اسلامیاتمضامین ومقالات

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

محمد نظام الدین ندوی

الہدی اردو لائبریری چک پہاڑ سمستی پور بہار

نماز مومنوں کے لئے معراج ہے اور مومن ہر نماز میں اپنے مالک و مولی کا دیدار باطنی کرتا ہے اور حال دل سنا کر دل کے احساسات و جذبات اور اپنی بندگی و غلامی کا اظہار کھلے دل سے کر تا ہے لیکن اس کی باطنی کیفیت میں اس وقت ایک نیا نکھار پیدا ہو جاتا ہے جب رات خاموش ہو جاتی ہے ہر طرف سناٹا چھا جاتا ہے ، موسم گر ما میں رات ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگتی ہیں، میٹھی نیند انسان کو اپنی آغوش میں لے رہی ہوتی ہے اور موسم سرما میں لحاف اور گرم کپڑوں کی گرمی اپنے عروج پر ہوتی ہے ، اس وقت خالق دو جہاں آسمان دنیا پر جلوہ افروز ہوتا ہے اور اس وقت اس کی جانب سے مغفرت وعطا کی صدا لگائی جاتی ہے، ایسے وقت میں ایک بندہ خدا صرف محبت الہی سے سر شار ہوکر اور ایمانی حلاوت سے معمور ہوکر اپنی نیند کو حرام کرکے بندہ نوازی میں مشغول ہو جاتا ہے ، چونکہ اس وقت دینے والے کی طرف سے عطا و بخشش کا اعلان اور لینے والے بندہ کی طلب صادق کا ایسا امتزاج ہوتا ہے جس کی حلاوت اور جاشنی سے وہی لطف اندوز ہو سکتا ہے جو اسکی لذت سے آشنا ہو اس لئے اس وقت بند ہ اللہ سے جو کچھ بھی مانگتا ہے اس کو نواز دیا جاتا ہے ۔اور اس کے علاوہ ایک گنہگار بندہ جو ہر طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو وہ بھی جب اپنے گناہوں سے تائب ہو کر ندامت و حسرت کے آنسوں بہاکر بارگاہ عفود درگزر میں حاضر ہو تا ہے تو اسے بھی اپنی خلوص نیت کی وجہ سے ایسا احساس ہو تا ہے کہ ابھی ابھی وہ ایک صاف و شفاف چشمہ سے نہا کر اپنے سارے گندگیوں کو دھو کر اور مشک عنبر سے معطر ہونے کے بعد غفور و رحیم آقا کے دربار عالیشان سے کچھ دولت گرانما یہ لے کر واپس ہو رہا ہے اس کی آنکھوں میں چمک اور چہروں پر دمک ہوتی ہے اس کا چہرہ خوشی و مسرت سے چمک رہا ہوتا ہے اس کی آنکھوں میں فراست ایمانی کی جھلک بخوبی دیکھی جا سکتی ہے اس کی مو منانہ نگاہ میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ اس سے تقدیریں بھی بدل جا یا کرتی ہیں۔

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا

نگاہ مر د مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

علامہ اقبال نے دنیا و آخرت کی کامیا بی کو آہ سحرگاہی پر منحصر کرتے ہوئے درج ذیل شعر میں تاریخ کی چند نمایاں شخصیتوں کو بطور نمونہ پیش کیا ہے ۔

عطار ہو ، رومی ہو ، رازی ہو غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ایسے بے شمار تہجد گزار بندے گزرے ہیں اور ہماری تاریخ و سیر کی کتابوں میں بھی ایسی شخصیتوں کے آہ سحر گاہی اور گر یہ وزاری ، اپنے خالق و مالک سے محبت و شیفتگی ، خوف و خشیت کے ایسے سچے واقعات ملتے ہیں جن سے ہر دور کا مسلمان عبرت حاصل کرکے اپنے مستقبل کو سنوار سکتا ہے ویسے بھی امت مسلمہ کا ماضی اتنا تا بناک اور در خشاں ہے کہ ہر مسلمان اس پرغور کرکے آگے بڑھنا چاہے تو ہر دور میں اس سے اس کو رہنمائی ملتی رہے گی۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے تم رات کے قیام کو یعنی نماز پڑھنے کو اپنے اوپر لازم کرو ، کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ رہا ہے اور اس سے تمہارے رب کا قرب حاصل ہوتا ہے ، گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے اور اس سے گناہوں سے اجتناب کی توفیق ملتی ہے ۔خصوصا جو علوم نبوبت کے پاسبان و حامیلین ہیں اور جن سے عوام کی امیدیں وابستہ ہیں اور جن کو پوری امت مسلمہ کی قیادت سنبھالنی ہے ۔ جنہوں نے اپنا میدان عمل دعوت و تبلیغ کو بنایا ہے ، جنہوں نے اس علم نبوت کی خدمت کے لئے اپنے کو وقف کر دیا ۔ جن کو لوگ نمونہ اور اسوہ کی حیثیت سے دیکھتے ہیں ، ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ پنجگانہ نمازوں کے علاوہ اپنے آپ کو تہجد گزاری کا پابند بنالیں ، کیونکہ حضور ﷺ کو اس نماز کا حکم دیا گیا ، تاکہ دن کا وقت چونکہ تبلیغ اسلام اور دوسرے کاموں میں مصروفیت کا ہو تا ہے اسلئے اس میں اتنی دلجمعی کے ساتھ عبادت مشکل ہے اسلئے رات میں دربار الہی میں حاضر ہوکر سکون دل حاصل ہو جب ایک انسان ساری دنیا سے نا امید ہو جاتا ہے اور کسی معاملے میں ہر جگہ اس کو ٹھکرایا جاتا ہے تو وہ پھر ساری دنیا سے کٹ کر یاد الہی میں مشغول ہوجاتا ہے ، اس وقت اس کی ایسی کیفیت ہوتی ہے جس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں اور اللہ تعالی بھی نظرکرم فرماتے ہیں اور پھر اس طرح اس کے دل کواطمینان و سکون نصیب ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالی سورہ مزمل میں اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ سے خطا ب کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ـ’’اے کپڑوں میں لپٹنے والے رات کو کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی سی رات یعنی نصف رات یا اس نصف سے قدر ے کم کرو یا نصف سے کچھ بڑ ھا دو اور قر آن کو صاف صاف پڑھو ہم تم پر ایکبھاری کلام ڈالنے کو ہیں ، بیشک رات کو اٹھنے میں دل اور زبان کا خوب میل ہوتا ہے اور بات خوب ٹھیک نکلتی ہے، بیشک تم کو دن میں بہت کام رہتا ہے اور اپنے رب کا نام یاد کرتے رہو اور سب سے قطع تعلق کرکے اس کی طرف متوجہ رہو، وہ مشرق اور مغرب کا مالک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسلئے اسی کو کار ساز بنالو اوریہ جو باتیں کر تے ہیں ان پر صبر کرو اور خوبصورتی کے ساتھ ان سے الگ ہو جائو۔ مذکورہ بالا آیتوں سے تہجد گزاری کے چند فوائد سامنے آتے ہیں ۔ (۱) اللہ تعالی کا اپنے بندوں سے خصوصی محبت و شفقت سے مخاطب ہو تا ہے ۔ (۲) رنج و غم دور ہو جاتے ہیں ۔ (۳) رب کے حضور آہ و زاری سے دلوں کی سختی کم ہوتی ہے ۔ (۴) دلوں کی سیاہی مٹتی ہے ۔ (۵) قرآن میں غورو تدبر کا اچھا موقع ملتا ہے ۔ (۶) فرض منصبی کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے ۔ (۷) دعوت کی راہ آسان ہوتی ہے ۔ (۸) نفس امارہ کو زیر کرنا ممکن ہو جاتا ہے (۹) زبان و دل میں ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے ۔ (۱۰) بات میں تاثیر پیدا ہو جاتی ہے ۔ (۱۱) خدا کی تعریف کرنے کے لئے یکسوئی حاصل ہو جاتی ہے ۔ (۱۲) سب سے کٹ کر صرف اللہ تعالی کے ہونے کا اچھا موقع ملتا ہے ۔(۱۳) دعوت کی راہ میں لعن طعن ، تلخ کلامی اور الزام تراشی کو برداشت کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ (۱۴) اور اپنے سارے معاملات اللہ کو سپرد کرکے انسان کے اندر خود اعتمادی سے بڑھ کر خدا اعتمادی پیدا ہو تی ہے ۔

ایک دوسری آیت میں اللہ تعالی نے اس تہجد کے بدلے اپنے حبیبﷺ سے مقام محمود کا وعدہ فرمایا ہے لہذا ایک بندہ تہجد گزاری کے بدلے حشر کے دن دیدار الہی اور جنت میں اعلی مقام سے ضرور سر فراز ہو گا۔آج خصوصاّ علماء کرام کو اس نماز کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ، اس لئے کہ وہ عوام و خواص کے لئے نمونہ ہیں ، اس لئے بھی کہ عوام سے باتیں کرتے ہوئے ان کی باتوں میں تاثیر پیدا ہو گی ۔

 

عطار ہو ، رومی ہو ، رازی ہو غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker