مضامین ومقالات

پرگیہ ٹھاکر : اس انجمن میں آپ کو آنا ہے بار بار

ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی کی شعلہ بیان رکن پارلیمان پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو جب بھی عدالت میں طلب کیا جاتا ہے ان کی طبیعت نڈھال ہوجاتی ہے اور وہ دواخانے کا رخ کرتی ہیں ۔ان کا معمول ہے کہ عدلیہ کی تاریخ کے ٹلتے ہی طبیعت سنبھل جاتی ہے اور وہ اسپتال سے واپسی میں کسی عوامی جلسہ سے خطاب کرکےاپنے گھر لوٹ آتی ہیں۔ جون(۲۰۱۹؁) کے پہلے ہفتے میں ایسا دو مرتبہ ہوگیا کہ مالیگاؤں بم دھماکہ میں ماخوذ ملزمہ نے ممبئی کی خصوصی عدالت میں حاضر ہونے سے کنی کاٹ لی۔ پرگیہ کے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا کہ سادھوی کے خون کا دباو بڑھا ہوا ہے ۔ اس معذرت کے جواب میں عدلیہ کو پرگیہ ٹھاکر کا بیان یاد دلانا چاہیے تھا کہ جس میں اس نے کہا تھا’ گائے پر ہاتھ رکھنے سے بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے‘۔ یہ بھی ممکن تھا کہ ٹرین یا ہوائی جہاز میں سادھوی کے ساتھ ان کی گئو ماتا کو سفر کرنے کی سہولت فراہم کردی جاتی اور وہ گائے سمیت عدالت میں حاضر ہوجاتیں ۔ ان کی آمد سے اگر جج صاحب یا عدالت کے دیگر ملازمین کے خون کا دباو بڑھتا تو وہ بھی گئوماتا کو چھو کر شفایاب ہوجاتے ۔ اتنے سہل اور آسان نسخے کے ہوتے دواخانہ میں داخل ہونے اور عدالت میں معذرت پیش کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔
سچ اور جھوٹ میں ایک فرق یہ ہے کہ موخرالذکر مختلف و متضاد ہوتا ہے۔ وکیل صاحب نے بلڈ پریشر کا بہانہ بنایا لیکن پرگیہ کے ایک قریبی رفیقِ کار نے بتایا کہ وہ پیٹ کے عارضہ میں مبتلا ہونے کے سبب رات کو بھوپال کے ایک اسپتال میں بھرتی ہوئی ہیں اور صبح ڈسچارج ہو کر بھوپال کے اندر ایک تقریب میں شرکت فرمائیں گی مگر اس کے بعدگھر جانے کے بجائے پھر سے دواخانے میں واپس آجائیں گی۔ دواخانے میں انہیں انجکشن کے ذریعہ دوائیں دی گئی ہیں اس لیے سادھوی کابھوپال تا ممبئی سفر ممکن نہیں ہے۔۔ انتخاب میں کامیابی کے بعد لگتا ہے سادھوی اپنے پرانے ٹوٹکے بھول گئیں ۔ انہوں نے ٹیلی ویژن کیمرے کے سامنے ایک گئوشالہ میں کھڑے ہوکر دعویٰ کیا تھا کہ گئوموتر سے کینسر اور ایڈس جیسے موذی امراض کا علاج ممکن ہے۔ یہ نسخہ ان کا اپنا آزمایا ہوا ہے۔ اب جو سادھوی گائے کے پیشاب سے کینسر جیسی بیماری کا توڑ کرلیتی ہے اس کے لیے پیٹ کا عارضہ کیا چیز ہے؟یہ علاج تو گائے کے دودھ سے بھی کیا جاسکتاہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران جو گئو موتر کی شیشی وہ اپنے ساتھ لے کر وہ گھوما کرتی تھیں اب کہیں کھو گئی ہے۔ یا تو وہ عوام کو احمق بنانے کے لیے ہاتھی کے دانت تھے ۔ اب کھانے کی باری آئی تو آیوروید کی جگہ ایلو پیتھ نے لے لی ہے۔
اس کوتاہی سے قبل پرگیہ نے پارلیمان سے متعلق رسمی کارروائیوں کی تکمیل کابہانہ بناکر استثنیٰ کی درخواست کی تھی لیکن جو عورت بھوپال سے دہلی جاسکتی ہے وہ ممبئی کیوں نہیں آسکتیَ ؟ این آئی اے عدالت کے جج وی ایس پڈالکر کا موقف یہ ہے کہ مقدمہ کے اِس نازک موڑ پر عدالت میں ملزمین کی موجودگی لازمی ہے اس لیےہر ہفتہ کم ازکم ایک مرتبہ انہیں حاضر ہونا چاہیے۔ انہوں نے ہفتے کے آخری دن یعنی جمعہ عدالت میں حاضری لگا نے کی تلقین کی ۔ کون جانے کے یہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کے دل میں بیٹھا خوف ہے یا رعونت کہ جو انہیں عدالت کی توہین کرنے پر مجبور کررہا ہے۔ عصرِ حاضر کے سیاستدانوں میں کبرو غرور معمولی بات ہے۔ وہ اپنے آپ کو عوام تو دور عدلیہ سے بھی اعلیٰ و ارفع سمجھتے ہیں ۔ پرگیہ ٹھاکر نے بزرگ کانگریسی رہنما دگوجئے سنگھ کو بہت بڑے فرق سے ہرایا ہے اس لیے موجودہ جمہوری نظام انہیں اترانے کا حق دیتا ہے۔ آج کل توان کی جماعت کے عوامی نمائندے اپنے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کو بھی سرِ عام زدوکوب کرنے سے باز نہیں آتے لیکن پھراس کے ساتھ گیروا رہبانی لباس کیا معنیٰ؟ پرگیہ ٹھاکر کو یا تو مودی جی کی مانند دنیاداری کا لبادہ اوڑھ کر جتنا مرضی ہو اکڑنا چاہیے یا پھر سادھوی کے بھیس میں حلم و بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بیک وقت ان دونوں کشتیوں میں سواری مناسب نہیں ہے۔ رکن پارلیمان پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو عدالت میں غیر حاضری پر پھٹکار پڑی اور عدالت نے حاضر نہ ہونے کی صورت میں نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تو اس کے ہوش ٹھکانے آگئے اور وہ بھوپال سے ممبئی پہنچ گئیں ۔ اس سے جہاں عدلیہ کی طاقت کا بھی اندازہ ہوتا ہے وہیں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔
عدالت کے اندر سادھوی کے نخروں نے فلمی اداکاروں کو بھی شرمسار کردیا۔ جب ان سے عدالت نے مالیگاوں دھماکوں کے بارے معمولی استفسار کیا تو ان کا جواب تھا مجھے نہیں معلوم۔ یہ سادھوی جانتی ہے کہ گوڈسے دیش بھکت تھا اور رہے گا۔ اسے پتہ ہے کہ ساڑھے تین سال کی عمر میں وہ بابری مسجد کی گنبد پر چڑھ گئی تھی ۔ گئوموتر کے بے شمار فائدوں سے بھی وہ واقف ہے مگر مالیگاوں دھماکوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔ پرگیہ کے بارے میں یہ بھرم پھیلایا گیا کہ وہ اچانک بیٹھے بیٹھے جذب کی عالم میں چلی جاتی ہیں اور ٹھاکور جی سے سارے سوالات کا جواب معلوم کرکے واپس آجاتی ہیں لیکن شاید عدالت کے اندر ٹھاکور جی کا نیٹ ورک فیل ہوگیا تھا۔ہیمنت کرکرے کے سامنے بھی ہر سوال پر وہ کہتی تھیں بھگوان کو معلوم ۔ عدالت میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ وہ ریڑھ کی ہڈی میں درد کے سبب نہ آرام سے بیٹھ سکتی ہیں اور گلے میں خراش کی وجہ سے نہ ٹھیک سے سن سکتی ہیں۔ اس لیے انہوں نےعدالت کی سماعت کے لیے آگے آنے کی اجازت طلب کی ۔ وہاں ایک گدے دار کرسی دی گئی تو اس پر دھول کی شکایت کرکے بیٹھنے سے انکار کردیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایسی معذور رکن پارلیمان اپنے رائے دہندگان کی کیسے خدمت کرے گی؟ پرگیہ نے کمرۂ عدالت میں چڑ کر کہا مجھے ہر چیز سے الرجی ہے۔سچ تو یہ ہے بھکتوں کے علاوہ ہر کس و ناکس کو پرگیہ سے الرجی ہے۔ اس دوران دل ہی دل میں جج صاحب پرارتھنا کررہے ہوں گے کہ کہیں ہیمنت کرکرے کی مانند یہ سادھوی ان کو بھی شراپ نہ دے دے۔
پرگیہ ٹھاکر پر مالیگاوں دھماکے کے علاوہ سمجھوتہ بلاسٹ میں ملوث سنیل جوشی کے قتل کا الزام بھی تھا۔ آر ایس ایس کے پرچارک جوشی کو ۲۹ دسمبر ۲۰۰۷؁ کو دیواس کے انڈسٹریل ایریا پولس تھانہ کے نزدیک قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں پرگیہ اور دیگر سنگھی دہشت گردوں کا نام شامل تھا۔ قتل کے دس سال بعد فروری ۲۰۱۷؁ کے دن تمام ملزمان کوشواہد کی عدم موجودگی کا حوالہ دے کر بری کر دیا گیا مگر اب کانگریس کی کمل ناتھ سرکار آر ایس ایس پرچارک کے قتل کا معاملہ دوبارہ کھولنے پر غور کررہی ہے۔ اس معاملے میں ضلع دیواس کے ایک جج نے اپنے فیصلے میں کچھ تبصرے کیے تھے اور کلکٹر نے اپنی سطح پراسے ختم کر دیا تھا ۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ بی جے پی اپنے کارکن کے قاتلوں کو سزا سے بچاتی ہے اور کانگریس انہیں سزا دلانے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ قاتل و مقتول دونوں کا تعلق سنگھ پریوار سے ہے۔ اس بابت اگر ٹھوس ثبوت کانگریس کے ہاتھ آگئے تو انتخاب جیتنے کے باوجود پرگیہ جیل جاسکتی ہیں کیونکہ بی جے پی کے کئی ایم ایل اے فی الحال جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ پارٹی ایک حدتک اپنے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتی ہے لیکن جب گھر جاتی ہے تو ہاتھ کھینچ لیتی ہے۔اناو کے رکن اسمبلی کلدیپ سینگر اور دیگر لوگوں کے ساتھ یہ ہوچکا ہے ۔ پرگیہ کو اس صورت میں گئوماتا بچائے گی یا ناتھو رام گوڈسے کے بھکت یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا ۔
اس بابت کانگریس سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا عبث ہے کیونکہ رائے عامہ کے خلاف ہوجانے کا خدشہ اس کے ہاتھ پیر پھلادیتاہے۔ ۲۰۱۳؁ میں سابق وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے آر ایس ایس اور بی جے پی پر ہندو دہشت گردی کو فروغ دینے اور ٹریننگ کیمپ چلانے کا الزام لگایا تھا ۔جانچ ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات کی بناء پر وزیر خارجہ سلمان خورشید نے’مبینہ ہندو دہشت گردی‘ کی تصدیق کی تھی۔ داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نےاپنے وزیر کی تائید میں کہا تھا کہ سرکار کے پاس سمجھوتہ ایکسپریس، مکہ مسجد اور اجمیر شریف درگاہ دھماکوں میں ملوث ۱۰ سنگھیوں کے نام ہیں ۔ان میں سے اسیمانند سے جس این آئی اےنے اعتراف کروایا تھا وہی اس کو چھڑوا چکی ہے۔ اندریش کمار راشٹر مسلم سنگھ کا سرپرست بنا گھومتا ہے اور باقی لوگوں کو بھی جج صاحبان ثبوتوں کی کمی کے سبب رہا کرنے پر مجبور ہیں۔ ۲۰۱۴؁ انتخاب سے قبل اگر کانگریس نے جرأتمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان آتنکیوں کو کیفرِ کردار تک پہنچا دیا ہوتا تو وہ آج سینے پر مونگ نہیں دلتے لیکن کانگریس بے قصور مسلم نوجوانوں کے پیچھے پڑی رہی۔ خیر فی الحال سنگھ کے ستارے عروج پر ہیں لیکن کل جب گردش میں آئیں گے تو انہیں بھی دن دہاڑے تارے نظر آنے لگیں گے ۔ بقول حیدرعلی آتش تاریخ گواہ ہے؎
نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker