ہندوستان

علی گڑھ کے بعد مزید تین ننھی بچیوں کا ریپ اور قتل

ٹوئنکل شرما کے قتل کے ۴؍ملزمین گرفتار، وکلاء کا ملزمین کا مقدمہ لڑنے سے انکار، ایک ملزم پر بیٹی کے ریپ کا بھی الزام

احمد آباد میں ۲۰ دن کی معصوم بچی کا قتل ، اجین میں ۵ سالہ بچی کا ریپ اور قتل ، ہمیر پور میں ۱۱؍سال کی بچہ کے ساتھ حیوانیت اور قتل

علی گڑھ؍احمد آباد؍اجین؍ہمیر پور۔ ۸؍جون: ابھی پورے ہندوستان میں علی گڑھ میں ہوئے معصوم بچی کے قتل کے واقعہ پر غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ احمدآباد ، ہمیر پور اور اجین سے دل دہلانے والی خبریں آئی ہیں۔علی گڑھ میں معصوم بچی کے وحشیانہ قتل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور جرم کے مرتکب لوگوں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے بلکہ ایسے مجرموں کو عوامی مقام پر سنگسار کرنا چاہیے۔ علی گڑھ ٹوئنکل شرما کے ساتھ پیش آئے سانحے سے مشتعل علی گڑھ کے وکلا نے قاتلوں کا مقدمہ نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر ضلع کے باہر کا بھی کوئی وکیل پیروی کرے گا تو اسے عدالت کے احاطہ میں گھسنے نہیں دیا جائے گا۔لکھنو: اترپردیش میں علی گڑھ کے ٹپل علاقہ میں حیوانیت کی شکار معصوم بچی کے قتل کے سلسلہ میں پولس نے سنیچر کو ایک خاتون سمیت دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سماج کو شرمسار کرنے والے اس معاملہ میں اب تک چار لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔دوسری طرف اس واقعہ سے مشتعل علی گڑھ کے وکلا نے معصوم بچی کے قاتلوں کا مقدمہ نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اگر ضلع کے باہر کا بھی کوئی وکیل اس معاملہ کی پیروی کرنے کی حماقت کرتا ہے تو اسے عدالت کے احاطہ میں گھسنے نہیں دیا جائے گا۔پولس ذرائع نے بتایا کہ معصوم کے قتل میں شامل مہند ی حسن اور ایک خاتون کو آج گرفتار کرلیا گیا۔ اس سے پہلے پولس دو ملزمین زاہد اور اسلم کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔ مہندی حسن ملزم زاہد کا بھائی ہے۔ جس دن معصوم کی لاش ملی، اسی دن مہندی فرار ہو گیا۔علی گڑھ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری انوپ کوشک نے کہا ہے کہ وہ بچی کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ملزمان کی طرف سے علی گڑھ کا کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اگر باہر کا کوئی وکیل مقدمہ لڑنے کی کوشش کرے گا تو اسے بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔احمد آباد جو ریاست ہمارے ملک کی ماڈل ریاست ہے یہاں سے خبر ہے کہ میگھنانی نگر میں پولس نے پانچ میں سے ان دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے اپنی پرانی رنجش کی وجہ سے ایک گھر پر حملہ کیا اور حملہ میں انہوں نے 20 دن کی بچی کو مار دیا۔ پولس کے مطابق جمعہ کے روز دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پرانی دشمنی کی وجہ سے لکشمی پٹنی کے گھر میں 5 لوگوں نے حملہ کیا اور حملہ کے وقت گھر میں دو اور خواتین بھی موجود تھیں۔ ایک انگریزی اخبار کے مطابق پولس انسپکٹر پی جی سرویہ نے بتایا کہ ’’حملہ آوروں نے جمعرات کے روز گھر میں گھس کر 3 خواتین پر لاٹھی ڈنڈوں سے حملہ کیا، انہوں نے اس حملہ میں لکشمی کی 20 دن کی بیٹی خشبو کے سر ڈنڈے سے حملہ کیا جس سے اس کی موت ہو گئی‘‘۔جمعہ کو پولس نے بتایا کہ اس نے ستیش پٹنی اور ہتیش مارواڑی کو اس جرم کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں مقامی غنڈے ہیں اور ستیش پٹنی کے خلاف پہلے سے ہی جرائم کے دس کیس چل رہے ہیں۔ڈھائی سال کی بچی کو قتل کیا جائے یا پھر 20 دن کی معصوم بچی کا قتل کیا جائے دونوں ہی معاملوں میں قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے اور جو لوگ جرائم کو بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔وہیں ہمیر پور میں ہفتہ کے روز ایک 11 سال کی بچی کو درندے نے اپنی جنسی ہوس کا شکار بنایا اور پھر اس کا گلا دبا کر قتل کر دیا۔ واقعہ کے بعد ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔ اطلاع ملنے پر جائے حادثہ پر پہنچی پولیس نے لاش کو اپنے قبضہ میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا ہے۔ واردات کے بعد گاؤں میں کشیدگی ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی گاؤں میں ہنگامہ مچ گیا اور اہل خانہ سی بی آئی جانچ کی مانگ کر رہے ہیں۔معاملہ کرارا تھانہ علاقہ کے شیونی گاؤں کا ہے۔ گاؤں والوں نے گھنٹوں پولیس کو لاش کو اٹھانے نہیں دیا۔ جائے حادثہ پر ضلع انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران موجود ہیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ ہیمراج مینا نے جانچ کے لئے پانچ ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ کشیدگی کے مدنظر فی الحال بھاری تعداد میں گاؤں میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق، بچی کا کنبہ مزدوری کے لئے باہر شہر کانپور میں اینٹ کے بھٹے میں کام کرنے گیا تھا۔ اس کی 11 سال کی معصوم بچی گھر پر اکیلی تھی۔ تبھی گزشتہ رات ایک درندہ گھر میں گھس کر بچی کو اٹھا لے گیا اور گاؤں کے باہر لے جا کر اس کی عصمت دری کی۔ عصمت دری کے بعد بچی کا گلا دبا کر قتل کر دیا اور پھر فرار ہو گیا۔مدھیہ پردیش کے اجین میں بھی انسانیت کو شرمسار کر دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اجین میں پانچ سالہ معصوم بچی کا اغوا کر کے اس کی عصمت دری کی گئی اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔ یہ شرمناک واقعہ لال پل۔ بھوکھی ماتا روڈ کنارے واقع اینٹ بھٹے پر کام کرنے والے مزدور کی بیٹی کے ساتھ ہوا ہے۔معصوم کے والد کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات ان کی بچی ان کے پاس ہی ساتھ میں سو رہی تھی۔ رات تقریبا دو بجے جب آنکھ کھلی تو بچی غائب تھی۔ اس کے بعد کنبہ کے سبھی ارکان بچی کو تلاش کرنے لگے۔ رات بھر تلاش کرنے کے بعد جب بچی نہیں ملی تو صبح انہوں نے پولیس کو اس کی اطلاع دی۔ پولیس نے نامعلوم ملزم کے خلاف معاملہ درج کر کے بچی کی تلاش شروع کر دی جس کے بعد جمعہ کو دوپہر میں بچی کی لاش لال پل کے پاس شپرا ندی میں ملی۔جائے حادثہ پر پہنچی پولیس نے پایا کہ بچی کے جسم پر کپڑے نہیں تھے۔ اس کے سر پر سنگین چوٹ کے چار نشان تھے۔ لاش کو قبضہ میں لینے کے بعد پولیس نے شام کو اس کا پوسٹ مارٹم کرایا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے لیکن ڈاکٹروں نے بچی کے ساتھ ریپ کی بات کہی ہے۔ پولیس اینٹ بھٹے پر کام کرنے والوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ ملزم کا سراغ مل سکے۔مہاکال تھانہ ٹی آئی اروند سنگھ تومر نے بتایا کہ بچی کی نعش جہاں سے برآمد کی گئی ہے وہیں پاس میں خون سے سنی ہوئی اینٹ ملی ہے، شک ہے کہ اسی اینٹ سے بدمعاش نے بچی کے سر پر حملہ کیا تھا، پولس کا ماننا ہے کہ حادثے کو انجام دینے والا یقینی طور پر کوئی جاننے والا ہی ہے اور بچی بھی اسے پہچانتی تھی؛ اس لیے اس نےمعصوم کو مار ڈالا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker