آج کا پیغاماخبارجہاںبرجستہبلاگجہان بصیرت

واقعہ شراب نوشی حضرت ابو شحمہ کی حقیقت

 

 

واقعہ شراب نوشی حضرت ابو شحمہ کی حقیقت

از: محمد اختر رضا مصباحی وطن عزیر راجمندر خرد عرف برگدہی پوسٹ سیالدہ عرف کولدہ مہراج گنج اتر پردیس۔

*سوال:* یہ واقعہ جو عوام میں مشہور ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو کوڑے مارے اور باقی کوڑے قبر پر بھی مارے۔ اس کے بارے میں بتائیں نوازش ہوگی۔
*سائل:* عبد القادر برکاتی، غازی پور اتر پردیس۔
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*الجواب:* حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے حضرت ابو شحمہ کے متعلق واقعہ جس تفصیل کے ساتھ مشہور ہے کہ انھوں نے شراب نوشی کی، نشے کی حالت میں زنا سرزد ہوا، اس زنا سے ناجائز بچہ پیدا ہوا، وہ عورت حضرت عمر فاروق اعظم کی بارگاہ میں شکایت لے کر آئی، پھر حضرت عمر نے سو کوڑے مارنے کا حکم دیا، ابھی اَسِّی(۸۰) کوڑے لگے تھے کہ ان کی وفات ہو گئی، باقی کوڑے ان کی لاش یا قبر پر مارے گئے۔ -العیاذ باللہ- کتب تاریخ و تراجم و سیرت میں اس قدر جو کچھ تفصیل ملتی ہے اسے علماے متقدمین و متاخرین نے موضوع اور من گڑھت کہا ہے، اس واقعہ کو بعض قَوَّال اور جاہل قصےباز بڑی بے باکی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ اس واقعہ کے بارے میں اسلاف کے اقوال حسب ذیل ہیں:
*امام جورقانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:* هذا حديث موضوع باطل، وإسناده منقطع، وسعيد بن مسروق هذا والد سفيان الثوري، وإن كان الكندي فهما متأخران من أصحاب الأعمش، وابن أبي ليلى، والشعبي، وإبراهيم التيمي. وهذا الحديث وضعه القصاص، فمن لم يتبحر في العلوم خفي عليه أن عمر رضي الله عنه جلد ابنا له يقال له: أبو شحمة بسبب الزنا، فنعوذ بالله من الكذب والبهتان والنفاق والخذلان. اھ (الاباطیل و المناکیر)
*امام ابن جوزی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:* هذا حديث موضوع، وضعه القصاص، وقد أبدوا فيه وأعادوا، وقد شرحوا وأطالوا۔اھ ۔۔۔ هذا حديث موضوع. كيف روي ومن أي طريق نقل؟ وضعه جهال القصاص ليكون سببا في تبكية العوام والنساء، فقد أبدعوا فيه وأتوا بكل قبيح ونسبوا إلى عمر ما لا يليق به، ونسبوا الصحابة إلى ما لا يليق بهم، وكلماته الركيكة تدل على وضعه، وبعده عن أحكام الشرع يدل على سوء فهم واضعه وعدم فقهه۔اھ (الموضوعات)
*امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:* موضوع فيه مجاهد عن ابن عباس في حديث أبي شحمة ليس بصحيح. وقد روى من طريق عبد القدوس بن الحجاج عن صفوان عن عمر وعبد القدوس كذاب يضع وصفوان بينه وبين عمر رجال والذي ورد في هذا ما ذكره الزبير بن بكار وابن سعد في الطبقات وغيرهما أن عبد الرحمن الأوسط من أولاد عمر ويكنى أبا شحمة كان بمصر غازيا فشرب ليلة نبيذا فخرج إلى السكر فجاء إلى عمرو بن العاص فقال أقم على الحد فامتنع فقال له أخبر أبي إذا قدمت عليه فضربه الحد في داره ولم يخرجه فكتب إليه عمر يلومه ويقول ألا فعلت به ما تفعل بجميع المسلمين فلما قدم على عمر ضربه واتفق أنه مرض فمات.اھ (اللآلي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة)
اقوال سلف سے ثابت ہوا کہ مذکورہ واقعہ جس طرح عوام میں مشہور ہے وہ موضوع اور بے بنیاد ہے۔ ہاں! البتہ کتب معتبرہ میں اتنا ذکر ضرور ملتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے صاحبزادے حضرت ابو شحمہ نے مصر میں نبیذ پیا جو نشہ آور نہ ہو تو شرعًا حلال ہے، لیکن پینے کے بعد انھیں نشہ آ گیا، جب نشہ جاتا رہا تو خود حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس حاضر ہوئے اور حد جاری کرنے کا مطالبہ کیا، حضرت عمرو بن عاص نے انکار کیا، انھوں نے کہا کہ میں اپنے والد حضرت عمر فاروق اعظم کو خبر دوں گا، حضرت عمرو بن عاص نے مجبورًا گھر کے اندر ہی ان پر حد جاری کیا، حضرت عمر فاروق اعظم کو جب یہ خبر ہوئی تو آپ ناراض ہوئے، حضرت عمرو بن عاص کو خط لکھا کہ: عام مسلمانوں کی طرح علانیہ حد کیوں نہیں جاری کیا، جب ابو شحمہ مدینہ آئے تو آپ نے انھیں تادیبًا مارا، جس کی وجہ سے وہ بیمار ہو گئے، تقریبًا ایک ماہ بعد وفات پا گئے۔
*امام ابن عبد البر علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:* و عبد الرحمن بن عمر الأوسط، هو أبو شحمة، هو الذي ضربه عمرو بن العاص بمصر في الخمر، ثم حمله إلى المدينة، فضربه أبوه أدب الوالد، ثم مرض ومات بعد شهر، هكذا يرويه معمر عن الزهري، عن سالم، عن أبيه. و أما أهل العراق فيقولون: إنه مات تحت سياط عمر، وذلك غلط. و قال الزبير: أقام عليه عمر حد الشراب فمرض و مات.اھ (الاستیعاب في معرفة الأصحاب)
اسی طرح *”طبقات ابن سعد، اسد الغابہ، تهذيب الاسماء و اللغات، امتاع الاسماع، مرأة الزمان“* وغیرہ میں بھی ہے۔ یہی صحیح ہے، اس کے علاوہ عوام میں جو کچھ مشہور ہے وہ غلط اور موضوع ہے۔
لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انھوں نے جان بوجھ کر شراب ہی پیا، گمان غالب یہ ہے کہ انھوں نے بغیر نشہ والا نبیذ سمجھا ہو، انھیں معلوم نہ رہا ہو کہ یہ نشہ آور شراب بن چکا ہے، ورنہ خود اپنے ہی اوپر حد جاری کرنے پر اصرار کیوں کرتے؟۔ اس واقعہ کی تفصیل جسے قصے بازوں نے گڑھ لیا ہے وہ شریعت مطہرہ کے بالکل خلاف ہے، صحابہ کرام پر بہتان ہے، اسے بیان کرنا جائز نہیں۔ و اللہ تعالی اعلم۔
کتبہ: محمداختررضامصباحی عفی عنہ
۲۲/ جُمَادَی الآخرہ ١٤٣۹ھ

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker