب کا ایک حصہ ہے، دواخانہ عثمانیہ کی عمارت کی طرزِ تعمیر خود بتلاتی ہے کہ کس قدر دلچسپی اور فکرمندی سے پاکیزہ منصوبہ کے ساتھ نظام سابع میرعثمان علی پاشاہؒ نے اس کی تعمیر کی یقینا یہ تعمیر قوم و ملت اور ملک کیلئے اثاثہ ہے جس کی بقاء کی فکریں کرنا حکومت اور عوام کا اخلاقی فریضہ ہے ،اس عمارت کو اندر اور باہر سے کافی غور و خوض سے دیکھنے کے بعد ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ تاریخی عمارت کسی تعصب کا شکار ہوگئی ہے اور اسے عمدا ً نظرانداز کیا گیا ہے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرب و جوار کے طبی میدان کے افراد اس کے انہدام کے منتظر ہوں ،جبکہ اس دواخانہ سے ہزاروں غریب بیماروں کا معقول علاج روزانہ ہورہاہے اور لاکھوں غریب بیمار اس سے مستفید ہو چکے ہیں ، اس تاریخی عمارت کو قریب سے دیکھنے پر یوں محسوس ہوتا ہے کہ عمداً اس کو نظر اندازکیا گیا ہے ، اگر سابقہ حکومتیں اس کی بروقت مرمت کرتیںتو اس کی یہ حالت ِزار دیکھنے کی نوبت نہ آتی ، چند سالوں سے شہر کے فکرمند احباب نے اس عمارت کے انہدام کے خدشہ سے اس عمارت کی بقاء نیز اس کی مرمت و تزئین نو کے سلسلہ میں جو عملاً کوششیں کی ہیں اور آرکیا لوجیکل سر وے کی ٹیموں کے ذریعہ ا س عمارت کا جائزہ لینے کی جو تحریک شروع کی گئی وہ یقینا خوش آئند ہے ، اور اس ٹیم نے جو مثبت نتیجہ اخذکیا کہ اگر اس تاریخی عمارت کی معقول مرمت کی جاتی ہے اور اس کی تزئین کی جاتی ہے تو مزید پچاس سال تک یہ عمارت قابل استعمال رہے گی ، اس معتبد و مثبت رپورٹ کے بعد حکومت ِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جلد از جلد اس عمارت کی مرمت و تزئین کا آغاز کردے ، حکومت ِ تلنگانہ کے لئے غریب بیماروں کے مفاد میں۲۵ کروڑ روپئے کا یہ پروجیکٹ کوئی بڑا کام نہیں ہے ، مرکزی صدر صفا بیت المال مولانا غیاث احمد رشادی صاحب نے ہمدرد ِ قوم چندرشیکھر راو (KCR) صاحب چیف منسٹراور وزیر ِ داخلہ محمود علی صاحب سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس عمارت کے انہدام کے فیصلہ کے بجائے اس کی مرمت و تزئین ِ نو کی جانب توجہ دیں اس عمارت کی بنیادیں اور اس کی وسیع و عریض دیواریں کافی مضبوط ہیں،تاریخی عمارت ہمارا اثاثہ ہے اس کی جدید کاری ہی میں اس عمارت کے ساتھ انصاف ہے ۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker