آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

صدقہ فطر روزہ میں نقص و کمی کی تلافی کا ذریعہ ہے

آج کا پیغام - 26 رمضان، یکم جون

 

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

 

صدقہ فطر در اصل روزہ میں واقع ہونے والی کوتاہی اور نقص و کمی کی تلافی اور غرباء کو عید الفطر کے موقع پر اپنی خوشی و مسرت میں شریک کرنے کا ذریعہ ہے، اسی لئے ہر صاحب نصاب پر یہ صدقہ فطر واجب ہے ۔

مذہب اسلام اور شریعت اسلامی کا مزاج یہ ہے کہ جب بھی کوئ عید و تہوار اور خوشی و مسرت کا موقع آئے تو صرف امیروں اور مالداروں کے دولت کدہ اور محلوں ہی میں خوشی و مسرت اور فرحت و شادمانی کا چراغ اور قمقمے نہ جلے بلکہ غریبوں محتاجوں اور ناداروں کے غربت کدہ اور جھونپڑیوں میں بھی خوشی و مسرت کی روشنی پہنچے اور قمقمے جلے ۔ اسی لئے شریعت میں ہر ایسے موقعہ پر سماج کے غریب اور محتاج افراد کو یاد رکھنے اور اپنی خوشی میں شریک کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ اسی لئے بقرعید کے موقع پر بھی قربانی میں ایک تہائی حصہ غریبوں کا حق قرار دیا گیا ہے ۔ ولیمہ کے بارے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جس ولیمہ میں سماج کے امیر لوگوں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نظر انداز کر دیا جائے وہ بدترین ولیمہ ہے ۔

غرض اسلام نے عید الفطر کی خوشی میں غرباء اور مساکین کو شریک کرنے کے لئے اور روزے میں پیش انے والی کمیوں اور کوتاہیوں کی تلافی اور بھر پائ کے لئے صدقئہ فطر کو ہر صاحب نصاب پر لازم قرار دیا ہے ۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد و عورت پر صدقہ فطر کو فرض کیا ہے ،جو ایک صاع کجھور یا جو ہونا چاہئے ( بخاری ،۱۵۱۱) صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اہتمام سے صدقہ فطر ادا کرتے تھے ( بخاری شریف ۱۵۰۶)

روایت میں آتا ہے عمرو بن شعیب حدیث کے راوی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک شخص کو مکہ بھیجا کہ مکہ کے گلی کوچوں میں اعلان کردے کہ صدقئہ فطر واجب ہے ۔ (ترمذی جلد ، ۱ باب ما جاء فی صدقة الفطر)

زکوة ہی کی طرح صدقة الفطر نکالنے کا حکم ہجرت کے دوسرے سال آیا ۔ اور جیسا کہ بتایا گیا اس کا ایک مقصد محتاج اور غرباء کی مدد کرنا ہے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ روزوں میں جو کمی اور کوتاہی رہ گئی ہو اس صدقہ کے زریعہ اس کی تلافی ہوجائے ۔

یہ حقیقت ہے کہ روزہ دار روزہ کی حالت میں اگر چہ مجسم نیکی اور تقوی و طہارت کی کیفیت میں ہوتا ہے اس کے مادی جسم میں ملکوتی یعنی فرشتوں جیسی روح پیدا ہوجاتی ہے وہ جھوٹ ،بدگوئ، لا یعنی،چغلی ،بدکلامی ایذا رسانی اور حق تلفی اور ہر طرح کی برائیوں سے دور رہتا ہے یا کم از کم دور رہنے کی کوشش اور اس کے لئے جدوجہد کرتا ہے ۔ لیکن پھر بھی وہ انسان ہے فرشتہ نہیں، اور انسان خطا و چوک اور لغزش کا مرکب و مجموعہ ہے اس لئے ہزار کوششوں کے باوجود اس سے غلطیاں اور لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں ۔ زبان سے بے ہودہ اور لا یعنی باتیں نکل ہی جاتی ہیں اس لئے قدرتی طور پر روزوں کا بالکل بے داغ اور ہر نقص و عیب اور کمی و کوتاہی سے پاک رہنا ممکن نہیں ۔ اسی لئے اللہ تعالی نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زریعہ سے روزہ داروں کو اس طرح کے داغ دھبوں سے پاک و صاف کرنے کے لئے صدقئہ فطر کو ادا کرنے کا حکم دیا ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوة فطر مقرر فرمائ کہ لغو اور بے ہودہ کلام سے روزہ کی طہارت ہوجائے اور مساکین کے خورد و نوش کا انتظام ہو جائے ۔

ویسے فطر کے معنی روزہ افطار کرنے اور کھولنے کے ہیں، رمضان المبارک کے روزوں سے فراغت کے بعد اللہ تعالی نے اپنے مسلمان بندوں پر ایک صدقہ لازم کیا ہے ، جسے ۰۰صدقہ فطر۰۰ کہا جاتا ہے ،بعض علماء اور اہل علم نے صدقئہ فطر کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ۰۰ فطر۰۰ کے معنی خلقت اور ذات کے ہیں، گویا یہ آدمی کی ذات اور نفس کا صدقہ ہے ۔ ۰۰صدقئہ فطر ۰۰ کی تعبیر اسلامی ہے ،اس لئے علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے :

ھی لفظة مولدة لا عربیة ولا معربة بل ھی اصطلاحیة للفقھاء ( العمدة للعینی ؛ ۹/۱۰۷) یعنی یہ عربی زبان میں ایک نیا لفط ہے ،نہ عربی ہے اور نہ معرب بلکہ فقہاء اسلام کا اصطلاحی لفظ ہے ۔علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ۔۔ اسلامی لفظ ۔۔ کہنا زیادہ بہتر ہے ۔

۰۰صدقہ فطر۰۰ کے دوسرے نام بھی ہیں، لیکن وہ سب زیادہ مشہور و معروف نہیں ہیں ۔ جیسے زکوة الفطر ،زکوة رمصان،زکوة الصوم، زکوة الابدان،صدقة الصوم اور صدقة الروؤس وغیرہ ۔

اگر غور کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اسلام کا جامع اور مانع تعارف صرف ایک جملہ میں کرایا جائے، جس سے اسلامی تعلیمات و ہدایات کا خلاصہ اور نچوڑ سامنے آجائے تو میرے حساب سے وہ تعبیر اور جملہ یہ ہوسکتا ہے کہ مذھب اسلام کا خلاصہ خالق کی عبادت اور مخلوق کی خدمت ہے۔

سچائ یہی ہے کہ اسلامی تعلیمات و ہدایات میں سب سے زیادہ زور ان ہی دو چیزوں پر ہے ،اگر تمام عبادتوں کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اس کی گہرائ و گیرائ میں جائیں گے نیز اس کے اسرار و رموز کا باریک بینی سے مطالعہ کریں گے تو معلوم ہوگا کہ انسانی زندگی کا حاصل اور مقصد تخلیق انسانیت کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ بندہ خدائے وحدہ لا شریک کے سامنے جین نیاز خم کردے، اس کے حکموں کے آگے سر تسلیم خم کردے ۔ ارشاد باری تعالٰی ہے وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون ہم نے انسانوں اور جناتوں کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔

لیکن اس کے ساتھ اللہ تعالی نے مخلوق کی خدمت اور انسانیت کے کام آنے کو بہت اونچا مقام بتایا اور حکم دیا کہ جہاں جہاں ( زیادہ تر مقامات پر) عبادت میں نقص اور کمی واقع ہو جائے وہاں کفارہ، فدیہ اور ہرجانے کے طور پر غلام آزاد کرے یا ساٹھ یا کہیں دس مسکین کو کھانا کھلائے وغیرہ ۔

یہی وجہ ہے کہ قسم ،ظہار ،ایلاء اور روزہ کے کفارہ میں مخلوق کی خدمت و نصرت ان کے گردن کو آزاد کرانے کو عبادت و معاشرت میں کمی کی صورت میں کفارہ قرار دیا گیا ہے ،اسی طرح حج کے بعض اعمال میں کوتاہی اور زیادتی کی صورت میں دیت کو لازم کیا گیا ہے، جس کا مقصد بھی مخلوق کی خدمت ہی ہے ۔

صدقہ فطر کی تہہ میں اور اس کے وجوب و فرضیت کی حکمت میں بھی خلق خدا کی خدمت ہی پیش نظر ہے ۔

ان تفصیلات کے بعد اب ہم اپنے قارئین کی خدمت میں ۰۰صدقئہ فطر ۰۰ کے بعض ضروری احکام و مسائل کو بیان کر رہے ہیں تاکہ استحضار رہے اور وقت ضرورت مسائل بیان کرنے میں کام آئے ۔

پہلا سوال یہ ہے کہ صدقہ فطر کن لوگوں پر واجب ہے ؟ اس سلسلہ میں حکم شریعت یہ ہے کہ بنیادی ضروریات کے علاوہ جو بھی مسلمان نصاب کے بقدر مالک ہوگا اس پر صدقئہ فطر واجب ہوگا ،خواہ وہ مسافر ہو یا مقیم، مرد ہو یا عورت،نابالغ ہو یا بالغ ۔

فقہاء کرام صدقئہ فطر کے وجوب کے سلسلہ میں اس حدیث شریف کو اپنا مستدل بناتے ہیں ۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مکہ کی گلیوں میں ایک منادی بھیجا کہ اعلان کر دے کہ آگاہ ہو جاو ! ہر مسلمان پر صدقئہ فطر واجب ہے خواہ مرد ہو یا عورت ،آزاد ہو یا غلام چھوٹا ہو یا بڑا ۔ ( ترمذی ،باب ما جاء فی صدقة الفطر )

صدقہ فطر مالداروں پر واجب ہے اور غرباء اس کا مصرف ہیں ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب اس سلسلہ میں لکھتے ہیں :

مال دار سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کے پاس اپنی بنیادی ضروریات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکان کپڑے، گھر کا ضروری سامان ،استعمال کی سواری وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔ کے علاوہ کوئ چیز نصاب زکوة کی قیمت کی موجود ہو، زکوة اور صدقة الفطر میں بنیادی فرق یہ ہے کہ زکوۃ کچھ مخصوص مالوں ہی میں واجب ہوتی ہے ،یعنی: سونا چاندی ،مال تجارت، بعض جانور اور زرعی پیداوار، اگر کسی کے پاس ڈھیر ساری زمینین ہوں ،کئ مکانات ہوں، مگر بیچنے کے لئے نہیں رکھے گئے ہوں تو ان میں زکوة واجب نہیں ہوگی ،لیکن صدقة الفطر کے لئے مخصوص اموال کا ہونا ضروری نہیں، کوئ بھی مال نصاب زکوة کی قیمت کا موجود ہو تو صدقة الفطر واجب ہو جائے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کہ جس شخص کے پاس دولت نہ ہو اس پر صدقئہ فطر واجب نہیں؛ لا صدقة الا عن ظھر غنی،شریعت نے دولت مندی کا معیار نصاب زکوة کے بقدر مال کو قرار دیا ہے.

 

یکم شوال المکرم یعنی عید الفطر کی صبح صادق کے وقت جو مسلمان زندہ ہو اور ضرورت سے زائد ایسے نصاب کا مالک ہو جس پر زکوة واجب ہو جاتی ہے، یا اس کے گھر میں روز مرہ کے استعمال کی چیزوں سے زائد ایسا سامان ہو جو ساڑھے باون تو چاندی برابر (۳۵/ ۶۱۲ گرام ) یا ساڑھے سات تو سونا برابر ( ۴۷۹/ ۸۷ گرام) کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو پھر اس پر صدقہ فطر واجب ہے، خواہ اس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے ہوں یا نہ رکھے ہوں ۔ غیر روزہ دار پر بھی صدقئہ فطر واجب ہے کیونکہ وجوب صدقئہ فطر کے لئے محض مسلمان ہونا شرط ہے، نہ کہ روزہ رکھنا بھی،اس لئے کہ روزہ مستقل فریضہ ہے اور صدقئہ فطر الگ مستقل واجب ہے ۔ پس روزہ نہ رکھنے کا گناہ ہوگا اور صدقہ فطر نکالنے سے اس کے ذمہ سے ایک وجوب ساقط ہو گا اور اس کا ثواب اس کو ملے گا ۔ البتہ روزہ کی قبولیت اور اس کی کمی کی تلافی کا مقصد حاصل نہ ہونا ظاہر ہے لیکن اس کے علاوہ صدقہ فطر کے ثواب اور فوائد ان شاءاللہ حاصل ہوں گے ۔

صدقة الفطر اپنی طرف سے اور نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے، بالغ لڑکے ،لڑکیاں، بیوی ،اس کے زیر پرورش چھوٹے بھائ بہن اور والدین کی طرف سے صدقة الفطر ادا کرنا واجب نہیں ہے لیکن ہندوستانی سماج اور معاشرہ میں بیوی اور شوہر کا مال ملا جلا ہوتا ہے اور بالغ لڑکے جب تک ماں باپ کی کفالت میں ہوتے ہیں اور تعلیم وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں، تو ان کی بھی ساری ذمہ داریاں گھر کا ذمہ دار اور مکھیہ خود ہی انجام دیتا ہے ،یہی حال ان چھوٹے بھائی، بہن اور والدین کا ہے جن کی کفالت گھر کا کوئ مرد انجام دیتا ہو، اس لئے بہتر ہے کہ ان سب کی طرف سے بھی صدقة الفطر ادا کیا جائے ۔ جس غلام کو اپنی خدمت کے لئے رکھا جائے نہ کہ بیچنے کے ارادہ سے ہو اس کا صدقئہ فطر نکالنا بھی مالک پر ضروری ہے ۔ آج کے زمانہ میں گھر میں خادم اور خادمہ رکھنے کا رواج عام ہے یہ اگر چہ غلام نہیں ہوتے ۔ خادم ہوتے ہیں لیکن یہ بھی انسان کو وہی سہولت اور آرام پہنچاتے ہیں جو اس زمانہ میں غلام پہنچایا کرتے تھے اس لئے بہتر ہے کہ ان کی طرف سے بھی صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے اگر واجب نہ بھی ہو تو باعث اجر و ثواب ضرور ہوگا ۔

صدقہ فطر کے مصارف بھی تقریبا وہی ہیں جو زکوة کے مصارف ہیں، جن لوگوں کو زکوة نہیں دی جاسکتی ،ان کو صدقة الفطر بھی نہیں دیا جاسکتا،البتہ اس اعتبار سے ایک فرق ہے کہ زکوۃ غیر مسلم کو نہیں دی جاسکتی ،صدقئہ فطر ان کو بھی دیا جاسکتا ہے ۔ ( بدائع الصنائع :۲/۴۹ / )

ملک کے موجودہ حالات میں جہاں ہندو مسلم منافرت میں دن بدن شدت اور اضافہ ہوتا جارہا ہے ،دوریاں بڑھتی جارہی ہیں، فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے اور یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ مسلمان صرف اپنے لئے سوچتا اور جیتا مرتا ہے دوسروں کے لئے اس کے مال میں کوئ جگہ نہیں ہے۔۔۔۔ جو سراس غلط تصور ہے، تو اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے اور وقت اور حالات کے پیش نظر اس منافرت کو کم کرنے کے لئے اگر کہیں صدقة الفطر کے مد سے غیر مسلم حضرات کی بھی تالیف قلب کے لئے نصرت کر دی جائے تو یہ بہت ہی حکمت اور دانشمندی کی بات ہوگی،اور ایک بہتر اور مناسب قدم ہوگا ۔

صدقة الفطر ادا کرنے کا بہترین اور مسنون وقت عید کے دن عید کو جانے سے پہلے ہے،لیکن اگر پہلے بھی یعنی رمضان میں بھی ادا کردے تو ادائیگی ہو جائے گی بلکہ بعض علماء نے حسن انتظام کے لئے اس کو افضل کہا ہے ۔

بسا اوقات باہر رہنے والے لوگوں کی طرف سے ان کے عزیز و اقارب اور رشتہ دار صدقئہ فطر ادا کرتے ہیں، اس میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ باضابطہ صریح اجازت لی جائے ۔ اگر گپیوں ادا کر رہا ہے تو عمدہ گپیوں ۱ کلو چھہ سو گرام ادا کرے اور اگر قیمت ادا کر رہا ہے تو جہاں آدمی رہ رہا ہے وہاں کی قیمت کے لحاظ سے مقدار گپیوں کی قیمت ادا کرے اور اگر ہندوستان میں قیمت زیادہ ہو تو یہاں کی قیمت ادا کرے اس میں فقراء کا فائدہ زیادہ ہے.

 

جو آدمی زکوة لینے کا مستحق ہے ،اسے فطرہ دینا بھی جائز ہے ۔ صدقہ فطر کے مستحق پاس پڑوس، گاوں اور شہر میں رہنے والے فقراء اور مساکین ہیں، تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں ،بعض لوگ غریبوں کو دینے کے بجائے مدرسہ میں دیتے ہیں، جہاں عید کے بعد بلکہ اس سے پہلے (غریب) کو رخصت رہتی ہے، عید کے بعد جب وہ مدرسہ آتے ہیں تو ان کو پہنچتا ہے، یہاں بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، اگر چہ ذمہ دار کو دے دینے سے ادائیگی ہوجاتی ہے، لیکن یہ طریقہ اختیار کرنا زیادہ بہتر نہیں ہے ۔ بعض لوگ خیرات فنڈ کو صدقہ فطر دے دیتے ہیں، جو غرباء پر خرچ کرنے کے علاوہ خیراتی کاموں میں بھی اس رقم کو خرچ کرتے ہیں ۔ اسی طرح بعض مدارس میں مدات کی رعایت نہیں ہوتی اور یہ رقم عمارت میں خرچ ہو جاتی ہے ،ان تمام صورتوں میں صدقئہ فطر کی ادائیگی مشکوک ہوکر رہ جاتی ہے ،اس لئے احتیاط اور مقصد کی رعایت کرنا ضروری ہے ۔

ایک فقیر کو ایک صدقئہ فطر دینا مستحب اور بہتر ہے، البتہ کم دینا بھی جائز ہے اور زیادہ دینے کی بھی گنجائش ہے ۔ ( فتاوی رحیمیہ ۸/۲۴۷)

غیر مسلم محتاج اور فقیر کو صدقہ فطر دینا کیا جائز ہے؟ صحیح قول کے مطابق غیر مسلم (ہندو،عیسائ،یہودی وغیرہ) کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں ہے، بلکہ صدقہ فطر ادا ہی نہیں ہوگا،احناف میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول عدم جواز کا نقل کیا گیا ہے اور حاوی قدسی کے حوالے سے اسی پر فتوی نقل کیا گیا ہے، اور امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو اختیار کیا ہے ۔علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو صحیح قرار دیا ہے ۔ غرض اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ صدقہ فطر غیر مسلم کو دینا جائز نہیں ہے ۔ لیکن کیا حالات کے پیش نظر اور تلیف قلب یعنی غیر مسلم بھائیوں کی دلجوئ کے لئے دینا جائز ہے یا نہیں؟ تو اس سلسلے میں علماء کرام اور فقہاء عظام کی رائیں الگ الگ ہیں، جمہور علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ تالیف قلب کا مصرف ساقط نہیں ہوا ہے بلکہ اب بھی باقی ہے اس لئے اس طور پر یہ رقم غیر مسلم کو بھی وقت ضرورت دے سکتے ہیں ۔ پس اگر موجودہ دور میں تالیف قلب کی واقعی ضرورت پڑے (بلکہ واقعی ضرورت ہے ) تو علماء اور اہل افتاء کے مشورے اور رائے سے غیر مسلم کو بھی مصلحتا صدقئہ فطر دینا درست ہوگا ۔

صدقہ فطر کی مقدار کی تفصیلات خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادی دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اسی متعینہ مقدار کو صدقئہ فطر کے طور پر نکالتے تھے ۔

صدقہ فطر کی مقدار کی تفصیلات یہ ہیں ۔ اگر گیہوں دیا جائے تو نصف صاع اور اس کے علاوہ دوسری چیز مثلا جو، کھجور اور کشمش میں ایک صاع دینا واجب ہے ،آج کے رائج اوزان کے لحاظ سے ایک صاع کا وزن تین کلو ایک سو انچاس گرام،دوسو ملی گرام ( ۲۸۰_۱۴۹-۳) ہے ۔ اور اس کا آدھا ایک کلو پانچ سو چوہتر گرام،چھ سو چالیس ملی گرام۔۔۔۔۔( ۶۴۰، ۱۵۷۴) نصف صاع کا وزن ہے ۔صدقہ فطر میں گاوں، قصبہ یا جو قریبی بازار ہو،وہاں کی قیمت سے صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے، شہر والے شہر کی منڈی کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کریں گے ۔ اگر آدمی گہیوں دے رہا ہے تو اسے نصف صاع یعنی ایک کلو چھ سو گرام احتیاطا نکالنا واجب ہے ۔ بعض علماء نے پونے دو کلو لکھے ہیں وہ بھی احتیاط پر مبنی ہے ۔ اگر قیمت دے دے تو بھی کوئ حرج نہیں ہے، لیکن عام بازاری قیمت ہونی چاہئے، کنٹرول کی قیمت سے ادا کرنا درست نہیں، اس لئے کہ اس قیمت سے فقیر بازار سے نصف صاع نہیں خرید سکے گا ۔ ( مستفاد فتاوی رحیمیہ: ۵/ ۱۷۱)

آج ہم مسلمان صرف گہیوں ہی سے نصف صاع کی قیمت صدقئہ فطر میں نکالتے ہیں کیونکہ یہ سستا پڑتا ہے اور اس کی قیمت کم ہوتی ہے جبکہ چاہئے یہ تھا کہ صدقہ فطر کے طور پر جن اجناس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تذکرہ کیا ہے اور آپ جس طرح کجھور اور کشمش سے صدقہ فطر نکالتے تھے ہم کو بھی ان اجناس کی قیمت کے اعتبار سے بھی صدقہ فطر ادا کرنا چاہئے خاص طور پر جو زیادہ متمول اور مالدار ہیں ان کو تو ضرور اس کا خیال رکھنا چاہیے کیوں کہ یہ انفع للفقراء ہوگا ۔ گہیوں کے سلسلہ میں نصف صاع اور ایک صاع دونوں طرح کی روایات کتب حدیث میں موجود ہے اس لئے کبھی کبھی ایک صاع گیہوں کی قیمت بھی ادا کرنا زیادہ بہتر ہوگا تاکہ اس حدیث پر بھی عمل ہوجائے اور فقراء کا بھی فائدہ زیادہ ہو جائے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم زیادہ تر کھجور اور کشمش سے صدقئہ فطر ادا کرتے تھے کیونکہ حجاز میں گہیوں کی پیداوار نہیں ہوتی تھی حجاز میں گیہوں شام اور یمن سے ایکسپورٹ کیا جاتا تھا ۔ اس لئے جن غذائی اشیاء کو صدقہ فطر کا معیار بنایا گیا تھا ان میں گیہوں سب سے زیادہ قیمتی چیز تھی اس لئے دوسری چیز ایک صاع مقدار میں واجب قرار دی گئیں اور گہیوں نصف صاع ۔ لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے ۔

اس لئے خاکسار کی رائے یہ ہے کہ جن لوگوں پر صدقہ فطر واجب ہے ان میں سے جو زیادہ متمول ہیں یا بڑے تاجر ہیں ان کو کجھور اور کشمش کی قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنا چاہئے اور جو ان سے کم درجے کے ہیں ان کو بھی نصف صاع گیہوں کے بجائے ایک صاع گہیوں کی قیمت صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے تاکہ تمام روایات پر عمل ہو جائے ۔ یہی رائے استاد محترم جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی بھی ہے ۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker