مسلم دنیا

‘بیٹیاں بھی والدین کا نام روشن کر سکتی ہیں۔

کراچی :27/مئی(بی این ایس)
پاکستان میں خواتین کی کھیلوں میں شرکت کو آج بھی بہت سے لوگ معیوب سمجھتے ہیں۔ تاہم گزشتہ کچھ عرصے میں خواتین کرکٹ کے ساتھ ساتھ دوسرے کھیلوں میں بھی دلچسپی لے رہی ہیں۔
کراچی کے ایک کمیونٹی سنٹر میں سابق باکسر رفیع الدین خواتین کو باکسنگ کی تربیت دے کر ایک نئی مثال قائم کر رہے ہیں۔
تربیت حاصل کرنے والی ان لڑکیوں میں وردہ بھی شامل ہیں ان کی چار مزید بہنیں ہیں اور والد باکسنگ کے کھلاڑی رہے ہیں۔ وردہ اپنی کہانی خود سناتی ہیں۔
ایک دفعہ پاپا گھر پر باکسنگ کی پریکٹس کر رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا، آپ کو اتنی ٹرافیاں اور سرٹیفیکٹس ملے ہیں آپ کا نام آگے کون بڑھائے گا؟ اگر ہمارا کوئی بھائی ہوتا تو آپ اسے باکسر بناتے۔ پاپا نے جواب دیا کوئی بات نہیں میرے بہت سے شاگرد ہیں وہ میرا نام زندہ رکھیں گے۔
میں نے کہا اگر میں باکسنگ سیکھوں تو؟ پاپا نے حیرت سے دیکھا اور کہا کہ اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔
اس دن کو یاد کرتے ہوئے وردہ کی آنکھوں میں چمک نمایاں تھی۔
وردہ رفیع کی عمر اس وقت چودہ برس ہے سات سال کی عمر میں انہوں نے باکسنگ شروع کی اور تین سال تک گھر میں ہی پریکٹس کرتی رہیں۔
وردہ نے اپنے والد کو مائل کیا کہ وہ بھی باکسنگ سیکھنا چاہتی ہیں۔
وردہ کے کوچ ان کے والد ہی تھے جو سنہ 1985 میں حیدر آباد کی طرف سے باکسنگ کھیلتے آئے تھے۔ وہ تین برس تک آل سندھ باکسنگ چیمپئین رہے۔ انہوں نے باکسنگ میں طلائی تمغہ بھی جیتا لیکن پھر ایک مقابلے سے قبل ہی ان کے بازو پر گہری چوٹ آئی جس کے سبب وہ باکسنگ جاری نہ رکھ سکے، اپنے شوق کی تکمیل کے لئے انہوں نے کوچنگ شروع کردی۔
رفیع الدین اپنی اہلیہ اور پانچ بیٹیوں کے ہمراہ کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں رہتے ہیں۔ ان کے گھر میں سہولیات ناکافی ہیں لیکن وردہ، اریبہ اور باقی بہنوں میں کچھ کرنے کا جنون اور لگن نمایاں ہے۔
وردہ اور تیرہ سالہ اریبہ اپنے والد کے نام کو آگے بڑھانے کے لیے نہ صرف باکسنگ جیسے مشکل کھیل کا جنون رکھتی ہیں بلکہ وہ مستقبل میں ملک کا نام روشن کرکے لیے بھی پر عزم ہیں۔
رفیع الدین کی پانچ بیٹیاں ہیں ان کے بقول بیٹیاں بھی والدین کا نام روش کر سکتی ہیں۔
نو برس کی عمر میں باکسنگ رنگ میں اترنے والی وردہ کا پہلا مقابلہ ان کی اپنی بہن سے تھا جس میں وہ جیت گئیں جبکہ اریبہ شکست کی دلچسپ وجہ یہ بتاتی ہیں کہ احتراماً بڑی بہن پر میرا ہاتھ نہیں اٹھ رہا تھا۔ جبکہ وردہ نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا اور چھوٹی بہن سمجھ کر مجھے خوب مارا۔
اریبہ کے مطابق والد نے سمجھایا کہ مقابلے کے لیے رنگ میں اترتے ہیں تو سامنے والے سے رشتہ نہیں دیکھتے، بس جیت پر نظر رکھنا ہوتی ہے۔ اس بات کو میں نے ہمیشہ کے لئے ذہن نشین کرلیا اور اس کے بعد سے کوئی مقابلہ نہیں ہاری۔
اریبہ کو لیلیٰ علی پسند ہیں کیونکہ انہوں نے بھی عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی کا نام روشن کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سوچ کہ بیٹے ہی باپ کا نام روشن کرسکتے ہیں درست نہیں۔ ہم لڑکیاں بھی کسی سے کم نہیں اور ہم یہ ثابت کر رہی ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے رفیع الدین نے بتایا کہ جس روز ان کی بیٹی نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ باکسنگ سیکھنا چاہتی ہے تو اس بات نے ان کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔
اپنی بیٹی کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ وہ خواتین کی باکسنگ شروع کرانا چایتے ہیں جس پر سب سوچ بچار میں پڑ گئے کیونکہ اس سے قبل ایسا نہیں ہوا تھا۔
رفیع الدین کراچی میں ایک کمیونٹی سینٹر میں لڑکوں کو تو باکسنگ سکھا ہی رہے تھے لیکن لڑکیوں کے لئے باکسنگ شروع کروانا ایک دشوار مرحلہ تھا کیونکہ ماضی کے مایہ ناز باکسر حسین شاہ، صدیق جوگکے، رشید کامرانی، اصغر علی شاہ گزرے لیکن کسی نے بھی اپنی بیٹی کو باکسنگ رنگ میں نہیں اتارا تھا۔
رفیع الدین خود بھی باکسنگ کے سابقہ کھلاڑی رہ چکے ہیں۔
خواتین باکسنگ کو شروع کرنے کے لئے رفیع الدین نے انٹرنیشنل ریفری علی اکبر شاہ سے رابطہ کیا جنہوں نے اسلامی کونسل سے بات چیت کی اور یہ طے ہوا کہ خواتین باکسرز کے لئے کیا ضابط اخلاق ہوگا۔
انہیں بتایا گیا کہ ان کے کپڑے ایسے ہوں کہ بے پردگی نہ ہو اس بات کا خیال رکھتے ہوئے رفیع الدین نے ایسا ڈریس کوڈ بنایا جس میں تنقید کی گنجائش نہ رہے۔ جس میں ٹراوزر، فل شرٹس، موزے، جرسی شامل تھی۔ اس ڈریس کٹ کو اسلامی کونسل کو دکھایا گیا جسے منظوری دیدی گئی۔ یوں 2014 سے بہت سے دشوار مراحل کو عبور کرتے ہوئے خواتین کی باکسنگ کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
اس کلب میں گزشتہ چار برس سے آٹھ سے دس لڑکیاں باکسنگ کی تربیت لے رہی ہیں جن میں رفیع الدین کی دونوں صاحبزادیاں بھی شامل ہیں۔
باکسنگ کی تربیت حاصل کرنے والی خواتین کے لئے خصوصی ڈریس کوڈ منظور کروایا گیا ہے۔
یہ لڑکیاں بہت محنت سے اس کھیل کے رموز سیکھ رہی ہیں ۔ان ہی میں سے ایک میٹرک کی طالبہ زینب ہیں جو گزشتہ چار برس سے یہاں باقاعدگی سے آرہی ہیں۔ ان کی والدہ اس حق میں نہیں کہ وہ باکسنگ سیکھیں لیکن ان کے والد اس بات سے خوش ہیں۔
زینب نے بتایا کہ ان کے خاندان کے اکثر لوگ ان کی والدہ کو سمجھاتے ہیں کہ یہ کھیل لڑکیوں کا نہیں خوامخواہ اگر کوئی چوٹ لگ گئی تو کل کو لڑکی کے مستقبل پر اسکا برا اثر پڑ سکتا ہے۔ لیکن زینب کہتی ہیں کہ مجھے اس کی پرواہ نہیں مجھے یہ کھیل پسند ہے اور میں باکسنگ سے دلی سکون محسوس کرتی ہوں۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker