مسلم دنیا

مریم، بلاول ملاقات میں حکومت مخالف لائحہ عمل پر گفتگو کا امکان

اسلام آباد:15؍جون(بی این ایس)پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی ملاقات کی دعوت پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اتوار کی سہ پہر جاتی امرا جائیں گے۔ حزب اختلاف کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی نوجوان قیادت کے درمیان اس ملاقات کے بعد حکومت مخالف تحریک کے امکانات زور پکڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مریم نواز نے لاہور کے دورے پر آئے ہوئے بلاول بھٹو کو فون کیا اور انہیں اتوار کے روز سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی امرا میں کھانے کی دعوت دی جسے بلاول بھٹو نے قبول کر لیا۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مریم نواز شریف کی دعوت پر پی پی پی چیئرمین اتوار دوپہر ڈیڑھ بجے جاتی امرا آئیں گے اور اس ملاقات میں دونوں جانب سے چند قریبی رفقا بھی شریک ہوں گے۔
بلاول بھٹو نے، جو لاہور کے تنظیمی دورے پر ہیں، اپنی پریس کانفرنس میں مریم نواز کی دعوت قبول کرنے کی تصدیق کی اور کہا کہ ملک کے سیاسی، معاشی، جمہوری اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کہ جدوجہد کرنا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ نظریاتی اختلافات ہیں۔ لیکن، حکومت کی غلط پالسیوں اور عوام دشمن بجٹ کو روکنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
ملک کی دو بڑی جماعتوں کی قیادت کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت بدعنوانی کے الزامات پر گرفتار ہے۔
رواں ہفتے ہی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اور مسلم لیگ ن کے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو نیب نے گرفتار کیا ہے، جبکہ مریم نواز کے والد اور جماعت کے قائد نواز شریف پہلے سے جیل میں ہیں۔
مریم نواز نے گذشتہ روز فریال تالپور کی گرفتاری کی مذمت کی تھی اور اس سے قبل بلاول بھٹو نواز شریف سے ملاقات کے لیے کوٹ لکھ پت جیل لاہور گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی نئی قیادت کے درمیان ہونے والی اس ملاقات میں دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی گرفتاری اور حکومت مخالف لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات گذشتہ ماہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کی افطار بیٹھک کا تسلسل ہے، جس میں بلاول بھٹو نے مریم نواز کو مدعو کیا تھا۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینٹر پرویز رشید کہتے ہیں کہ ملکی سیاست میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ملک کو درپیش مسائل کے حوالے سے دونوں جماعتوں کی نوجوان قیادت میں آپس میں بات چیت کی خواہش موجود ہے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات میں بلاول بھٹو اور مریم نواز کے درمیان ان کے خاندان کو درپیش مسائل کی بجائے پاکستان کے عوام کے حقوق اور مسائل پر بات جیت ہوگی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، مریم نواز اور بلاول بھٹو کے درمیان یہ ملاقات ملک کے سیاسی صورتحال پر کوئی زیادہ اثرات مرتب نہیں کر پائے گی۔
وائس آف امریکہ سے بات کرت ہوئے تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کوئی بڑا محاذ کھڑا کر سکتی ہے، جبکہ ان کے درمیان ایجنڈے پر اتفاق ہے نہ ہی حکمت عملی پر۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار غریدہ فاروقی کے مطابق مریم نواز کی دعوت گذشتہ ماہ ہونے والی بلاول کی افطار پارٹی کے جواب میں ہے جس میں آصف زرداری اور حمزہ شہباز بھی شریک تھے جو کہ گرفتار ہونے کے باعث اتوار کو ہونے والی ملاقات میں شامل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پارٹی صدر شہباز شریف مریم اور بلاول کی اس ملاقات میں شریک ہوتے ہیں جو کہ گذشتہ ملاقات کے وقت بیرون ملک تھے۔
غریدہ فاروقی کے مطابق، دونوں رہنماؤں کا سیاسی مستقبل واضع نہیں ہے۔ مریم نواز ضمانت پر ہیں اور بلاول بھٹو پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ اس بنا پر یہ ملاقات ملکی سیاست کا رخ تو نہیں موڑ سکے گی، البتہ حزب اختلاف کے متحرک ہونے کا تاثر ملتا رہے گا۔
خیال رہے کہ آئندہ ہفتے حزب اختلاف کی جماعتوں کی کل جماعتی کانفرنس ہونے والی ہے، جس میں حکومت مخالف تحریک کے لائحہ عمل پر اتفاق کیا جائے گا۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker