ہندوستان

لوک سبھا انتخابات شکست سے سبق لیتے ہوئے ایک جامع ہندوستان کی تعمیر کے لیے کوشش کریں

نئی دہلی:23/مئی (بی این ایس)
پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی مرکزی سیکریٹریٹ نے لوک سبھا انتخابات کے رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی اتحاد کو ملی کامیابی ہندوستان کی سیکولر سیاست کی مکمل شکست کا پتہ نہیں دیتی۔ بلکہ یہ رجحانات ایک زبردست فرقہ وارانہ پروپگنڈے کی کامیابی اور آر ایس ایس-بی جے پی کی حکمت عملی کے مقابلے میں مناسب قدم اٹھا پانے میں سیکولر پارٹیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ اجلاس نے اس جانب اشارہ کیا کہ ان ناکامیوں کے باوجود، ایک جامع سیکولر جمہوری اور سماجوادی ملک ہونے کا ہندوستان کا نظریہ بہرحال برقرار رہے گا۔
ہر محاذ پر ایک ناکام حکومت ثابت ہونے کے باوجود، بی جے پی کی فتح اس معاملے کی باریک بینی سے جائزہ لینے کا تقاضا کرتی ہے۔پانچ سالوں کی عوام مخالف حکمرانی کے بعد بھی ہندوستانی سماج کے ایک قابل غور طبقے کی حمایت حاصل کرنے میں بی جے پی کو ملی کامیابی سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ترقی کے مدّوں پر فرقہ وارانہ نفرت کی جیت ہے۔ یہ بات بھی قابل التفات ہے کہ سیکولر پارٹیوں نے 2014 کی غلطیاں پھر سے دہرائیں اور اپنے آپسی اختلافات، خودغرضی اور لیڈران کی باہمی انانیت سے اوپر اٹھ کر مشترکہ طور پر انتخابی لڑائی نہیں لڑی۔ دوسری جانب، زمینی سطح پر فرقہ وارانہ مہم چلا کر این ڈی اے نے تقریباً تمام علاقائی پارٹیوں کو اپنے خیمے میں شامل کرنے کی پوری کوشش کی۔ یوپی اور دہلی جیسی ریاستوں میں اگر اپوزیشن پارٹیوں نے آپس میں لڑنے کے بجائے ایک دوسرے سے ہاتھ ملالیا ہوتا، تو نتائج کچھ اور ہی ہوتے۔ ستم ظریفی یہ کہ انتخابات کے نتائج آ جانے کے بعد اب جاکر انہوں نے ایک نئے ’سیکولر جمہوری فرنٹ‘ کا اعلان کرکے عظیم اتحاد تشکیل دینے کا قدم اٹھا یا ہے۔ اب ایک بار پھر بی جے پی کو شکست دینے کی ذمہ داری صرف اور صرف اقلیتوں پر ڈال دی گئی ہے، جبکہ سیکولر طاقتوں نے کئی حلقوں میں ایک دوسرے کے سامنے آکر خود اقلیتوں کو ہی مشکل میں ڈال دیا تھا۔
اجلاس نے یاددہانی کراتے ہوئے کہا کہ ان نتائج سے ہر ایک کی آنکھیں کھلنی چاہئیں۔ جمہوریت تبھی برقرار رہ سکتی ہے جب ایک جوابدہ حکومت اور ایک ذمہ دار اپوزیشن وہاں موجود ہو۔ ان دونوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ عوام کے حقوق اور آئینی و جمہوری اقدار کی حفاظت کریں۔
فرقہ وارانہ سیاست کا ہمیشہ شکار رہنے والے طبقات جو حکومت میں تبدیلی چاہتے تھے، انہیں ہرگز مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ مظلوم اور پسماندہ طبقات کو چاہئے کہ وہ ملک کے تمام مثبت فکر رکھنے والے عناصر کے ساتھ مل کر اپنی تقویت کی کوششیں لگاتار جاری رکھیں۔
ملک و عوام کو مطلق العنانیت، سرمایہ دارانہ نظام اور فرقہ پرستی کے شکنجوں سے محفوظ رکھنے کے مستقل حل کے لیے فکر و عملی طور پر ایک سیاسی طاقت اور قیادت کو ابھر کر آنے کی ضرورت ہے۔ پاپولر فرنٹ آئین ہند میں مذکور یکساں انصاف اور حقوق کے حصول کے لیے عوام کی سیاسی تقویت کے اپنے عزم کو ایک بار پھر دہراتی ہے۔

ایم محمد علی جناح
جنرل سکریٹری،
پاپولر فرنٹ آف انڈیا

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker