آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

روزہ عبادت ہے نہ کہ عادت

آج کا پیغام - 20 رمضان المبارک، 26 مئی

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

 

روزہ ایک اہم عبادت ہے اور روزہ کا مقصد خواہشات نفس کو دبانا ہے تاکہ تقوی کی صلاحیت پیدا ہوسکے ۔ رمضان عبادت، ذکر، تلاوت، اور زہد و تقوی کا ایک عالمی موسم اور جشن عام ہے ۔ اس مہینہ میں پورے اسلامی معاشرہ پر نورانیت،روحانیت اور سکینت کا ایک وسیع شامیانہ سایہ فگن ہوجاتا ہے ۔ جو لوگ روزہ کے معاملہ میں ذرا سست اور کاہل ہوتے ہیں وہ بھی عوام الناس سے علیحدگی کے ڈر سے روزہ رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں یا شرم سے چھپ کر کھاتے ہیں ۔

روزہ انسان کی صحت کے لئے بھی مفید ہے اور طبی نقطئہ نظر سے بھی ہر شخص کے لئے مناسب اور بہتر ہے کہ انسان سال میں کچھ دن ضرور روزہ رکھے ۔ طب و صحت کے نقطئہ نظر سے روزہ مفید ہے اس پر جدید میڈیکل نے خوب خوب ریسرچ کیا ہے کہ زیادہ کھانے پینے سے اور ہر وقت قسم قسم اور انواع و اقسام کے کھانوں کی فکر میں مبتلا رہنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طرح طرح کے جسمانی اور اخلاقی عوارض پیدا ہوجاتے ہیں ۔

لیکن روزہ کا اصل اور بنیادی مقصد حصول تقوی اور خوف خدا پیدا کرنا ہے اور روحانی و ربانی ماحول میں اپنی تربیت کرنا ہے ۔ اور اس کو عادت تقلید رواج اور رسم سے بچانے کے لئے جس کا بہت زیادہ امکان تھا کہ کہیں عبادت پر عادت کا غلبہ نہ ہوجائے اور بہت سے لوگ محض اپنی سوسائٹی اور ماحول کا ساتھ دینے اور طنز و ملامت سے بچنے کے لئے اور اس ڈر سے کہ کہیں ان پر انگلیاں نہ اٹھائ جائیں روزہ رکھنے پر مجبور ہوں گے اس لئے اس فتنہ کے سد باب کے لئے یہ شرط بھی لگا دی کہ وہی روزہ مقبول ہوگا جو ایمان و احتساب کے ساتھ رکھا جائے ۔

اسلام نے روزہ کی صرف ظاہری شکل و صورت پر ہی توجہ نہیں کی بلکہ اس کی روح اور اس کی حقیقت پر بھی بہت زور دیا ۔ اس نے نہ صرف کھانے پینے اور جنسی تعلقات ہی کو حرام نہیں کیا بلکہ ہر اس چیز کو ناجائز اور ممنوع و حرام قرار دیا جو روزہ کے مقاصد کے منافی اور اس کی حکمتوں اور روحانی و اخلاقی فوائد کے لئے مضر اور نقصان دہ ہے ۔

اسلام نے روزہ کو خالص عبادت کے درجہ میں رکھا نہ کہ رسم و رواج اور عادت کے درجہ میں اس نے روزہ کو ادب و تقوی دل اور زبان کی عفت و طہارت کے حصار میں گھیر دیا اور ایمان والوں کے لئے گناہوں سے بچنے کے لیے ڈھال بنا دیا ۔

لیکن افسوس کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں نے روزہ کی اس روح اور حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، روزہ کے مقاصد کے ساتھ افراط و تفریط کا معاملہ کیا اور روزہ کے ساتھ ناانصافی کا معاملہ روا رکھا۔ جس کی وجہ سے روزہ کے یقینی اور متوقع فوائد اور برکات سے محروم ہوگئے ۔ کھانے اور افطار و سحر میں اس قدر مبالغہ اور اسراف سے کام لیا کہ روزہ کا اصل اور بنیادی مقصد ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا اور اس کی اصلاحی و تربیتی قوت بہت حد ختم ہوگئی یا کمزور پڑ گئی ۔ ( مستفاد از ارکان اربعہ مولفہ حضرت مولانا علی میاں ندوی رح )

حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ہماری ان کوتاہیوں اور کمیوں اور خامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :

پانچواں ادب یہ ہے کہ افطار کے وقت حلال غذا میں بھی احتیاط سے کام لے اور اتنا نہ کھائے کہ اس کے بعد گنجائش ہی باقی نہیں رہے ،اس لئے کہ حلق تک بھرے ہوئے پیٹ سے بڑھ کر مبغوض اللہ کے نزدیک کوئی بھری جانے والی چیز نہیں ہے،اگر روزہ دار افطار کے وقت دن بھر کی تلافی کردے اور جو دن بھر کھانے والا تھا وہ اس ایک وقت میں کھالے تو دشمن خدا پر غالب آنے اور شہوت کو ختم کرنے میں روزہ سے کیا مدد مل سکے گی؟ یہ عادتیں مسلمانوں میں اتنی راسخ اور عام ہوچکی ہیں کہ رمضان کے لئے بہت پہلے سے سامان خوراک جمع کیا جاتا ہے اور رمضان کے دنوں میں اتنا اچھا اور نفیس کھانا کھایا جاتا ہے ،جو اور دنوں میں نہیں کھایا جاتا ،روزہ کا مقصد تو خالی پیٹ رہنا اور خواہشات نفس کو دبانا ہے،تاکہ تقوی کی صلاحیت پیدا ہوسکے، اب اگر معدہ کو صبح و شام تک کھانے پینے سے محروم رکھا جائے اور شہوت اور بھوک کو خوب امتحان میں ڈالنے کے بعد انواع و اقسام کے کھانوں سے بھر لیا جائے تو نفس کی خواہشات اور لذتیں کم نہ ہوں گی اور بڑھ جائیں گی، بلکہ ممکن ہے کہ بہت سی ایسی خواہشات جو ابھی تک خوابیدہ تھیں وہ بھی بیدار ہوجائیں ،رمضان کی روح اور اس کا راز ان طاقتوں کو کمزور کرنا ہے جن کو شیاطین اپنے وسائل کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ بات تقلیل غذا یعنی کم کھانے ہی سے حاصل ہوگی۔ ( احیاء العلوم بحوالہ ارکان اربعہ ص۔ ۲۷۰۔ ۲۷۱)

مزید لکھتے ہیں :

بلکہ یہ بھی آداب میں داخل ہے کہ دن میں زیادہ نہ سوئے تاکہ بھوک پیاس کا کچھ مزہ معلوم ہو،قوی کے ضعف کا احساس ہو ،قلب میں صفائی پیدا ہو ،اسی طرح ہر شب کو اپنے معدہ کو اتنا ہلکا رکھے کہ تہجد اور اوراد میں مشغولی آسان ہو اور شیطان اس کے دل کے پاس منڈلا نہ سکے اور اس صفائی قلب کی وجہ سے عالم قدس کا دیدار اس کے لئے ممکن ہو. ( حوالہ سابق))

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker