مضامین ومقالات

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم

ذوالقرنین احمد چکھلی مہاراشٹر
ملک عزیز میں پھر ایک بار فرقہ پرست پارٹی بی جے پی نے لوک سبھا انتخاب میں اپنی طاقت کے بل بوتے پر بلکہ اقلیتوں میں خوف و دہشت کا‌ ماحول پیدا کرکے، اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ۲۰۱۴ میں کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے بعد ملک میں کھلے عام فرقہ وارانہ ماحول بنایا گیا۔ اور فرقہ پرست عناصر نے گئو ہتیہ کے نام پر مسلمانوں کو ماب لنچنگ، کا نشانہ بنایا۔ جس میں اپوزیشن نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ گھروں میں گھس کر اقلیتی برادریوں پر حملے کرکے خوف زدہ کیا گیا۔ نوجوانوں اور خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شریعت میں مداخلت کی گئی۔ بابری مسجد کے مسلے کو بارہا اچھالا گیا۔ فرقہ پرست لیڈروں نے اس پر خوب سیاست کی۔ ہندؤں کو متحد کرنے کی کوشش کی گئی آخری دم تم بابری مسجد رام مندر کا معاملہ اجاگر کیا گیا۔ جبکہ معاملہ سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔
۲۰۱۹ میں پھر سے شدت پسند فرقہ پرست پارٹی بی جے پی جو آر ایس ایس کی سیاسی جماعت ہے۔ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک کی معیشت کو برباد کردیا گیا۔ جمہوریت کو کھوکھلا کردیا گیا۔ مہنگائی اور کرپشن، نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ نوٹ بندی کے غیر منصوبہ بند فیصلہ نے کئی جانے گنوا دی۔ خواتین عدم تحفظ کا شکار ہوئی۔ جو لوگ خواتین کو انصاف دلانے کی بات کررہے تھے اسی پارٹی کے لیڈران جو اکثر یو پی سے تعلق رکھتے ہیں۔ خواتین کی عصمت دری کے مجرم قرار دیے گئے۔ لیکن ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اب پھر سے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ ملک میں اقلیتی برادری میں ایک عجیب خوف کا ماحول دیکھنے مل رہا ہے۔ کہ اب بی جے پی مسلمانوں پر ظلم کرینگی، شریعت کے خلاف قانون بنائی گئی۔ مسلمانوں کو پریشان کرینگی۔ وغیرہ وغیرہ، مسلمانوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی کے اقتدار میں آجانے سے مسلمان ختم تو نہیں ہوجائے گے۔ ظالم حکومتیں پہلے بھی گزریں ہے چند سال رہی اور ہمیشہ کیلئے اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اسلام عرب میں اجنبی تھا۔ دھیرے دھیرے اسلام کی دعوت جد وجہد اور مسلسل کوششوں سے مکہ فتح ہوا۔ اور وہاں ساری دنیا میں دین اسلام پھیل گیا۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور انکے جان نثار صحابہ کرام نے صرف دعائوں پر انحصار نہیں کیا انھوں نے زمینی سطح پر کام کیا۔ مخالفین سے خوف زدہ ہونے کے بجائے بے سروسامانی میں انکا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ کسی جنگ میں شکست ہونے پر یا فتح ہونے پر اسباب پر یقین نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ پر یقین کامل رکھتے ہوئے اسباب کو اختیار کیا۔ بہت تھوڑے عرصے کے اندر مکہ فتح کرلیا گیا اور اسکے بعد بھی خلفاء راشدین کی دور‌میں بھی یہ سلسلہ نہیں روکا۔ بلکہ شہادتوں کا قافلہ آگے بڑھتا رہا۔اور عرب و عجم اسلام کی روشنی سے منور ہوا۔
آج ملک کے مسلمان بے وجہ فضول باتوں میں باطل طاقتوں سے خوف زدہ ہورہے ہیں۔ میں کہتا ہوں ظالم طاقتیں کا خوف اس وقت تک رہتا ہے جب تک اس سے خائف ہونے والے موجود ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان فرقہ پرست عناصر کو نظر انداز کر‌نا شروع کردے‌۔ تو باطل کا دبدبہ اور خوف خود بخود ختم ہوجائے گا۔ وہ ذلیل ہوکر رہ گا۔ مسلمان بزدل نہیں ہوسکتا۔ شریعت جان مال عزت خاندان کی حفاظت کرتے ہوئے مرنے والے کو تو شہید کا درجہ حاصل ہے۔ وہ مرتے کہا ہے وہ تو زندہ جاوید ہوجاتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہیں کہ ایک روز مرنا ہے۔ تو کیوں ڈر و خوف کے سائے میں جیے۔ بلا خوف خطر ظالم طاقتوں کا مقابلہ کریں۔ اپنے حقوق کیلئے عملی اقدامات کریں۔ ملک کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔
مسلمان کہے رہے ہیں بی جے پی کے آجانے سے ملک کے مسلمان خطرے میں ہے۔ کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے۔ کہ باطل طاقتوں پر ہمارا بھروسہ اللہ سے بڑھ کر ہے نعوذ باللہ، ڈر و خوف کس بات کا حکومتیں بنتی بگڑتی رہتی ہے۔ بی جے پی سے کئی زیادہ نقصان تو کانگریس کے دور میں مسلمانوں کو ہوا ہیں۔ نوجوانوں کو جھوٹے الزامات میں جیلوں کی زینت بنایا گیا۔ مختلف علاقوں میں فسادات کروائے گئے۔ جانی مالی نقصان سے دوچار کیا گیا۔ پرموشن حاصل کرنے کیلئے نوجوانوں کا‌ انکاؤنٹر کروایا گیا۔ لیکن آج بھی مسلمان اپنے شریعت وقار پر قائم ہے۔ کسی کی کیا وقعت ہے کہ وہ مسلمانوں کو شریعت پر چلنے سے روکے‌۔ مسلمانوں کے ذہن ایسے ہو چکے ہیں کہ شریعت پر عمل کرنے تیار نہیں لیکن جان دینے کے لئے تیار ہیں۔ ہمارا یقین اللہ پر ہونا چاہیے کسی پارٹی کسی جماعت پر نہیں۔ جو ہونگا اللہ کے حکم سے ہوگا۔ ایک دو لنچنگ کے معاملات ہوجانے سے‌ مسلمانوں کو خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تمام ایسی فرقہ پرست جماعتوں کو یہ کھل کر کہے دیں کے تم سے جو ہوتا کرلو ہم ملک میں برابری کے حق کے ساتھ سر اٹھا کر جیے گے۔ کسی کے سامنے ہم نہیں جھونکنے والے۔
اگر مسلمان یہ سمجھتے ہے کہ ظلم کیا جایگا تو پھر ایسے حالات کے مقابلے کیلئے تیار رہے۔ خود کو تیار کریں گھر والوں کو تیار کریں ہر مشکل سے مشکل تقاضے پر اٹھ کھڑے ہوجائے۔ لیکن یہ سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر ہی کرنا ہوگا۔ ورنہ وسائل پر بھروسہ کر کے بیٹھ جانا بھی بے وقوفی ہے۔ ہم نے ہر دور میں باطل طاقتوں کو شکست فاش دی ہے۔ یہ ہماری ہی بے فکری اور دین اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اپنے ملک میں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ موت کا ایک دن معین ہے۔ تو ڈرنے کی اور گھبرانے کی ضرورت کیا ہے۔ ٹیپوسلطان رحمت اللہ علیہ نے سچ کہا تھا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker