فقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اﷲ رحمانی مدظلہ العالی

اجتماعی شادی کی بچی ہوئی رقم کی ممبروں میں تقسیم
سوال:- آج کل بعض تنظیمیں اجتماعی شادیاں کرواتی ہیں ، بیرون ملک کی کوئی تنظیم یا مقامی حکومت اس کے اخراجات دیتی ، ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس میں سے کچھ رقم بچ گئی ، اگر تنظیم کے نگران اس کو آپس میں بانٹ لیں یا اس کو محنتانہ کہہ کر لے لیں ، تو کیا یہ عمل درست ہوگا ؟ ( محسن علی، احمد آباد)
جواب :- اگر اجتماعی شادیاں کروانے والے حضرات نے عطیہ دینے والوں پر واضح کردیا کہ آپ کے عطیہ سے اتنی شادیاں عمل میں آئیں گی ؛ البتہ ہوسکتا ہے کہ بحیثیت مجموعی کچھ رقم بچ جائے ، تو ایسی صورت میں ہم لوگ اس رقم کو آپس میں تقسیم کرلیں گے اور عطیہ دینے والوں نے اس کی اجازت دے دی تو یہ صورت جائز ہوگی ؛ کیوںکہ جب مال کا مالک اجازت دیدے تو اس کا استعمال جائز ہے ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ شادی کے اخراجات میں ایک حصہ انتظامی کاموں کو انجام دینے والے خدام کا بھی رکھا جائے اور منتظمین خود ان کاموں کو انجام دیں ، تب بھی یہ صورت جائز ہوگی ، گویا عطیہ دینے والے نے تنظیم کو وکیل بنایا ہے ؛ کہ وہ اس کی دی ہوئی رقم میں اس کام کو انجام دیں ، اور شادی میں اسباب کی بھی ضرورت پیش آتی ہے اور محنت کرنے والے افراد کی بھی ، اس لئے جن لوگوں نے اس کام کو انجام دیا ہے ، ان کے لئے یہ رقم اُجرت کے درجہ میں ہوگی ؛ البتہ اس صورت میں اُجرت کا متعین ہونا ضروری ہے ؛ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ کارکنوں کے لئے کوئی رقم متعین ہوجائے ، مثلاً فی کس دس ہزار روپیہ ، یا اُجرت کا تناسب متعین ہوجائے ، مثلاً ایک کروڑ کا عطیہ آیا ہے اور تنظیم طے کرے کہ اس کاپچانوے فیصد شادی کی ضروریات پر خرچ کریں گے اور پانچ فیصد انتظامی اُمور اور کارکنوں کے حق المحنت میں خرچ کئے جائیں گے ، اس کے بعد جو رقم بچ جائے ، اسے یا تو اسی مقصد میں استعمال کرنا واجب ہوگا یا مالک کو واپس لوٹانا واجب ہوگا ۔
ان دونوں صورتوں کے علاوہ اس رقم کو تنظیم کے ممبروں میں تقسیم کردینا جائز نہیں ہے ؛ کیوںکہ یہ عطیہ دینے والوں کے مقصد کے خلاف ہے اور خیانت میں شامل ہے ۔

اگر زبانی ایجاب و قبول ہوجائے اور رجسٹر میں دستخط نہ کرے؟
سوال:- اگر نکاح کے وقت لڑکے نے قبول کرلیا یا لڑکی نے اجازت دیدی ؛ لیکن جب نکاح کے رجسٹر پر دستخط کرنے کا موقع آیا تو دستخط کرنے سے انکار کردیا تو ایسی صورت میں نکاح منعقد ہوگا یانہیں ۔ (جمیل احمد،چادرگھاٹ)
جواب :- نکاح کے قبول کرنے میں یا اس کی اجازت دینے میں اصل اہمیت زبان کے تلفظ کی ہے نہ کہ دستخط کرنے کی ؛ چنانچہ جب زبان سے ایجاب و قبول ہوگیا تو نکاح منعقد ہوجائے گا : ’’ وینعقد بالایجاب والقبول مع الآخر‘‘ ( الدرالمختار : ۴؍۳۸) ؛ بلکہ اگر نکاح کا دستاویز بن گیا اور عاقدین نے اس پر دستخط کردیا ؛ لیکن زبان سے ایجاب و قبول نہیں ہوا تو نکاح منعقد نہیں ہوگا ۔

زمین کی رجسٹری میں کم قیمت ظاہر کی جائے
سوال:- زمین کی رجسٹری کے موقع پر اصل قیمت چھپاکر فرضی قیمت لکھی جائے ؛ تاکہ سرکار کو ادا کئے جانے والے ٹیکس میں بچت ہوسکے تو کیا اس کا یہ عمل درست ہوگا ، خرید و فروخت کا عمل جائز ہوجائے گا ، بیچنے والے کے لئے قیمت حلال ہوجائے گی اور خریدنے والا جائز طریقہ اس کا مالک بن جائے گا ؟ تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر روشنی ڈالئے ؛ کیوںکہ آج کل رجسٹری فیس بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ (حامدحسین،ناگپاڑہ)
جواب :- صحیح طریقہ یہ ہے کہ زمین کی جو قیمت آپس میں طے ہوئی ہے ، وہی سیل ڈیڈ میں لکھی جائے ؛ اگر قیمت کم ذکر کی گئی تو یہ جھوٹ اور دھوکہ ہے اور جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا کبیرہ گناہوں میں شامل ہے ؛ لیکن اگر کوئی شخص اس طرح خرید و فروخت کرہی لے تو قیمت پر بیچنے والے کی اور زمین پر خریدنے والے کی ملکیت قائم ہوجائے گی ، اور یہ چیز اس کے لئے حلال ہوگی ، ہاں اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ خریدار بائع سے معاملہ کرے کہ جو قیمت لکھی جارہی ہے ، اسی قیمت میں یہ زمین خرید کررہا ہوں ؛ البتہ خرید و فروخت کے معاملہ سے پہلے خریدار کہے کہ اگر میں آپ سے یہ چیز خریدنے میں کامیاب ہوگیا تو میں آپ کو الگ سے بطور ہدیہ اتنی رقم پیش کروں گا ، موجودہ حالات کے تحت بطور حیلہ اس کی گنجائش ہے ؛ البتہ ہدیہ کی پیشکش یا تو اصل معاملہ سے پہلے کی جائے یا رجسٹری ہونے کے بعد ، اس طرح دستاویز میں لکھی ہوئی رقم اصل قیمت ہوگی اور زائد رقم ہدیہ ہوگی ، اصل معاملہ میں اس وعدہ کو شامل کرنا اس لئے درست نہیں ہوگا کہ ایسی صورت میں خرید و فروخت کو مشروط کرنا لازم آئے گا اور یہ جائز نہیں ہے ، واللہ اعلم ۔

تاجر کا اپنے مال کی تعریف کرنا
سوال:- تاجر کی طرف سے زیادہ سے زیادہ بکنے کے لئے اپنے سامان کی تعریف کرنے کا شرعاً کیا حکم ہے ؟ (حامدحسین،ناگپاڑہ)
جواب :- کسی مال میں واقعی جو خوبی پائی جاتی ہے ؛ اس کو بیان کرنے میں حرج نہیں ہے ، حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص یاکسی سامان میں جو خوبی ہو ، اس خوبی کا ذکر کیا جائے اور مبالغہ نہیں کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے ، رسول اللہ ا نے صحابہ سے فرمایا کہ میرے بارے میں اس طرح مبالغہ مت کرو جیسے عیسائیوں نے عیسیٰ ابن مریم کے بارے میں کیا تھا ، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں : ’’ فإنما أنا عبدہ فقولوا عبد اﷲ ورسولہ‘‘ (بخاری ، عن عمر ، حدیث نمبر : ۹۳۱) اس سے معلوم ہوا کہ حقیقت کے اظہار میں تعریف کا پہلو ہوتو اس میں کوئی حرج نہیں ، مبالغہ کرنا جائز نہیں ؛ چنانچہ بخاری کے ایک شارح ابن بطال کہتے ہیں کہ ممانعت مبالغہ آمیز تعریف کی ہے : ’’ أن المدح فی الوجہ المنھی عنہ إنما ھو المدح بالباطل‘‘ ۔ (شرح بخاری لابن البطال : ۳؍۳۸۱)

نماز میں ایک آیت کو بار بار پڑھنا
سوال:- ہمارے امام صاحب نماز میں قرآن پڑھتے ہوئے جب آیت عذاب پر آتے ہیں تو اس آیت کو بار بار دُھراتے ہیں ، بعض مقتدیوں کو اس پر اعتراض ہے ، کیا ان کا اس طرح تکرار کے ساتھ کسی آیت کو پڑھنا جائز ہے یا ان کا یہ عمل غلط ہے ؟ (محمددانش،ملک پیٹ)
جواب :- اگر نفل نماز میں ایک ہی آیت کو بار بار پڑھا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے ، رسول اللہ ا نماز تہجد میں بعض اوقات ایسی آیتوں کو بار بار پڑھا کرتے تھے ؛ لیکن فرض نماز میں ایک ہی آیت کی تکرار مکروہ ہے : ’’ وإذا کرر آیۃ واحدۃ مرارا فإن کان فی التطوع الذی یصلی وحدہ ، فکذلک غیر مکروہ … و إن کان فی صلاۃ الفریضۃ فھو مکروہ‘‘ ۔ (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی : ۱؍۳۰۵)

بڑے جانور کے ذریعہ عقیقہ
سوال:- ایام قربانی کے علاوہ دنوں میں اگر عقیقہ کیا جائے اور بکرے یا مینڈھے کے بجائے بڑا جانور ذبح کیا جائے تو کیا عقیقہ درست ہوجائے گا ؟ (عبدالرقیب،مہدی پٹنم)
جواب :- اگر عقیقہ میں بیل یا اونٹ ذبح کیا جائے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ، حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آپ ا نے فرمایا : جس کو لڑکا پیدا ہو تو اسے اونٹ یا بیل یا بکرے کے ذریعہ قربانی کرنا چاہئے : ’’ من ولد لہ غلام فلیعق عنہ من الإبل أو البقر أو الغنم‘‘ ( المعجم الصغیر للطبرانی : ۲۲۹) اگر ایک لڑکا یا لڑکی کے بدلہ ایک پورے اونٹ یا بیل کی قربانی کی جائے تو اس کے درست ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے ؛ البتہ امام احمدؒ کے نزدیک اگر اونٹ یا بیل سے قربانی کی جائے تو ایک بچہ کے بدلہ پورا اونٹ یا بیل ہی ذبح کرنا ضروری ہے اور دوسرے فقہاء کے نزدیک ایک بچہ کا عقیقہ بڑے جانور کے ساتویں حصہ سے بھی ادا ہوجائے گا ؛ بشرطیکہ جانور کو ذبح کرنے میں عبادت کی نیت ہو ، گوشت حاصل کرنے کی نیت نہ ہو : ’’ … ونص أحمد علی اشتراط کاملۃ وذکر الرافعی بحثا أنھا تتادی بالسبع کما فی الأضحیۃ واﷲ اعلم ‘‘ ۔ (فتح الباری لابن حجر : ۹؍۵۹۳)

٭٭٭

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker