ہندوستان

عدالتی فیصلہ سے ثابت ہوا مذہبی تعصب کی وجہ سے ہوا یہ سانحہ

ہندوستانی عدلیہ کو سلام :
سانحۂ کٹھوعہ: عدالتی فیصلہ سے متاثرہ کی ’چیختی روح‘ کو مل سکے گی تسکین
3 مجرم کو عمر قید، شواہد مٹانے کے جرم میں 3 پولیس اہلکار کو بھی5 سال کی سزا
پٹھان کوٹ:10جون (بی این ایس )
ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے کٹھوعہ گینگ ریپ اور قتل کیس میں پٹھان کوٹ سیشن کورٹ نے تین مجرم دیپک کھجوریا ، سا نجی رام اور پرویش کمار کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ ان پر عدالت نے ایک ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ وہیں ثبوتوں سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور شواہد مٹانے کے جرم میں تین دیگر مجرم پولیس اہلکاروں کو کورٹ نے 5-5 سال کی سزا سنائی ہے ۔ ان تینوں پر 50-50 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ خون سے لت پت کپڑے کو ان پولیس اہلکاروں نے دھل کر عدلیہ میں پیش کیا تھا ۔اس سے قبل پیر کی صبح سماعت کے دوران عدالت نے 7 میں سے 6 ملزمان کو مجرم قرار دیا تھا۔ واضح ہو کہ اسپیشل کورٹ نے 6 قصورواروں میں سے 3 کو ریپ اور قتل کا مجرم پایا۔ باقی تین کو ثبوت مٹانے کا قصوروار مانا گیا۔ سانجی رام ، پرویش کمار، دیپک کھجوریا کو 302 (قتل)، 376 (ریپ)، 120 بی ( سازش)، 363 (اغوا) کے تحت مجرم قرار دیا گیا۔ کورٹ نے پولیس اہلکار آننددتہ، سریندر کمار، تلک راج کو 201 (ثبوتوں کو مٹانے) کے تحت مجرم گردانا ہے ۔ گزشتہ سال 10 جنوری کوخانہ بدوش بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والی 8 سال کی ایک بچی کو اغوا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 17 جنوری کو اس کی لاش جنگل سے مسخ شدہ حالت میں ملی تھی ۔اس سنسنی خیز کیس کے خلاف ملک اور بیرون ملک میں احتجاج مظاہرے ہوئے اور متاثرہ کے لئے انصاف کے لیے آواز اٹھائی گئی ۔اس واقعہ کے پس منظر میں جموں و کشمیر پولیس نے 15 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی تھی جس میں کئی چونکانے والے انکشافات ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کو جموں و کشمیر سے باہر بھیجنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد جموں سے تقریبا 100 کلو میٹر اور کٹھوعہ سے 30 کلومیٹر دور پٹھان کوٹ کی عدالت میں کیس کو بھیجا گیا۔ اس کیس میں کل آٹھ ملزم بنائے گئے تھے، جن میں سے ایک نابالغ تھا۔ ضلع اور سیشن جج نے آٹھ ملزمان میں سے سات کے خلاف آبروریزی اور قتل کے الزام طے کئے تھے۔ نوعمر ملزم کے خلاف مقدمہ ابھی شروع نہیں ہوا ہے اور اس کی عمر سے متعلق درخواست پر جموں و کشمیر ہائی کورٹ سماعت کرے گا۔واضح ہو کہ کیس درج نہ کئے جائیں ، اس کے لیے بی جے پی کے دو لیڈر نے ریلی بھی کی تھی ،ریلی میں ان مجرموں کی حمایت میں نکالی گئی تھی۔جس کے لیے جموں کے دونوں بی جے پی لیڈرکو اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دینا پڑا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے کیس کو جموں و کشمیر سے ٹرانسفر کرنے کی ہدایت جانے کے بعد گزشتہ سال جون کے پہلے ہفتے میں مقدمہ شروع ہوا اور اس ریکارڈنگ بھی کی گئی۔ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے اس معاملے کا ماسٹر مائنڈ گرام پردھان ملعون 65سالہ سانجی رام تھا ، جس نے اغوا،یرغمال بنانے اور عصمت دری پر اکسایا تھا ۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker