اخبارجہاں

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیکل پومپیو کا انڈیا آئیڈیاز سمیٹ اور امریکہ انڈیا بزنس کونسل کے 44 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب

(ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے وزیر خارجہ پومپیو کے تقریر کی مکمل متن)

 

 

واشنگٹن، ڈی سی: 14جون(پریس ریلیز)

 

 

 

وزیر پومپئو: شکریہ اور سبھی کو شام بخیر۔ یہاں آنے کا شکریہ۔ اس معزز گروہ سے خطاب کی دعوت دینے پر یقیناً میں انڈیا آئیڈیاز سمٹ، امریکی چیمبر کے صدر ٹام ڈونوہو اور یوایس آئی بی سی کی صدر نشا بسوال کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں کینٹکی کے گورنر میٹ بیون کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کہاں ہیں؟ اچھا وہاں۔

 

آپ جانتے ہیں یہ دوطرفہ معاملہ ہے۔ آج میں نے پروگرام میں نہ صرف میٹ بلکہ نیوجرسی کے گورنر فل مرفی کو بھی دیکھا ہے۔ اس طرح ہمارا ایجنڈا دوفریقی ہو جاتا ہے۔ یہ نہایت شاندار بات ہے۔

 

مجھ سے پوچھا گیا کہ آیا میں یہاں خطاب کرنے آؤں گا۔ یہ نہایت درست وقت پر ہوا ہے جب میں بہت جلد انڈیا جا رہا ہوں۔ مجھے یہاں امریکہ اور انڈیا دونوں ممالک سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے ایک معتبر گروہ سے ملاقات کا موقع ملا ہے۔ مجھے علم ہے کہ اب تک آپ کا دورہ بہت اچھا رہا ہے۔ یہ بہت اچھی پیش رفت ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ آپ لوگوں نے آج کل جاری دنیا کے ایک انتہائی اہم ایونٹ کے بارے میں عمیق اور اہم بات چیت کی ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں دنیا کو تبدیل کرنے کی بڑی اہلیت پائی جاتی ہے۔ یہ ایسے سرگرم عالمی واقعات ہیں جو اربوں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ یقیناً میں کرکٹ ورلڈ کپ کی بات کر رہا ہوں۔ (قہقہہ)

 

آج ہم ایک نہایت سنجیدہ معاملے پر بات کر رہے ہیں اس لیے مذاق کو ایک جانب رکھتے ہیں۔ بہت سے انڈین اور امریکی کاروباری افراد کو یہاں اکٹھے دیکھنا نہایت خوشی کی بات ہے جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے مزید قریب لانے اور بڑے تصورات کی بابت گفت و شنید کر رہے ہیں۔ انتخابات کے بعد میرے آئندہ دورے کے حوالے سے یہ منصوبہ میرے ذہن میں بھی نمایاں رہا ہے۔

 

یہ بہت زبردست بات تھی۔ ہم نے دورے کی منصوبہ بندی کی اور پھر انڈیا سے خبر آئی، اس طرح یہ بہت ہی زبردست ہوا، بالکل ویسا جیسے ہم نے اس کی منصوبہ بندی کی تھی۔ مجھے وزیراعظم مودی سے دوبارہ ملاقات کا غیرمعمولی شرف حاصل ہو گا اور میں اپنے نئے ہم منصب، وزیر برائے خارجہ امور جے شنکر نیز صنعتی شعبے کے سربراہوں اور دیگر لوگوں سے بھی ملوں گا۔ میں کچھ دیر کے لیے انڈیا میں ہوں گا۔

 

میں آپ کے سامنے کچھ جائزہ پیش کرنا چاہتا ہوں، یہ میرے اس دورے کے مقاصد بارے ایک سرسری جائزہ ہے۔ میں آپ کو بتاؤں گا کہ میں اس بات پر کیوں یقین رکھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے پاس اکٹھے آگے بڑھنے کے لیے غیرمعمولی طور سے ایک منفرد موقع ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام، خطہ ہندوالکاہل اور درحقیقت پوری دنیا کو فائدہ پہنچے گا۔

 

امریکہ انڈیا شراکت کا تصور بہت پرانا ہے۔ یہ نیا تصور نہیں ہے اور آپ سبھی یہ بات جانتے ہیں۔ 70 سال سے زیادہ عرصہ پہلے جب انڈیا کے عوام نے جرات مندانہ انداز میں آزادی حاصل کی تو دونوں ممالک میں ایک مضبوط تعلق قائم ہوا جس کے بارے میں لوگوں نے بات کی تھی۔ ہماری دونوں جمہوریتیں اور ایک قریبی تعلق ناگزیر معلوم ہوتا ہے۔ یہ ”اگر” نہیں بلکہ ”کب” کا معاملہ ہے۔

 

مگر طویل عرصہ تک، درحقیقت کئی دہائیوں تک ہمیں مشکل راستوں پر چلنا پڑا۔ اس وقت امریکہ سرد جنگ لڑ رہا تھا۔

 

اس دوران انڈیا غیرجانبدار تحریک کے ذریعے اپنے آپ اور اپنی نئی و عزیز آزادی کو منوانے اور غیرجانبدار رہنے کے لیے کوشاں تھا۔ جب بھی ممکن ہوا ہم نے ایک دوسرے سے تعاون کیا، مگر کھل کر کہا جائے تو میرے خیال میں بیشتر لوگ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اکثر مواقع پر ہم اپنی پوری صلاحیت سے کام نہ لے سکے۔

 

ہم زیادہ تجارت نہ کر سکے کیونکہ انڈیا کی معیشت پابند تھی۔ لائسنس راج نے کاروبار اور سرمایہ کاروں کو خسارے اور سرخ فیتے کا شکار رکھا۔ پانچ سالہ منصوبے معتبر حکمت بن گئے جیسا کہ گزشتہ امریکی انتظامیہ میں 2 فیصد شرح نمو کو اچھا سمجھا جانے لگا تھا۔ ہم نے دیگر ایشیائی تجارتی شراکت داروں پر توجہ مرکوز کی اور پھر چھوٹے بچے خطے میں حقیقی شیر بن کر سامنے آئے۔

 

مگر 1991 میں جب انڈیا نے اپنے دروازے دنیا کے لیے کھولے تو سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ اس وقت وزیر اعظم راؤ نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ”ماضی کے جالے صاف کرے گی اور تبدیلی کا سفر شروع ہو گا۔”

 

انڈیا کی جانب سے آزاد منڈی کے حوالے سے کی جانے والی اصلاحات نے اختراع، کاروبار اور اس کے اپنے لوگوں کے لیے غیرمعمولی کاموں کی جانب بے مثل سفر ممکن بنایا۔ میگ نے اس حوالے سے بعض واقعات کا تذکرہ کیا ہے جنہیں دوبارہ بیان ہونا چاہیے۔

 

ابتدا میں 1997 سے 2017 تک سال بہ سال انڈیا میں ہماری شرح نمو 7 فیصد رہی۔ اس دوران کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا گیا۔ انڈیا انفارمیشن ٹیکنالوجی اور خدمات، انجینئرنگ، ادویہ سازی اور بہت سی دیگر اشیا کی تیاری کے میدان میں دنیا کا نمایاں ملک بن گیا جن کے بارے میں آپ سبھی بہتر جانتے ہیں۔ گزشتہ برس امریکہ اور انڈیا میں دوطرفہ تجارت کا حجم 142 ارب ڈالر تک جا پہنچا جو 2001 کے بعد سات گنا زیادہ ہے۔

 

علاوہ ازیں اب 500 سے زیادہ امریکی کمپنیاں انڈیا میں کامیابی سے کاروبار کر رہی ہیں۔ یقیناً امریکہ بھی اشیا اور خدمات کے حوالے سے اندازاً 20 فیصد انڈین برآمدات کی منڈی ہے۔

 

یہ خوشحالی جس کا آغاز 1991 میں ہوا تھا، کرہ ارض کے ہر کونے میں موجود انڈین لوگوں کے آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہوئی۔ آج ان سامعین میں موجود آپ میں سے بہت سے لوگ انڈیا کی اس نمایاں خوشحالی اور ترقی سے مستفید ہونے والوں کی پہلی یا دوسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

امریکی ترقی میں انڈین امریکیوں نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ انڈین باشندے صنعتی، تعلیمی اور حکومتی شعبے میں بلندیوں تک پہنچے۔ مائیکروسافٹ کے سی ای او، ایف سی سی کے چیئرمین ا ور کنساس سے تعلق رکھنے والی ایک بڑی شخصیت اجیت پائی جیسے لوگوں نے دنیا بھر میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔

 

دونوں سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے امریکی صدور نے امریکہ انڈیا قریبی تعلقات کے قیام کے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ اس حوالے سے 2000 میں صدر کلنٹن کے دورے نے ایک حقیقی آغاز فراہم کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک میں قریبی تعاون کی راہ ہموار کی اور پھر صدر بش نے ایک تاریخی سول جوہری معاہدے پر دستخط کیے۔

 

حال ہی میں صدر اوبامہ نے انڈیا کو ”بڑے دفاعی شراکت دار” کا درجہ دیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انڈیا کی مستقل نشست کی جستجو میں معاونت کی۔ امریکہ اس معاملے میں انڈیا کی حمایت جاری رکھے گا۔

 

صدر ٹرمپ کے زیر قیادت ہم دونوں ممالک میں دفاعی تعاون نئی بلندیوں تک لے گئے ہیں، خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے ہمارے مشترکہ تصور نے مزید مضبوطی پائی ہے اور پاکستان کی جانب سے خطے میں دہشت گردی کی ناقابل قبول مدد کے خلاف پہلے سے زیادہ کڑا موقف اپنایا ہے۔

 

2017 میں جب وزیراعظم مودی نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تو اس موقع پر ان کا صدر ٹرمپ کے ساتھ بے پایاں خیرسگالی کا تبادلہ ہوا۔

 

وزیراعظم مودی نے بھی کہا تھا کہ مضبوط، خوشحال اور کامیاب امریکہ میں ہی انڈیا کا مفاد ہے۔ اسی طرح انڈیا کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کا بڑھتا ہوا کردار امریکہ کے مفاد میں بھی اہم ہے۔ یقیناً اس بات پر میرا بھرپور اتفاق ہے۔

 

ہم نے طویل سفر طے کیا ہے۔ اب صدر ٹرمپ اور مودی کی حکومتوں کے پاس اس خصوصی شراکت سے فائدہ اٹھانے کا غیرمعمولی طور سے منفرد موقع ہے۔ ہم مزید آگے جا سکتے ہیں۔

 

میں یہ بتانا چاہوں گا کہ اس بات پر میرا اس قدر یقین کیوں ہے۔

 

میگ نے اس بات کو درست طور سے سمجھا ہے۔ چند ہی ہفتے قبل ایک واقعتاً تاریخی انتخابات میں 600 ملین انڈین رائے دہندگان نے ووٹ ڈالے جو تاریخ میں اس نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ تھا۔ انہوں نے جناب مودی کو بہت بڑا مینڈیٹ دیا۔

 

1971 کے بعد انڈیا کا کوئی وزیراعظم واحد جماعت کی اکثریت کے ساتھ دوبارہ منتخب نہیں ہو سکا تھا اور یوں انہیں بہت بڑی فتح ملی ہے۔

 

بہت سے مشاہدہ کاروں کے لیے انتخابی نتائج حیران کن تھے مگر مجھے ان پر حیرت نہیں ہوئی۔ میں اس حوالے سے بغور مشاہدہ کرتا رہا ہوں۔ دفتر خارجہ میں میری ٹیم قریبی جائزہ لے رہی ہے۔ ہم جانتے تھے کہ دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں وزیراعظم مودی ایک نئی طرز کے رہنما ہیں۔ وہ چائے فروش کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے 13 برس تک ایک ریاست کی سربراہی کرنے کے بعد دنیا میں ابھرتی ہوئی ایک حقیقی طاقت کی قیادت سنبھالی ہے۔

 

انہوں نے غریب ترین انڈین لوگوں کی معاشی ترقی کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔ درحقیقت انڈیا میں کروڑوں لوگ جنہیں روشنی کا بلب بھی نصیب نہیں تھا اب وہ بجلی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ کروڑوں لوگوں کو اب کھانا بنانے کے لیے چولہے میسر ہیں جو پہلے ان کے پاس نہیں تھے۔

 

یہ دلچسپ بات ہے کہ وزیراعظم کو ووٹ دینے والوں میں بڑی اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ حالیہ انتخابات میں انہیں سب سے زیادہ حمایت انہی کی جانب سے ملی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے آپ کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انڈیا کے ووٹر سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم مودی ان میں ہر ایک کے لیے نئے اور مزید خوشحال مستقبل کا دروازہ کھول سکتے ہیں اور کھولیں گے۔

 

جہاں تک میرا تعلق ہے تو وزیر خارجہ کی حیثیت سے میں جانتا ہوں کہ میرے پاس جناب جے شنکر کی صورت میں ایک نیا اور زبردست ہم منصب موجود ہے۔ وہ امریکہ میں انڈیا کے سابق سفیر ہیں اور یہاں موجود بیشتر لوگ انہیں جانتے ہیں۔

 

اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ گرمجوشانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ دوطرفہ احساس ہے۔ ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

 

اب میں بتاتا ہوں کہ اس حوالے سے ہماری سوچ کیا ہے۔

 

سب سے پہلے ہمیں ماضی سے کہیں زیادہ مضبوط تعلقات قائم کرنا ہیں۔ اس اجتماع، دراصل سفارتی دنیا کے حوالے سے ایک زبردست بات یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ ہمارا مضبوط رشتہ ہے۔ درحقیقت ہم نے اپنے چند بہترین دماغ انڈیا بھیجے ہیں جن میں ڈینیل پیٹرک مونیہان اور ہمارے موجودہ سفیر کین جسٹر جیسے لوگ شامل ہیں۔

 

تاہم مضبوط تعلقات استوار کرنا اس سے کہیں بڑی بات ہے۔ اس کا مطلب ان انفرادی دوستیوں کو باضابطہ بنانا اور دونوں ممالک کے لیے ایک سفارتی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم یہ کام کر چکے ہیں مگر ابھی بہت سا مزید کام باقی ہے۔ گزشتہ برس ہم نے 2+2 ڈائیلاگ شروع کیا تھا اور میں نے وزیر دفاع کے ساتھ اس میں شرکت کی تھی۔

 

ہم نے انڈیا، امریکہ، جاپان، اور آسٹریلیا کے چہار رخی ڈائیلاگ کو بھی نئی توانائی فراہم کی۔ یہ خطہ ہندوالکاہل میں ہم خیال جمہوریتیں ہیں۔ میں آئندہ ہفتے نئی دہلی میں اپنی ملاقاتوں کا منتظر ہوں اور یقیناً مجھے چائے کا بھی انتظار ہے۔

 

یہاں میں چند دیگر باتوں کا بھی تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کے بارے میں میرا خیال ہے کہ ہم یہ کام اکٹھے کر سکتے ہیں۔ ہمیں ایسا فریم ورک قبول کرنا ہو گا جن سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے۔ ہم ایک حقیقی خودمختار اور اہم ملک کے طور پر انڈیا کا احترام کرتے ہیں جس کی اپنی منفرد سیاست اور منفرد تزویراتی مسائل ہیں۔

 

ہم یہ بات جان گئے ہیں۔ ہمیں اندازہ ہے کہ چین اور پاکستان جیسے ممالک کے ساتھ سمندر پار سے نمٹنا اور بات ہے جبکہ ان کا ہمسایہ ہوتے ہوئے ان سے معاملہ کرنا کچھ اور ہے۔

 

اسی لیے کئی ماہ پہلے میں نے یہیں ایک آزاد اور کھلے خطہ ہندوالکاہل کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے تصور کی وضاحت کی تھی۔ اس کا آغاز اس تمہید سے ہوتا ہے کہ ہم مشترکہ اقدار کے مالک ہیں۔ یہ جمہوریت اور آزادی کی اقدار ہیں اور انسانی جذبے کی اختراع پسندی پر ہمارا بنیادی یقین ہے۔

 

یہ فطری بات ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو دنیا کی قدیم ترین جمہوریت کا شراکت دار ہونا چاہیے تاکہ پورے خطہ ہندوالکاہل میں ہمارے مشترکہ تصور کو برقرار رکھا جا سکے۔

 

ہمیں یہ بات بھی یقینی بنانا ہے کہ دونوں ممالک کو معاشی اعتبار سے کھلا ہونا چاہیے۔ ہمارا مرکزی تصور یہ ہونا چاہیے کہ دونوں ممالک آزاد اور خودمختار ہوں اور ہمیں اسی پر اپنے تعلقات استوار کرنا چاہئیں۔ اس تصور کو ایسی جگہیں درکار ہیں جہاں معاشی ترقی آمریت کے بجائے ہماری جمہوری اقدار کو مضبوط کرے۔ اس کے لیے ایسی جگہ درکار ہے جہاں ہماری شراکت حقیقی طور سے مساوات پر مبنی ہو اور اس میں کوئی فریق بالادست نہ ہو۔ گزشتہ برس نئی دہلی میں اپنی بات چیت اور بعدازاں فون اور باہمی ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کی بنا پر میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ممالک اسی تصور پر یقین رکھتے ہیں۔

 

تیسری بات یہ کہ ہم نے نتائج دینا ہیں۔ ہم نے عملی طور پر یہ سب کچھ کر دکھانا ہے۔

 

ٹرمپ انتظامیہ امریکی کمپنیوں کو مزید جدید ٹیکنالوجی سے مزین اشیا انڈیا کو برآمد کرنے کا اختیار پہلے ہی دے چکی ہے۔ اس میں مسلح یو اے وی جیسے جدید ترین دفاعی پلیٹ فارم اور بلسٹک میزائل دفاعی نظام بھی شامل ہیں۔ ہم ”ایشیا ایج پروگرام” پہلے ہی شروع کر چکے ہیں جس کا میگ نے حوالہ دیا ہے۔ اس کا مقصد انڈیا کو نجی سرمایہ جمع کرنے میں مدد دینا ہے تاکہ آنے والے برسوں میں اس کی توانائی اور سلامتی کی ضروریات پوری ہو سکیں۔

 

یہ اہم کامیابیاں ہیں مگر ہم اس سے زیادہ کے خواہاں ہیں۔

 

دفاع، توانائی اور خلا کے شعبے میں ہمارے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ یہ فہرست طویل ہے۔

 

دفاعی شعبے میں اپاچی ہیلی کاپٹروں کا پہلا مجموعہ اس وقت ایریزونا میں بوئنگ کی پروڈکشن لائن سے باہر آ رہا ہے۔

 

لاک ہیڈ مارٹن کے ایف 21 اور ایف/ اے 18 جدید ترین آلات سے لیس لڑاکا طیارے ہیں جو انڈیا کو اس اہلیت سے ہمکنار کر سکتے ہیں جو اسے پورے خطہ ہندوالکاہل میں سلامتی فراہم کرنے والے ہر اعتبار سے ایک مکمل ملک کے طور پر درکار ہے۔

 

توانائی کے شعبے میں ہم ویسٹنگ ہاؤس سول جوہری منصوبے کو مکمل کرنے اور مزید ایل این جی و خام تیل کی فراہمی کے خواہش مند ہیں۔ ان اقدامات سے انڈیا کو توانائی کے شعبے میں قابل اعتبار، قابل استطاعت اور متنوع خودمختاری میسر آئے گی۔ اس طرح انہیں وینزویلا اور ایران جیسی مشکل حکومتوں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

 

خلائی شعبے میں ناسا پہلے ہی دنیا کے جدید ترین زمینی مشاہداتی سیارچے اور چاند کی جانب انڈیا کے دوسرے مشن پر انڈین خلائی تحقیقی ادارے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ میرا مطلب ہے یہ کس قدر اچھی بات ہے۔

 

اب یقیناً ہم کچھ کڑے موضوعات کو کھوجیں گے۔ مگر ہماری جمہوریتیں یہ بات جانتی ہیں کہ ہم اپنے اختلافات کا حل نکالتے ہیں۔ ہم دیانتداری اور شفاف طریقے سے سے انہیں مذاکرات کی میز پر لاتے ہیں۔ غالباً ہم جی ایس پی پروگرام کے حوالے سے حالیہ فیصلے پر بات چیت کریں گے۔

 

میں پرامید ہوں اور ہم کھل کر بات چیت کریں گے، امید ہے کہ انڈیا میں ہمارے دوست اپنی تجارتی رکاوٹیں ختم کر دیں گے اور اپنی کمپنیوں، کاروبار، اپنے لوگوں اور نجی شعبے کے کاروباری اداروں کی مسابقتی صلاحیتوں پر اعتماد کریں گے۔

 

ہم سرحد پر معلومات کے آزادانہ بہاؤ کے لیے بھی زور دیں گے جس سے صرف امریکی کمپنیوں کو ہی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ معلومات کی حفاظت اور گاہکوں کی نجی معلومات محفوظ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

 

اس اخفا کی بات کرتے ہوئے ہم انڈیا کو محفوظ مواصلاتی نیٹ ورکس کی تشکیل میں مدد دینے کے خواہاں ہیں جس میں 5جی نیٹ ورک بھی شامل ہیں۔

 

دیکھیے، یہ وہ چند باتیں ہیں جن سے ہم سبھی آگاہ ہیں جو ہم سب کے ذہن میں ہمہ وقت موجود ہیں۔ میں ہر اس شے کی تفصیل بیان نہیں کر سکتا جس پر ہم نے بات چیت کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں آپ کا تجسس برقرار رکھنا چاہتا ہوں۔ تاہم یہ کہنا کافی ہے کہ یہ نہایت اہم تعلق ہے اور مجھے علم ہے کہ انڈیا میں نئی حکومت کے ساتھ ہماری بات چیت میں وہاں کے عوام، ہماری باہمی تعلقات اور دنیا کے لیے بہت کچھ ہو گا۔ مجھے امید ہے کہ ہم بالاآخر باہمی تعاون کے عظیم وعدے کی تکمیل کریں گے جو انڈیا کی آزادی کے وقت کیا گیا تھا اور جو آج بھی عیاں ہے۔

 

یہ بڑے تصورات ہیں۔ اسی کے لیے آپ یہاں آئے ہیں۔ ہمارے پاس بڑے مواقع بھی موجود ہیں۔ میں آئندہ ہفتے اپنے دورے، وزیراعظم مودی اور اپنے نئے ہم منصب سے براہ راست ملاقاتوں کا شدت سے منتظر ہوں۔

 

جیسا کہ وزیراعظم مودی نے اپنی تازہ ترین مہم میں کہا تھا ”مودی ہے تو ممکن ہے” یعنی مودی اسے عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔ میں یہ جاننے کا منتظر ہوں کہ دونوں ممالک کے عوام کے مابین کیا کچھ ممکن ہے اور مجھے میگ سے کہنا ہے کہ مجھے آج کی بات چیت کا انتظار ہے۔

 

آپ سبھی کا شکریہ (تالیاں)

 

مس جینٹل: جناب وزیر، کھلی بات چیت کے لیے آپ کا آج یہاں آنا ہمارے لیے بے حد اعزاز کی بات ہے۔ آپ نے تزویراتی اقدام کی بات بہت کچھ کہا اس لیے میں نے سوچا کہ شاید ہم تزویراتی سطح پر آغاز کریں گے۔ جب آپ خطہ ہندوالکاہل کی بابت سوچتے ہیں تو کون سی بات آپ کو خدشات میں مبتلا کرتی ہے؟ جیسا کہ آپ نے کہا ہمارے سامنے بہت سے نئے مواقع موجود ہیں۔ مجھے یہ پوچھنا ہے کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی راہ میں ہمیں کون سے مسائل پر قابو پانا ہو گا؟

 

وزیر پومپئو: دراصل میں نے امریکی چیمبر میں اپنی گفتگو کے آخری حصے میں اس بارے بات کی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے وقت کے ساتھ بہت اچھا کام کیا ہے مگر میں کھل کر کہوں گا کہ ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔

 

دیکھیے، ہم سبھی ان ممالک سے درپیش مشترکہ مسائل کی بابت جانتے ہیں جو ہماری اقدار پر یقین نہیں رکھتے، یہ وہ ممالک ہیں جو نجی ملکیت کے قوانین، قانون کی حکمرانی اور منظم آزادی کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ وہ چیزیں ہیں جن کی انڈیا اور امریکہ دونوں کے ہاں قدر ہے۔ ہمیں اکٹھے کام کرنے کے لیے کیا کرنا ہو گا؟ اس سلسلے میں ایک دو چیزیں اہم ہیں۔ اس کے لیے ہمیں حقیقی اعتماد اور عزم درکار ہے اور یہ کڑی محنت، اچھے برے وقت میں ساتھ دینے اور اس احساس کے ذریعے حاصل ہو گا کہ ہمیں دونوں ممالک کے لیے قابل قبول حالات پیدا کرنا ہیں۔

 

میں نے اس خطے میں وقت بتایا ہے اور میں نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے 15، 16 ماہ کے دوران اس خطے کے ممالک کا مشاہدہ کیا ہے جن میں انڈیا، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور ویت نام شامل ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ان ممالک کو اندازہ ہوا ہے کہ ہم بہت سے کام اکٹھے کر سکتے ہیں، ہمارے پاس بہت سے مشترکہ مواقع ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہمیں راست بازی کا مظاہرہ کرنا ہے، ہمیں دیانت داری کا مظاہرہ کرنا ہے، جہاں ہمارے اختلافات ہوں ہمیں انہیں قبول کرنا ہے، ہمیں انہیں دور کرنے کے لیے کام کرنا ہے، ہمیں ایسے سمجھوتوں تک پہنچنا ہے جن سے خطے میں ہر ملک کے لیے اچھے نتائج سامنے آئیں اور مجموعی طور پر اس انداز میں کام شروع کرنا ہے جس سے دنیا بھر میں ترقی ہو اور آئندہ پانچ، دس، بیس برسوں میں خطہ ہندوالکاہل کے یہ ممالک آگے بڑھ سکیں۔

 

مس جینٹل: آپ کی یہ بات میرے لیے واقعتاً حوصلہ افزا تھی جس میں آپ نے ایسے صنعتی شعبہ جات کا تذکرہ کیا جہاں امریکہ اور انڈیا کے مابین معاشی تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چنانچہ جب آپ گزشتہ برس چیمبر کے اجلاس میں پیش کردہ حکمت عملی کو سامنے رکھتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کون سے معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے کا خیال آتا ہے؟

 

وزیر پومپئو: میں نے آج ان میں سے چند ایک پر بات کی ہے۔ میں نے آپ کو اپنی داستان نہیں سنائی۔ کانگریس کی نشست کے لیے انتخاب لڑنے سے پہلے میں نے انڈیا میں کاروبار کیا تھا۔ میں فضائی صنعت کے لیے مشینی پرزے بنانے کا ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا تھا۔ اس سلسلے میں مجھے بنگلور اور چنائی میں خاصا وقت گزارنے کا موقع ملا ہاں میں نے ایچ اے ایل یعنی ہندوستان ایوی ایشن لمیٹڈ کے ساتھ کام کیا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا مشترکہ کاروبار تھا جس میں ہم اپنی تیار کردہ اشیا فروخت کرتے تھے۔ میں آپ کو اس بارے میں بتاؤں گا۔ یہ سخت کام تھا۔ اس وقت انڈیا اپنے دروازے کھول رہا تھا۔ تاہم وہاں کاروباری فوائد موجود تھے اور ہم ان سے مستفید بھی ہوئے۔

 

جب میں اس بارے میں سوچتا ہوں اور جب میرے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ ایک دوسرے کے ہاں سرمایہ کاری کے موقع پر ہمیں کون سے کاروبار پر توجہ دینا ہے تو یہ سامنے آتا ہے کہ اس معاملے میں ہمیں استحکام کی ضرورت ہے، ہمیں قوانین کے مجموعے کی ضرورت ہے جنہیں سمجھا جا سکے اور ہمیں یہ امر یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کی جانب سے کی جانے والی کوششوں پر سبھی فریقین کا خاطرخواہ حد تک اتفاق ہو۔ ان میں تقسیم اور مخالفت کا عنصر نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ ہمارے ہاں انتخابات میں ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ سرمایہ کاری کریں تو کوئی خاص کانگریس یا حکومت آنے پر آپ کا منافع متاثر نہ ہو۔

 

اگر ہم یہ سب کچھ کر سکتے ہیں، میں نے اس سلسلے میں چند شعبہ جات کا تذکرہ کیا ہے۔ ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں واقعتاً ایسا ہی ہو رہا ہے۔ میں ان حیران کن اور ذہین انڈین طلبہ کو جانتا ہوں جو میرے آبائی علاقے میں وچیٹا سٹیٹ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں۔ حیرت انگیز کام کرنے والے اور حیران کن صلاحیتوں کے مالک بہت سے لوگ ایسی جگہوں پر کام کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ پیسہ کما سکیں اور کامیابی حاصل کر سکیں۔ انہیں اس کی پروا نہیں کہ آیا یہ کام کسی انڈین کمپنی میں ہونا چاہیے یا امریکی کمپنی میں۔ وہ بس اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

 

اگر دفتر خارجہ میں ہم اس کی بنیاد رکھ سکتے ہیں تو پھر مجھے یقین ہے کہ یہاں موجود لوگ بہت اچھا کام کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ خطرات مول لیں گے، سرمایہ کاری کریں گے، یہ لوگ یہاں اور انڈیا میں سرمایہ کاری کریں گے اور ہم اپنے تعلقات کی دونوں اطراف کو ترقی دیں گے۔

 

مس جینٹل: جناب وزیر، جیسا کہ آپ نے معیشت کا ذکر کیا، جیسا کہ آپ کو توقع ہے، میں ایک منٹ کے لیے توانائی کے شعبے پر بات کرنا چاہوں گی، یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر میں گہری نظر رکھتی ہوں۔ میں نے آپ سے اور امریکی انتظامیہ میں دیگر لوگوں کی زبانی سنا ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے مابین تعلقات مضبوط بنانے میں توانائی کا شعبہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ معاف کیجیے ذومعنی طور سے ہم اسے ”ترقی کا ایندھن” بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایل این جی کی بدولت مودی انتظامیہ کے صاف ہوا اور کاربن سے پاک معیشت سے متعلق بہت سے اقدامات اور مقاصد کا حصول ممکن ہے۔ چنانچہ ہماری توانائی کی کمپنیاں دفتر خارجہ کے تزویراتی اقدامات کی مطابقت سے کیسے کام کر سکتی ہیں؟

 

وزیر پومپئو: یہ نہایت شاندار سوال ہے۔ میں اس پر بہت سی گفتگو کر چکا ہوں۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ اس سے ناصرف امریکی کاروبار کو ایک حقیقی موقع میسر آئے گا بلکہ عالمگیر ترقی میں بھی اضافہ ہو گا۔ ہمارے ملک میں قابل استطاعت توانائی کی فراوانی ہے اور اب ہمارے ہاں اس کی بہت بڑی پیداوار ہے۔ اس میں ناصرف خام تیل بلکہ قدرتی گیس بھی شامل ہے۔

 

چنانچہ ہم نے اپنے ہاں یہ امر یقینی بنانا ہے کہ ضرورت کے مطابق بنیادی ڈھانچہ موجود ہو تاکہ ہم ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں اور مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن ہو سکے۔ اس کے بعد دفتر خارجہ کا کردار یہ امر یقینی بنانا ہے کہ ہم دنیا کو بتائیں کہ ہم توانائی کے شعبے میں ان کے قابل اعتبار شراکت دار بن سکتے ہیں۔ جب آپ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو سرمایہ 10، 20 اور 40 سال تک کے لیے رسک پر ہوتا ہے، اس لیے ہمیں یہ امر یقینی بنانا ہے کہ وہ ہمیں اپنا قابل اعتبار شراکت دار سمجھیں۔ انہیں یقین ہو کہ ہم معاہدوں پر پورا اترتے ہیں، ہم نتائج دے سکتے ہیں، ہمارا قیمتوں کا طریقہ کار درست ہو گا اور سرمایے کی منڈیاں یہ بات یقینی بنائیں گی کہ یہ پیداوار قابل استطاعت انداز میں دوسروں تک پہنچ سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے کی صورت میں ہم دنیا میں بہت سی جگہوں پر ترقی کی رفتار تیز کریں گے اور میری رائے میں انڈیا اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ہمارے ساتھ شراکت کی صورت میں ان کے پاس توانائی کے مکمل طور سے متنوع ذرائع موجود ہوں گے اور یوں انہیں ایسے ممالک پر انحصار کی ضرورت نہیں پڑے گی جن پر امریکہ کی طرح اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے ساتھ شراکت کے نتیجے میں ان کے پاس اچھے نتائج ہوں گے جن پر ان کے کاروباری رہنما بھروسہ کر سکتے ہیں اور میں صاف طور سے کہوں گا کہ انڈیا میں سرمایہ کاری کے بارے میں سوچنے والے امریکی بھی ان پر اسی طرح بھروسہ کریں گے۔

 

مس جینٹل: ناصرف ملکی بلکہ ریاستی سطح پر بھی بنیادی ڈھانچہ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس کانفرنس میں جس موضوع پر بات کی کوشش کی گئی ہے وہ ریاستوں اور شہروں کے مابین تعلقات کا قیام ہے۔ کیا آپ اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں کہ مجموعی قومی سلامتی کے دائرے میں دیکھا جائے تو ریاست اور مقامی سطح پر تعلقات کس قدر اہم ہیں اور ریاستی و مقامی اقدامات کو بہتر بنانے کے لیے کاروباری شعبے کی جانب سے کیا کچھ ہو سکتا ہے؟

 

وزیر پومپئو: مجھے اندازہ نہیں کہ آپ کے دوسرے سوال کا جواب کیا ہو سکتا ہے۔ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم یہاں امریکہ میں یہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں۔ جب وفاقی حکومت کی جانب سے کسی بڑے منصوبے کی اجازت دی جاتی ہے تو مختلف وجوہات کی بنا پر کوئی شہر یا ریاست بھی اس کی میزبان ہو سکتی ہے۔ دوسرے ممالک میں کاروبار کرنے حوالے سے بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔ وہاں بعض جگہوں پر مقامی ضوابط لاگو ہوتے ہیں یا ایسی جگہیں بھی ہوتی ہیں جہاں کسی خاص منصوبے میں وفاقی حکومت کا مفاد نہیں ہوتا۔

 

دیکھیے، میں سمجھتا ہوں کہ کاروباری رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں اس معاملے میں دیانت دارانہ طرزعمل اپنانا ہے۔ ہمیں اس صورتحال سے واسطہ پڑنا ہے۔ ہمیں اسے یوں دیکھنا ہے کہ یہ کیونکر ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور اس کی اتنی اہمیت کیوں ہے۔ یقیناً ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب وفاقی سطح پر اس بارے میں فیصلہ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ ان فیصلوں کے اثرات کسی خاص ریاست تک محدود نہیں ہوتے اور ان سے امریکہ کی تمام امریکیوں کی قومی سلامتی یقینی بنانے پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے خودمختار ممالک پر بھی یہی بات صادق آتی ہے۔

 

سوال: جیسا کہ آپ کاروباری نکتہ نظر سے جانتے ہیں، ہم خبریں دیکھتے ہیں اور حالیہ اطلاعات پر نظر ڈالی جائے تو کچھ لوگ مستقبل کی کاروباری شراکت کی بابت خدشات سے دوچار ہیں۔ ایسے کون سے طریقے ہیں جن کی بدولت ہم ان کے خدشات کا ازالہ کر سکتے ہیں اور منڈیوں کو امریکہ انڈیا شراکت کی بابت یقین دہانی کرا سکتے ہیں؟

 

وزیر پومپئو: دیکھیے، میرے خیال میں اگر آپ موجودہ انتظامیہ کے ڈھائی برس پر نظر ڈالیں تو جن ممالک نے ہمارے ساتھ شراکت قائم کی اور ہمارے ساتھ سرمایہ کاری کا انتخاب کیا ، جنہوں نے اپنی منڈیاں کھولیں اور جو امریکی کاروباروں کو اپنے ملک جیسی شرائط پر سرمایہ کاری کی اجازت دینے کو تیار ہیں تو میرے خیال میں انہوں نے اپنے لیے امریکی دروازے کھلتے دیکھے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے حقیقی موقع پایا ہے۔

 

جہاں مسابقت کی بات ہو تو امریکی کاروبار بے خوف ہوتے ہیں۔ ہم کچھ نہ کچھ کھو دیں گے مگر ہم اپنا جائز حصہ وصول بھی کر لیں گے۔ ہر دو صورتوں میں ہم دونوں ممالک کے مفاد کو آگے بڑھائیں گے۔ میں نے دیکھا ہے، میں تجارتی نظام کے ذریعے کام کرتے ہوئے ایسی بیشتر گفت وشنید میں شامل رہا ہوں۔ ایسے نظام بھی تھے جنہیں شفاف نہیں کہا جا سکتا تھا اور صدر ٹرمپ نے اس ضمن میں پلڑا برابر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہم اس حوالے سے بے حد راستباز ہیں۔ ہم نے اپنے مقاصد کے حصول کی بابت دیانت داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں مالیاتی رکاوٹیں اور نان ٹیرف رکاوٹیں شامل ہیں۔ ہم ایسے مرکزی تصورات سے مطابقت کی حامل منڈیاں کھولنے کے لیے کوشاں ہیں جنہیں ہم امریکہ میں عزیز رکھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح انڈیا ایک مکمل شراکت دار اور ہمارے لیے اس نتیجے تک پہنچنے کی بہترین جگہ ہے کہ اپنی معاشیات کو کیسے ترقی دی جائے اور دونوں ممالک کے لیے مفید حالات کیسے تشکیل دیے جائیں۔

 

مس جینٹل: ہم امریکی حکومت میں بہت سے اداروں سے یہ سن رہے ہیں جن میں چیمبر آف کامرس سے وزیر راس، او پی آئی سی، میرا خیال ہے کہ یو ایس ٹی ڈی اے بھی شامل ہے ۔ اب جبکہ ادارے تجارتی اقدامات کے ذریعے مصروف عمل ہیں تو ہم کاروباری لوگ یہ امر کیسے یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہمارے مفادات آپ کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں؟ انڈیا سے برعکس ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ اور حکومت کے ساتھ مل کر کام نہیں کرتے۔

 

وزیر پومپئو: جی، دیکھیے، ہمارے پاس ایک بے قانون اور بے قابو حکومت ہے (قہقہہ) ہم نے مختلف ادارے اور اختیارات جب بہت سے اداروں سے معاملہ کرنا ہو گا، یہ سچ ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم اس کا کوئی حل ڈھونڈ لیں گے کہ ایسے انداز میں کیونکر ربط قائم کیا جائے جو اہم اور شفاف ہوں تاکہ کاروبار اپنے مسائل کے حل کے لیے ان اداروں میں درست سطح پر رہنماؤں سے رابطہ کر سکیں اور یہ رہنما دوسرے ممالک میں اپنے ہم منصبوں تک رسائی حاصل کریں خواہ یہ تجارت کے محکمے میں ہوں یا خزانہ میں اور اگر سلامتی سے متعلق کوئی مسئلہ ہو تو محکمہ دفاع سے رجوع کیا جا سکے۔

 

ہم نے اس پر کڑی محنت کی ہے۔ میں آپ کو بتاؤں کہ ان میں سے ہر ادارے میں اعلیٰ سطحی حکام کو واضح رہنمائی دی گئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ہمارے مفادات مختلف ہو سکتے ہیں کیونکہ ہم امریکی حکومت کے مختلف حصوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اور ہماری افسر شاہی شفاف اقدامات کی ہی منظوری دے سکتی ہے۔ اگر ہمیں اس ضمن میں کوئی مسائل درپیش ہوئے تو ہم انہیں حل کریں گے۔ مجھے امید ہے دفتر خارجہ میں غیرشفاف طریقے سے کوئی کام نہیں ہو گا اور اگر ایسا ہوا تو مجھے امید ہے کہ کوئی نہ کوئی مجھے اس کی اطلاع دے گا۔

 

مس جینٹل: مجھے آپ کو اطلاع دے کر خوشی ہو گی۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس مزید وقت نہیں ہے۔ اس بات چیت کو مزید 20 منٹ تک جاری رکھا جا سکتا ہے۔ مگر ہم آپ کے اقدامات کی تائید کرنا چاہتے ہیں۔ میں آپ کے دورے اور اچھی چائے کے حوالے سے نیک خواہشات رکھتی ہوں۔ ہم انڈیا کے ساتھ کاروبار، حکومت اور دیگر معاملات میں امریکی شراکت کے منتظر ہیں اور اس حوالے سے آپ کی یہاں آمد کا شکریہ۔

 

وزیر پومپئو: شکریہ، آپ سبھی کا بے حد شکریہ۔

 

مس جینٹل: شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker