ہندوستان

آسام شہریت معاملہ

31 جولائی تک ہر حال میں این آرسی لسٹ شائع کردی جائے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود این آرسی کے تعلق سے حکام کارویہ غیر جانبدارانہ نہیں: مولانا ارشدمدنی
نئی دہلی: 21/مئی(بی این ایس)
آسام میں شہریت کے مسئلہ کو کچھ ایسی قانونی پیچیدگیوں میں الجھادیا گیا ہے کہ متاثرین اور عام لوگوں کے سامنے نت نئی رکاوٹیں آکھڑی ہوتی ہیں یا پھر لوگوں کو پریشان کرنے کے لئے دانستہ رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں، ایک طرف تو این آرسی سے باہر کئے گئے لوگ جہاں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لئے جان توڑ جدوجہد میں مصروف ہیں وہیں دوسری طرف جن لوگوں کے نام این آرسی میں شامل ہوچکے ہیں اب آبجکشن (اعتراض)کی سہولت کا سہارالیکر ان کی شہریت کو بھی مشکوک بنانے کی کوشش ہورہی ہے اور اس میں بڑی حدتک حکام بھی متاثرین کی جگہ ان لوگوں کی مددکرتے دکھائی دے رہے ہیں جو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ریاست کے حقیقی شہریوں کی شہریت پر سوال اٹھارہے ہیں، ذرائع کے مطابق این آرسی میں شامل2لاکھ ساٹھ ہزار لوگوں کی شہریت کے دعویٰ پر کچھ لوگوں نے اعتراض درج کرایا ہے، چنانچہ اب نئے سرے سے تصدیق اور گواہی کے لئے حکام باقاعدہ نوٹس جاری کرکے انہیں ایسی جگہ طلب کررہے جو ان کے آبائی مقامات سے سودوسونہیں بلکہ پانچ پانچ اور چھ چھ سو کلومیٹر دورہے اس سے متاثرین کو تصدیق اور گواہی کے عمل کی تکمیل میں زبردست مصیبتوں کا سامنا ہے، آسام شہریت معاملہ میں مختلف محاذ پر کامیاب قانونی جنگ لڑنے والی تنظیم جمعیۃعلماء ہند نے اس سلسلہ میں متاثرین کو ہونے والی دشواریوں کو محسوس کرتے ہوئے آمسوکے ساتھ مل کر اپنے وکلاء سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل، سینئر ایڈوکیٹ اندراجے سنگھ اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فضیل ایوبی کے توسط سے سپریم کورٹ میں دوعرضیاں داخل کی تھیں، ان عرضیوں میں فاضل عدالت کو بتایا کو بتایا گیا تھاکہ جس طرح دوردراز کے مراکزپر تصدیق اور گواہی کیلئے لوگوں کو طلب کیاجارہا ہے اس سے نہ صرف انہیں سخت دشواریوں کاسامنا ہے بلکہ وہ یکسوئی کے ساتھ تصدیق وگواہی کے عمل کو پورا کرنے میں خودکو لاچاروبے بس بھی محسوس کررہے ہیں اس لئے اس عمل کو آسان بنایا جانا چاہئے اور گواہی وتصدیق کے لئے لوگوں کو ان کے اپنے آبائی علاقوں کے مراکز پر ہی طلب کیاجانازیادہ مناسب اور بہترہوگا،اورساتھ ہی ساتھ کپل سبل نے یہ کہا کہ شرپسند عناصر آبجکشن فائل کرکے لوگوں کو پریشان کررہے ہیں اور فرقہ پرست عناصرکے سازش کے تحت لوگوں کے سے سادے کاغذات پر دستخط کراکے آبجکشن فائل کررہے ہیں جس کا ثبوت جمعیۃعلماء ہند کے پاس ہے اور سپریم کورٹ میں داخل کردیا گیا ہے،تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک ایک آدمی کی طرف سے ہزاروں لوگوں کے خلاف آبجکشن کیا گیا ہے اس دھاندلی کاواضح ثبوت یہ ہے کہ 30دسمبر 2018 کوصرف چھ ہزارلوگوں کے خلاف آبجکشن تھا اور اچانک 31دسمبر 2018کی رات تک دولاکھ ساٹھ ہزارلوگوں کے خلاف آبجکشن داخل کردیا گیا،کیا چوبیس گھنٹے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد آبجیکشن کا داخل ہونا ممکن ہے؟ عدالت میں جب وکلا ء نے یہ اعتراض کیا کہ لوگ سیکڑوں میل سے اپنے آبجکشن کی تاریخ پر پہنچتے ہیں لیکن آبجکشن کرنے والانہیں پہنچتاہے، جس سے لوگوں کو پریشانی ہورہی ہے اس پر کورٹ نے اسٹیٹ کوآڈینیٹر پرتیک ہزیلا سے کہا کہ قانون کے مطابق اس معاملہ کو بسہولت حل کیا جائے لیکن این آرسی کی آخری تاریخ 31جولائی 2019ہی ہوگی۔
جمعیۃعلماء ہند اور مختلف تنظیموں کی طرف سے سپریم کورٹ میں ان لوگوں کے متعلق نظرثانی کی اپیل داخل کی تھی جن لوگوں کو فارن ٹریبونل نے غیر ملکی قراردیاتھا، واضح رہے کہ فارن ٹربیونل کے ذریعہ فارنرقراردیئے جانے کے بعد یہ لوگ گوہاٹی ہائی کوٹ گئے تھے لیکن گوہاٹی ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ جس کو فارنر ٹربیونل نے فارنرقراردیدیا ہے اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہوسکتی ہے لیکن سپریم کورٹ نے اس فیصلہ کوبرقراررکھتے ہوئے ایک سہولت بھی دی ہے کہ اگر کسی فارنرکانام این آرسی میں آگیا ہے تو اس پر فارن ٹربیونل کو دوبارہ غورکرنا چاہئے۔
اس عرضی پر چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس اے آرنریمن کی دورکنی بینچ نے سماعت کی تھی اور عدالت نے سماعت کے دوران اسٹیٹ کوآڈینیٹر مسٹر پرتیک ہزیلاسے پوچھا تھاکہ کیوں نہ کم سے کم تکلیف دیتے ہوئے لوگوں کی گواہی اور تصدیق کا عمل ان کے اپنے ضلع اور تحصیل میں مکمل کرایاجائے اس پر مسٹر پرتیک ہزیلانے جواب دیاکہ جن کے خلاف خاندانی شجرہ (Family Tree)کولیکر اعتراضات ہیں اس کے لئے ہماری کوشش ہے کہ گواہی اور تصدیق کا بندوبست مقامی تحصیل یا اسی سرکل میں کیاجائے اس پر فاضل عدالت نے اپنا حکم جاری کرتے ہوئے انہیں یہ ہدایت کی کہ درخواستوں میں جو گزارشات کی گئیں ہیں ان کو نظرمیں رکھتے ہوئے لوگوں کو حتی الامکان سہولت فراہم کی جائے اور کم سے کم فاصلہ پر طلب کرکے تمام کارروائیاں مکمل کی جائیں، قابل ذکر ہے کہ شہریت کی دفعہ 141 کے تحت یہ آزادی فراہم کی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی شہریت پر اعتراض کرسکتاہے اس دفعہ کولیکر جمعیۃعلماء ہند کے وکلاء نے عدالت میں سخت اعتراض کیا تھا اور دلیل دی تھی کہ بعض لوگ محض ذاتی دشمنی میں بھی اس آزادی کا فائدہ اٹھاکر کسی کی شہریت پر اعتراض اٹھاسکتے ہیں اس لئے اعتراض غلط ثابت ہونے پر اس دفعہ میں سزاکا بھی التزام ہونا چاہئے تاکہ کسی پختہ ثبوت کے بغیر کوئی کسی کی شہریت پر اعتراض اٹھانے کا حوصلہ نہ کرسکے مگر تب عدالت نے اس درخواست کو نامنظورکردیا تھا اور اب اسی آزادی کا فائدہ اٹھاکر کچھ لوگوں نے ذرائع کے مطابق دو لاکھ ساٹھ ہزار لوگوں کی شہریت پر سوال کھڑاکردیا ہے۔
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس قانونی پیش رفت پراپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ سے اب گواہی اور تصدیق کے عمل میں لوگوں کو قدرآسانی میسر ہوجائے گی تاہم انہوں نے آبجیکشن کے نام پرہونے والی اس سنگین دھاندلی پرسخت افسوس کااظہارکیا اور مطالبہ کیا کہ آبجیکشن کرنے والے اگر وقت پر نہیں پہنچتے تو ان کے آبجکیشن کے کلیم کو ختم کردیا جائے اور یہ بھی کہا کہ ریاست کے حقیقی شہریوں کے تعلق سے متعلقہ حکام کا رویہ غیر جانبدارانہ نہیں ہے چنانچہ وہ لوگوں کو مدداور سہولت فراہم کرنے کی جگہ ان کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند نے بہت پہلے دفعہ 141کے تحت دی گئی آزادی کے تعلق سے جس خدشہ کا اظہارکیا تھا بالآخر سچ ثابت ہوا اس آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے بعض لوگوں نے ایسے لوگوں کی شہریت پر دوبارہ اعتراض کھڑاکردیا ہے جو اپنی شہریت پہلے ہی ثابت کرچکے ہیں اور جن کا نام این آرسی میں شامل ہوچکا ہے مگر اب ایسے لوگوں کو نوٹس جاری کرکے تصدیق اور گواہی کیلے جس طرح ریاست کے دوردراز علاقوں میں طلب کیاگیا ہے وہ حکام کے عدم تعاون رویہ کو ظاہر کردیتاہے انہوں نے کہا کہ ان لوگوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو انتہائی غریب اور غیر تعلیم یافتہ ہیں انہیں سفراور دیگر مصارف کو لیکر سخت دشواریاں درپیش ہیں، انہوں نے کہا کہ امید افزابات یہ ہے کہ عدالت نے آج ان لوگوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی باضابطہ ہدایت جاری کردی ہے اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ اعتراض کا شکارہوئے یہ تقریبا دو لاکھ ساٹھ ہزار لوگ گواہی اور تصدیق کے اس نئے عمل سے بھی سرخروہوکرباہر نکلیں گے،مولانا مدنی نے آخرمیں کہاکہ آسام میں دفعہ 141کے تحت دی گئی آزادی کا غلط استعمال ہورہا ہے ایسے میں ریاستی حکومت بالخصوص اسٹیٹ کوآڈینیٹر کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس دفعہ کا غلط استعمال آگے نہ ہوتاکہ اس سے پیداہونے والی دشواریوں سے لوگ محفوظ رہ سکیں۔قابل ذکر ہے کہ صدرجمعیۃعلماء آسام مولانا مشتاق عنفر این آرسی کے کام کو شروع ہی سے دیکھ رہے ہیں عدالتی کارروائی کے دوران جمعیۃعلماء آسام اپنی ریاستی یونٹوں کے ساتھ موجودرہتے ہیں
آج جنترمنتر پر صبح گیارہ بجے سے ایک بجے تک جمعیۃعلماء ہند کے تعاون سے آمسواور مختلف حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس کو لے کر دھرنا دیا اور اپنے مطالبات کامیمورنڈم ہوم سکریٹری، رجسٹرارجنرل آف انڈیا اور جوائنٹ ہوم سکریٹری کو سونپا ہے، جس میں اس بات کا مطالبہ کیاہے کہ سپریم کورٹ کی ایس اوپی میں یہ ہدایت لکھی ہوئی تھی کہ آبجکٹر کا نام مع مکمل پتہ درج ہونا چاہے اور یہ بھی ہونا چاہئے کہ اس نے کس بنیادپر آبجکشن کیا ہے، لیکن یہاں حکام کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے سپریم کورٹ کی ہدایت کونظرانداز کرتے ہوئے آبجکٹرکے نام و پتہ کے بغیرآبجکشن کو قبول کرلیا ہمارا مطالبہ ہے کہ آبجکشن کے کام کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے اور اگر آبجکشن کرنے والا حاضرنہیں ہوتاہے تو اس کے آبجکشن کو ختم کردیا جائے اور سپریم کورٹ کے ہدایت کے مطابق ان آرسی کے تمام امورکو مکمل کیاجائے۔آمسوکے لیڈران نے اسٹیٹ کوآڈینیٹر پرتیک ہزیلا کے طریقہ کارپر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت کے باوجود اسٹیٹ کوآڈینیٹر اس پر عمل نہیں کررہے ہیں ایسا محسوس ہوتاہے کہ اسٹیٹ کوآڈینیٹر کورٹ کی ہدایت کی جگہ اسٹیٹ حکومت کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔
فضل الرحمن قاسمی: پریس سکریٹری جمعیۃعلماء ہند: 9891961134

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker