ہندوستان

ستیش گوتم پروفیسر طارق منصور کو بدنام کرکے حکمراں جماعت کو سیاسی نقصان پہنچا رہے ہیں: سریندر کمار آزاد

علی گڑھ8؍جون: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی( اے ایم یو)کورٹ کے سابق رکن و اے ایم یو ٹیکنیکل اسٹاف ایسو سی ایشن کے سابق صدر مسٹر سریندر کمار آزاد نے علی گڑھ سے رکن پارلیامنٹ شری ستیش کمار گوتم کی چرب زبانی کے نتیجہ میں اے ایم یو کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور پر لگائے جا رہے بے بنیاد اور لغو بیانات پر سخت ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شری ستیش گوتم محض اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ملک کی باوقار یونیورسٹی اے ایم یو اور اس کے سربراہ پروفیسر طارق منصور جیسی عظیم ہستی کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کرکے نہ صرف اپنی ناپاک ذہنیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ وہ ملک کے وزیرِ اعظم شری نریندر مودی کے ’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ عہد کو بھی زک پہنچاکر حکمراں جماعت کو سیاسی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصورروزِ اول سے ہی اے ایم یو میں تعلیمی معیار کو فروغ دینے کے لئے سرگرمِ عمل رہے ہیں جس کے نتیجہ میں متعدد باوقار ایجنسیوں کے سروے کے مطابق اے ایم یو ملک کی باوقار یونیورسٹیوں میں اعلیٰ مقام پر فائز ہوئی ہے۔ مسٹر آزاد نے کہا کہ تعلیمی معیار ہی پروفیسر منصور کی ترجیحات میں شامل ہے ایسے میں ان پر کسی بھی قسم کا الزام عائد کرنا نہ صرف ان کی شخصیت کو مجروح کرنے کی ناپاک کوشش ہے بلکہ ملک میں خواندگی کے عمل کو زک پہنچانے کے مترادف ہے جو ملک سے غداری کے زمرے میں آتا ہے اور شری ستیش گوتم جوش میں ہوش کھوکر یہ بھول بیٹھے ہیں کہ وہ ملک سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ جہاں تک اے ایم یو میں پیپر لیک ہونے کا سوال ہے تو اس ضمن میں قصورواروں کو ملازمت سے برطرف کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے اور اے ایم یو انتظامیہ اس سارے عمل کی گہرائی کے ساتھ جانچ کرا رہی ہے۔ اس کے علاوہ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور پر تقرریوں میں من مانی کئے جانے کا الزام بھی بے بنیاد ہے کیونکہ جہاں تقرری میں من مانی کی جاتی ہے وہاں معیار کے نام پر سمجھوتا بھی ہوتا ہے جو اے ایم یو میں آج تک نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہر معاملہ میں شفافیت وائس چانسلر پروفیسر منصور اور اے ایم یو کی شان رہی ہے۔
مسٹر سریندر کمار آزاد نے کہا ہے کہ شری ستیش کمار گوتم کو اپنے پارلیامانی حلقے میں ترقیاتی کاموں پر توجہ مبذول کرنی چاہئے جہاں عوام ہر قسم کی سہولیات سے محروم ہے اور ایم پی صاحب محض اے ایم یو میں الجھے پڑے ہیں۔ مسٹر آزاد نے شری گوتم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اے ایم یو کے علاوہ بی ایچ یو، جے این یو اور ڈی یو جیسے اداروں اور اپنے پارلیامانی حلقے پر بھی توجہ دیں۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker