ہندوستان

نالندہ اوپن یونیورسٹی میں عید کے دن اکزام کس بنیاد پر رکھا گیا؟

مسلم دانشوران کا یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت سے سوال
پٹنہ:10 جون(نمائندہ) نالندہ اوپن یونیورسٹی، پٹنہ میں گزشتہ 5 اور 6جون کو بی بی اے، بی سی اے، بی کام اور بی اے (سال دوم) وغیرہ کے مختلف امتحانات لیے گئے۔ طلبہ و طالبات اور سیاسی رہنمائوں اور مسلم دانشوران کے مسلسل دبائو کے باوجود یونیورسٹی انتظامیہ اپنے فیصلے پر قائم رہی اور طلبہ و طالبات کو مجبوراً عید کے دن صبح 8 سے 11 امتحان میں شامل ہونا پڑا۔ امتحانات کے بعد بہت سارے طلبہ و طالبات نے بتایا کہ امتحان دینے کے لیے انہیں دور دراز کے مختلف اضلاع سے ٹھیک چاند رات کو پٹنہ کا سفر کرنا پڑا اور عید چھوڑ کر انہیں امتحان میں شریک ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔ واضح رہے کہ امتحان سے قبل جے ڈی یوکے لیڈر محمد احسان الحق نے یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر آر کے سنہا کو فون کر کے اکزام کی تاریخ بڑھانے کی گزارش کی تھی وہیں ڈاکٹر تنویر احمد نے بھی وائس چانسلر پروفیسر کیشور پرساد کو فون کر کے اکزام کی تاریخ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام گزارشات کو رد کرتے ہوئے ٹھیک عید کے دن اکزام رکھ کر مسلم طلبہ و طالبات کو ان کے سب سے بڑے تہوار سے محروم کر دیا۔ عید کے دن امتحان لیے جانے پر بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن بہار کے ڈائرکٹر محمد اسلم، اردو کونسل کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر اسلم جاوداں، کانگریس پارٹی کے رہنما شاہ فیض الرحمن اور دوردرشن کے نیوز اینکر سلمان غنی نے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت بہارکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مسلم دانشوران کا کہنا ہے کہ عید، کرسمس اور دیوالی جیسی گزیڈٹ چھٹیوں میں کسی بھی طرح کا امتحان نہیں لیا جاتا ہے۔ ایسے میں یونیورسٹی نے دانستہ اکزام رکھ کر جمہوری قدروں کی خلاف ورزی کی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ اس سلسلہ میں یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب طلب کر کے مناسب کاروائی کرنی چاہیے۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker