مضامین ومقالات

کذب بیانی کی تاریک مہم سے روشنی کی امید ؟

ڈاکٹر سلیم خان
انتخابی مہم اور کذب بیانی کے درمیان چولی دامن کا ساتھ بہت پرانا ہے مگر ۲۰۱۹؁ نے اسے بامِ عروج پر پہنچا دیا ۔ اس سے قطع نظر کہ کس جماعت کو کتنی کامیابی ملے گی یہ الیکشن تہمت بازی کے لیے یاد کیا جائے گا کیونکہ خود ملک کا وزیراعظم اپنے عہدے کے وقار کو داوں پر لگا کر اس کی کمان سنبھالے ہوئے تھا ۔ عام آدمی جھوٹ کو برا سمجھ کر اس پر بادلِ ناخواستہ کذب گوئی میں مبتلا ہوتا ہے لیکن سیاستداں اس کو بہترین اسلحہ کے طور پر بصد شوق استعمال کرتے ہیں مثلاً اکشے کمار نے جب مودی جی سے پوچھا کہ آپ اپنی آمدنی میں سے ماں کو کیا دیتے ہیں تو وہ بولے میں کچھ نہیں دیتا الٹا آج بھی میری ماں مجھے سوا روپئے دیتی ہے۔ اس پر کئی سوال پیدا ہوگئے کہ مودی کی والدہ ہیرا بین کے پاس چونی کا سکہ کہاں سے آتا ہے کیونکہ اس کا استعمال کب کا بند ہوچکا ہے اور مودی اس چونی کو جمع کرکے کیا کرتے ہیں۔ اس بیچ ایک ویڈیو وائرل ہوگیا جس میں ان والدہ ایک قیمتی تحفہ اپنے ہونہار بیٹے کو تھما رہی ہے اور اس کے اوپر ۵۰۰ کا کڑک نوٹ پھڑ پھڑا رہا ہے۔ شاید مودی جی کے نزدیک اس ۵۰۰ کی اہمیت سوا روپئے سے زیادہ نہ ہو یا پھر وہ جھوٹ بولنے کے عادت سے مجبور ہوں۔ مودی جی اسی ویڈیو میں یہ بھی کہہ دیا کہ وہ بچپن سے اپنے کپڑوں کو خود استری کرتے تھے اور وزیراعلیٰ بننے سے پہلے تک اپنے کپڑے ازخود دھوتے بھی تھے ۔ اس پر انڈین ایکسپریس کی وہ خبر شائع کردی گئی جس میں ۲۰۱۷؁ کے اندر ان کے دھوبی چاند عبدالسلام کے موت کی خبر دی گئی تھی۔ وہ ۱۹۷۰؁ کی دہائی میں گودھرا قیام کے دوران ان کی خدمت کیا کرتا تھا۔
اس مہم نے یہ ثابت کردیا کہ نت نئے جھوٹ گھڑ کر پھیلا نا مودی جی کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔ وہ دھڑلے سے اس لیے جھوٹ بولتے ہیں کہ انہیں پتہ لوگ مان لیں گے ۔ اس کی مثال آنجہانی راجیو گاندھی سے متعلق پھیلائے جانے والے جھوٹ کا پٹارہ ہے جس میں ہر روز ایک اضافہ ہوجاتا ہے۔ سب سے پہلے انہیں ایک نمبر کا بدعنوان کہا گیا ۔ یہ الزام بوفورس کے حوالے سے لگایا گیا ۔ اس بابت حقیقت یہ ہے کہ بوفورس کا معاملہ دہلی کی عدالت عالیہ نے خارج کردیا تھا۔ اس کے خلاف بی جے پی عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرسکتی تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ۔ راجیو گاندھی کی موت کے بعد بی جے پی کو مرکز میں ۶ سال حکومت کا موقع ملا لیکن اس نے ان گڑے مردوں کو اکھاڑنے کی زحمت نہیں کی ۔ مودی جی نے تقریباً ۵ سال قبل اقتدار سنبھالا اور اس سے پہلے ۶ ماہ تک انتخابی مہم چلائی لیکن انہیں بوفورس کی یاد نہیں آئی تو سوال یہ ہے کہ اچانک یہ بدعنوانی ابھی کیوں یاد آگئی جبکہ اٹل جی کارگل کی آڑ میں الیکشن جیت چکے ہیں۔ اس جنگ میں بوفورس توپوں کی بہترین کارکردگی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ رافیل کی دلالی میں مودی جی کے ہاتھ اگر کالے نہیں ہوتے تو انہیں بوفورس کی یاد نہیں آتی ۔اس معاملے کو اچھال کر وزیراعظم نے وہ کالک اپنے چہرے پر پوت لی ہے۔ وہ بھی مجبور ہیں اس لیے کہ رافیل معاملہ دن بدن خطرناک موڑ لے رہا ہے۔ا یک تازہ سماعت کے دوران جسٹس جوزف نے جب حکومت کی پیروی کرنے والے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ آپ پرشکایت کے بعد ایف آئی آر درج کرنے کی آئینی پابندی ہے یا نہیں؟‘‘ اس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ شکایت میں حقیقت کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ اس کے بعد ہی ایف آئی آر کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ رافیل بدعنوانی کسی سڑک یا پل کی تعمیر کے خلاف کی جانے والی شکایت نہیں ہے۔ وینو گوپال کی بات درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس پر تفتیش کو ٹالنے کی وجہ کیا ہے؟ اس سے قبل اسلحہ کی خرید میں بدعنوانی کی نہ صرف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے بلکہ مقدمہ بھی چل چکا ہے اور فیصلے آچکے ہیں ۔
رافیل بدعنوانی کے معاملے میں برخواست شدہ مقدمہ کے خلاف پچھلے سال اکتوبر میں کی شکایت کی گئی تھی۔ اس کو پانچ ماہ کا طویل عرصہ گزر چکا ہے ۔ سرکار اس پر ایف آئی آر تک لکھنے کی روادار نہیں ہے ۔ جسٹس جوزف نے ایف آئی آر پر اصرار کرتے ہوئے للت کماری کیس کا حوالہ دیا جس کے فیصلے کی روُ سے پولس یا سی بی آئی کو ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کرنی چاہیے اور اگر بظاہر اس میں سچائی نہ ہو تو رپورٹ لکھ کر معاملہ بند کردینا چاہیے ۔ اس بابت جب جسٹس جوزف نے سوال کیا کہ ہندوستان کی جانب سے رافیل سے مول بھاو کرنے والےماہرین کی ٹیم کے تین ارکان نے جب مودی حکومت کے سودے پر ۸ صفحات کے اپنے اعتراض میں لکھا کہ یہ گزشتہ یو پی اے حکومت کے معاہدے سے بدتر ہے تو سرکار نے کیا اقدامات کیے؟ اس کے جواب میں وینو گوپال بولے کہ ان اعتراضات پر گفتگو ہوچکی ہے اور معاہدےکو مناسب ترمیم کرکے سلجھا دیا گیا تھا اور اس کا ریکارڈ موجود ہے۔ یہ سن کر جسٹس جوزف نے ریکارڈ پیش کرنے کا مطالبہ کردیا ۔
سرکاری وکیل وینو گوپال نے اس پر ناراضگی جتاتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ عدالت کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے کیونکہ وہ مسروقہ دستاویز پر انحصار کررہی ہے۔ اس مرحلے میں جسٹس گوگوئی کو مصالحت کرانی پڑی ۔ وینو گوپال کسی غلطی کی بنیاد پر نومبر کے فیصلے پر نظر ثانی نہیں ہوسکتی ۔ اس پر پرشانت بھوشن نے اس غلطی کو واضح کیا کہ جو سی اے جی کی جو رپورٹ فروی میں پیش ہوئی اس کی بنیاد پر نومبر میں سنایا جانے والا فیصلہ کیونکر درست ہوسکتا ہے۔ اس بحث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے وزیر اعظم کو بوفورس کی یاد کیوں ستا رہی ہے۔ راجیو گاندھی کے تعلق سے دورا جھوٹ یہ گھڑا گیا کہ انہوں نے بحری فوج کے جنگی جہاز آئی این ایس وراٹ پر اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیا ں منائیں۔ یہ کذب بیانی کئی طرح سے بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن گئی ۔
اول تو اس وقت کے سبکدوش ریٹائرڈ وائس ایڈمرل ونود پسریچا نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئےصاف کردیا کہ وہ کوئی نجی نہیں بلکہ سرکاری تقریب تھی۔ اس اجلاس میں پوری کابینہ موجود تھی اور ان کی حفاظت کرنا بحریہ کی ذمہ داری تھی ۔ ونود پسریچا کے بعد لکشدیپ میں منتظم رہے وجاہت حبیب اللہ نے اس تفصیل کے ساتھ اس جھوٹ کی پول کھول دی کہ اگر کوئی غیرتمند انسان ہوتا تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرتا۔ انہوں نے بتایا آئی این ایس وراٹ پر سرکاری میٹنگ تھی اور نیوی کا تحفظ اس تک محدود ہے۔ اجلاس کے بعد راجیو گاندھی پون ہنس کے ہیلی کاپٹر سے بنگا رام گئے اور وہاں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ کچھ دن قیام کیا ۔ اس دوران امیتابھ بچن اور جیا بچن بھی ساتھ تھے۔اس سفر کا خرچ اور گیسٹ ہاوس کا کرایہ راجیو گاندھی نے سرکاری خزانے سے نہیں اپنی جیب سے ادا کیا تھا۔ اس کا ثبوت حکومتی ریکارڈ میں موجود ہے اور بچن خاندان اس کا گواہ ہے۔
یہ معاملہ ابھی سرد بھی نہیں ہوا تھا کہ بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس سمترا پر اداکاراکشے کمار کے ساتھ پی ایم مودی کی تصاویر ذرائع ابلاغ میں آگئیں ۔ مودی جی کا یہ بھکت کناڈا کی شہریت کا حامل ہے ۔ ایک طرف تو سبرامنیم سوامی راہل گاندھی کو برطانوی شہری ٹھہرا کر عدالت عظمیٰ میں منہ کی کھاتے ہیں اور دوسری جانب مودی جی ایک غیر ملکی اکشے کمار کو اپنے ساتھ لے کر فوجی جہاز پر لےجاتے ہیں ۔ ایک زمانے میں عامر خان نے ہندوستان چھوڑنے کے ارادہ ظاہر کیا تو مودی بھکتوں نے ہنگامہ کردیا تھا مودی سے نجی انٹرویو لینے کا پاکھنڈ کرنے والا سب بڑا بھکت کناڈا کی شہریت لے چکا ہے۔ اس دوران ایک آر ٹی آئی میں انکشاف ہوا کہ مودی جی نے اپنی مدت کار میں جنوری ۲۰۱۹؁ تک ۲۴۰ مرتبہ ہوائی دستے کے ہیلی کاپٹرس غیر دفتری کاموں کے لیے استعمال کیے۔ بی جے پی نے اس کا انکار نہیں کرسکتی کیونکہ اس نے ایک کروڈ چالیس لاکھ کرایہ ادا کیا ۔ اس ثبوت کو مٹایا نہیں جاسکتا ۔ ان اسفار میں سے ۱۵ جنوری ۲۰۱۹؁ کے بالنگیر سے پتاچیرا کے ایک سفر کا کرایہ محض ۷۴۴ روپئے ادا کیا گیا ۔ فروری کے بعد سے مودی جی اپنی پارٹی کی تشہیر کے لیے ان ہیلی کاپٹرس کا استعمال جس بے دریغ انداز میں کررہے ہیں انہیں جوڑ دیا جائے تو بات نہ جانے کہاں پہنچ جائے گی ؟
بی جے پی کی تازہ ترین بہتان تراشی یہ ہے کہ سکھوں کے خلاف فساد میں راجیو گاندھی کےملو ث ہونے کی تصدیق ناناوتی کمیشن نے کی ہے۔ اس بابت حقیقت بالکل برعکس ہے لیکن بھکت اس جھوٹ پر بھی ایمان لے آئے۔ ناناوتی کمیشن نے اس الزام کو مسترد کیا ہے اور لکھا ہے کہ راجیوگاندھی نے فساد زدہ لوگوں سے ملاقات کی تھی اور پولس کو مستعدی کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی تھی ۔ سکھوں کے خلاف جو تشدد ہوا اس پر سونیا گاندھی سے لے کر راہل تک سبھی معافی مانگ چکے ہیں۔ سکھوں کی باز آبادکاری کا کام بڑے پیمانے پر ہوچکا ہے اور کانگریسی رہنما سجن کمار کو اس کے لیے عمر قید کی سزا ہوچکی ہے ۔ کانگریس نے اس کی مدافعت نہیں کی اور جس طرح بی جے پی نے گجرات کے فسادیوں کو بچانے کی کوشش کی ایسا کانگریس نے نہیں کیا۔ مودی کو گجرات فسادات کا ملزم ٹھہرا کر راج دھرم نبھانے کی تلقین تو خود بی جے پی کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کرچکے ہیں نیز یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج تک اس قتل عام پر مودی نے نہ تو کسی ندامت کا اظہار کیا اور نہ معافی مانگی۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ شیش محل میں رہنے والے دوسروں کی جانب پتھر نہیں اچھالتے ۔
اس رویہ جب مودی جی کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا تو وہ اپنے خلاف لگائے الزامات کا پٹارہ کھول کر ہمدردی بٹورنےلگے اور گالیوں بھرے القاب کی طویل فہرست پیش کردی۔ اس بارے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ انہیں ان مغلظات سے راہل گاندھی نے نہیں بلکہ کانگریسیوں نے نوازہ ہے۔ اس کااگر مودی بھکتوں کے جواب سے موازنہ کیا جائے تو وہ بہت آگے ہیں اس لیے حساب تو کب کا برابر ہوگیا۔ اس کے بعد خود مودی جی کا راہل سے آگے بڑھ کر ان کے والد پر کیچڑ اچھالنا صرف اور صرف کم ظرفی ہے۔ راہل تو دور کانگریسیوں نے بھی مودی جی کے والدین کی بابت کوئی بری بات نہیں کی۔ جسودھا بین تو خیر ہمدردی کی مستحق ہیں اور انہیں اس پر اعتراض بھی نہیں ہے ۔ مودی بھکت اس پر ناراض ہوتے ہیں کیونکہ جسودھا بین کے ساتھ حق تلفی کرنے والا کوئی اور نہیں خود ان کا چہیتا رہنما ہے جس پر مصطفیٰ شہاب کا یہ شعر ( مع ترمیم و معذرت) صادق آتا ہے ؎
وہ سچ سے گریزاں ہے، نہ جھوٹ پہ نادم ہے وہ سچ پہ پشیماں ہے اور جھوٹ پر آمادہ
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker