آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

نئے تعلیمی سال پر ارباب مدارس سے چند گذارشات

 

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

 

اسلامی سال کی ابتداء تو ماہ محرم الحرام سے ہوتی ہے، لیکن بر صغیر ہند و پاک میں مدارس اسلامیہ میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ماہ شوال المکرم سے ہوتا ہے ،رمضان المبارک کی لمبی و طویل تعطیل (چھٹی) کے بعد ماہ شوال کی ابتداء میں ہر چہار جانب سے مدارس اسلامیہ کی طرف طلبہ کا رجوع ہوتا ہے ،اور تقریبا ماہ شوال کا اکثر حصہ بلکہ بڑے اور مرکزی مدرسے میں ذی قعدہ کا پہلا عشرہ بھی داخلہ کی کارروائی میں گزر جاتا ہے ۔

اس میں کوئ شک نہیں کہ مدارس اسلامیہ دین کے مضبوط قلعے ہیں ، فہم شریعت اور قرآن و سنت کے ترجمان ہیں ۔ یہ مردم گری و رجال سازی کے کار خانے ہیں، صحیح اقدار و روایات کے امین ہیں انسانیت کی تعمیر و تشکیل میں ان کا اہم رول ہے ،قوم و ملت کو باطل سے ٹکرانے کا بھر پور سلیقہ اور طاقت ان ہی مدارس کے اندر ہے ۔ اسلامی تشخص اور ملی شعار کے بقا میں ان مدارس کا نمایاں رول و کردار ہے ملت کے نونہالوں کو ارتداد سے بچانے میں ان مدارس کا زبردست کردار ہے اور آج بھی یہ دینی مدارس یورپین تہذیب اور مغربی کلچر اور لا دینی ثقافت سے اپنے جیالوں اور سپوتوں کو کسی نہ کسی حد تک محفوظ رکھے ہوئے ہیں ۔ اسلام اور شعار اسلام کو باقی رکھنے کے لئے مدارس کی کل بھی ضرورت تھی آج بھی ہے اور کل مستقبل میں بھی رہے گی ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں مدارس کا جو رول اور کردار رہا ہے اب اس میں کمی اور زوال ارہا ہے اور اس کی فعالیت میں بہت کمی آگئ ہے اس کی بنیادی وجہ جہاں اخلاص و للہیت کی کمی ہے وہیں نظام تعلیم و تربیت اور داخلہ کی کاروائی میں بے شمار خامیاں، کمیاں اور نقائص بھی ہیں، جن میں سے چند کی جانب ۰۰آج کا پیغام۰۰ کالم میں ہم اشارہ کر رہے ہیں اور ان کمیوں اور خامیوں کے تدارک اور سد باب کے لئے کچھ تجویزیں پیش کرتے ہیں _

(۱ ) اکثر مدارس میں داخلہ کی کاروائی میں تقریبا پورا مہینہ (بلکہ بعض مرکزی اداروں میں ذی قعدہ کا پہلا عشرہ) صرف ہوجاتا ہے،طلبہ کی آمد میں یکسانیت نہیں ہوتی افراط و تفریط پائ جاتی ہے ۔ کچھ طلبہ شوال کے شروع میں وقت پر ہی آجاتے ہیں لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، کچھ طلباء درمیان شوال اور اخیر شوال میں اور بہت سے طلباء تو ذی قعدہ کے آخری عشرہ میں آتے ہیں ۔ اس لئے اس میں یکسایت لانے کی سخت ضرورت ہے، اس کے لئے ایسا سٹیک اور مضبوط نظام اور لائحئہ عمل مرتب کیا جائے کہ طلبہ وقت مقررہ پر مدرسہ حاضر ہو جائیں اور خوشگوار ماحول میں دو تین دن کے اندر اپنے داخلے کی کاروائی اور تجدید داخلہ کرا لیں ۔

جدو قدیم طلبہ کے داخلہ کے کارروائی ایک ہفتہ مین ممکن ہے یہ کام اتنے وقت میں آسانی سے انجام پاسکتا ہے لیکن خواہ مخواہ اس کو طول دیا جاتا ہے اور ہفتہ کے کام کو مہینے میں پھیلا دیا جاتا ہے ۔ طلبہ کو ہر حال میں مکلف بنایا جائے کہ وہ وقت مقررہ پہ ضرور پہنچ جائیں ۔

(۲ ) نئے طلبہ کے داخلے کے لئے جو ٹیسٹ اور امتحان لیا جائے اس میں کسی طرح کی کوئ رعایت نہ برتی جائے اور قابلیت و استعداد اور اہلیت ہی کی بنیاد پر مطلوبہ درجہ میں داخلہ لیا جائے ۔

(۴ ) تعلقات ،رابطے اور بے جا سفارش کی بنیاد پر بھی کسی طالب کو اوپر درجہ میں بغیر قایلیت اور استحقاق و استعاد کے داخل نہ کیا ۔

(۴ ) طالب علم سابقہ مدرسہ سے جو تصدیق نامہ لائے اس کی بھی تحقیق کی جائے اور وہاں کے ذمہ داروں سے اطمنان حاصل کر لیا جائے ۔ داخلے کے وقت نام ،مقام اور تاریخ پیدائش وغیرہ کے خانہ کو صحیح سے پر کرایا جائے اور اس کی وضاحت بھی کردی جائے کہ بعد میں اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے داخلہ لینے والے طالب علم کو اس کا لازمی مکلف بنایا جائے کہ وہ اپنے ساتھ پہچان پتر آدھار کارڈ اور دیگر تعلیمی اور اخلاقی تصدیق نامہ بھی ضرور لائے ۔ سرکاری کاغذات اور شناختی و آدھار کارذ میں جو نام ،مقام اور تاریخ پیدائش درج ہے وہی تفصیلات نئے فارم میں بھی درج کرے ۔ مشکوک اور اجنبی طالب علم کا داخلہ بغیر تصدیق اور تحقیق کے نہ لیا جائے ۔ ملک کے جو علاقے اور خصوصا سرحدی حصے انتہائی حساس ہیں وہاں کے طلباء کو ضلع کے حاکم یعنی ڈی ایم کی طرف سے جو تصدیق نامہ دیا جاتا ہے اس کو لینے کے بعد ہی مدرسہ میں اس کا داخلہ لیا جائے ۔ طلبہ کو پابند بنایا جائے کہ دوران طالب علمی خارجی سرگرمیوں میں جو تعلیم و تربیت کے لئے مضر ہیں قطعا شریک نہیں ہوں گے ۔ خاص طور پر سیاسی ریلی وغیرہ میں ۔

(۵ ) مستحق اور حق دار طلبہ ہی کا غیر مستطیع داخلہ لیا جائے اور اس سلسلے میں پوری تحقیق اور چھان بین کی جائے اور ایک نظام مرتب کیا جائے ،جس سے مستحق اور غیر مستحق کا امتیاز اور فرق ہو سکے ۔ عام طور پر دیکھا جارہا ہے کہ طالب علم غیر مستطیع داخلہ لے کر مدرسہ میں پڑھ رہا ہے ۔ اس کے گھریلو حالات کی تفتیش نہیں کی گئ اب حال یہ کہ اس طالب علم کے پاس مہنگا ملٹی میڈیا موبائل ہے جس کی قیمت دس بیس ہزار سے چالیس ہزار تک ہے اور پکڑے جانے پر بہانا بناتا ہے کہ میرا موبائل نہیں ہے، محلہ کے فلاں دوست کا ہے ہم نے اس سے تھوڑی دیر کے لئے لیا تھا ۔ بعض دفعہ ایسا ہوا کہ نگراں نے دبش دی اور موبائل ضبط کرلیا ہفتہ بعد اسی غیر مستطیع طالب علم نے اسی قیمت کا بلکہ اس سے قیمتی اور مہنگا دوسرا موبائل خرید لیا ۔

 

(۶ ) مدارس اسلامیہ میں موبائل کے استعمال پر پابندی ہو اور خبر رسانی اور طلبہ کو وقت ضرورت ان کے گھر یلو حالات اور خیر وخیرت سے آگاہ اور واقفیت کرانے کے لئے کوئ نعم البدل تلاش کیا جائے ،اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہر ہاسٹل میں لینڈ لائن فون اور چپراسی (واچ مین) کا انتظام کیا جائے، عمموما مدارس میں موبائل پر جو پابندی نہیں لگ پاتی ہے اس ایک وجہ ذمہ دارن مدارس کا یہ خوف اور واہمہ ہے کہ اگر موبائل پر پابندی لگادیں گے تو طلبہ کم ہوجائیں گے اور وہ دوسرے مدرسہ میں داخلہ لے لیں گے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کا الٹرنیٹ اور بدل تلاش نہیں کیا جاتا ہے ۔ ایک اور وجہ اسٹاف اور اساتذہ کے بچے بھی بنتے ہیں جو مخصوص بچوں کے موبائل فون اپنے گھر میں رکھتے ہیں اور چھپ چھپا کر ان دوست طلبہ کو دیتے رہتے ہیں ۔ طلبہ میں اور خاص طور پر مدارس اسلامیہ کے طلبہ میں علمی و اخلاقی انحطاط و زوال اور پستی کی وجہ ملٹی میڈیا موبائل کا استعمال ہے ۔ اس آلہ کے غلط استعمال نے طلبہ کو کہیں کا نہیں رہنے دیا ہے ۔ طلبہ کے اندر علمی اور ادبی ذوق و شوق کا فقدان اسی آلہ کی وجہ سے ہے ، طلبہ ہی نہیں مدارس کے اساتذہ کرام بھی موبائل فون میں گھنٹوں اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں اور موبائل کو ٹائم پاس کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔

یہ بھی حقیقت کہ اگر طلبہ اور اساتذہ اس کا صحیح استعمال کرلیں اور اس کو خبر رسانی کے ساتھ معلومات اور علمی چیزوں کے لئے استعمال کرنے لگیں تو اس سے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ اس میں بہت سے علمی ایپس وغیرہ بھی موجود ہیں مثلا شاملہ اور ڈکشنری اور تحقیقی مواد وغیرہ لیکن کم لوگ ہیں جو اس کو مثبت کاموں کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ زیادہ تر طلبہ اس میں گیم کھیلتے نظر آتے ہیں تصویریں کھینچتے ہیں سیلفی لیتے ہیں یا جوک اور گانا سنتے ہیں ۔ دنیا کی ہر برائ اور فحش اس میں موجود ہے جو طالب علم ان فحش اور گندی چیزوں کو دیکھے گا وہ کبھی روحانی اور ربانی علم سے اپنے کو بہرہ مند نہیں کر سکے گا ۔ کیوں کہ علم دودھ کی طرح ہے جس طرح دودھ کو صحیح رکھنے کے لئے برتن کا صاف و شفاف رکھنا ضروری ہے اسی طرح علم کی حفاظت اور حصول کے لئے ظاہر و باطن جسم اور روح کو پاک صاف رکھنا ضروری ہے ۔

(۷) مدارس اسلامیہ میں داخلہ کے نظام کو چوکس کیا جائے اور جدید عصری و دینی تعلیم گاہوں سے اور وہاں کے نظام داخلہ سے استفادہ کیا جائے، ،ہر طالب علم کا پورا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو جب ضرورت پڑے اس کے پورے تعلیمی اور اخلاقی ریکارڈ کو دکھایا جاسکے ۔ پورے سال کی چھٹیوں کا نظام اور تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی ترتیب پہلے بنا لی جائے اور اس کو مرتب کرکے اس کے مطابق عمل کرایا جائے ، موسم اور حالات کی وجہ سے اس میں جزوی تبدیلی کی جاسکتی ہے ۔ طلبہ کی چھٹی کا بھی باقاعدہ نظام ہو، درخواست کے بغیر چھٹی قطعا نہ دی جائے، اس کو خود سے درخواست لکھنے کا مکلف بنایا جائے ۔ بہت سے طلبہ ہیں جو عربی سوم اور چہارم میں پہنچ جاتے ہیں لیکن ان میں درخواست لکھنے کی لیاقت اور صلاحیت نہیں ہے ۔

درجہ میں حاضری فیصد اور ثقافتی سرگرمیوں اور پروگراموں میں حاضری فیصد کا نظام بہت ہی چوکس بنایا اور رکھا جائے اور اس پر سختی سے عمل کرایا جائے ۔

(۸ ) نظام الساعات و الدورس یعنی گھنٹوں کی ترتیب و سیٹینگ کسی ماہر تجربہ کار اور باصلاحیت استاد کے سپرد ہو،جن کو تعلیمی تجربہ ہو اور درس و تدریس کا سلیقہ ہو ،اور اساتذہ کی صلاحیت اور ان کے فن سے دلچسپی سے واقف و آگاہ ہو اور بہتر یہ ہے کہ خود ناظم مدرسہ اور مہتمم صاحب اس پر نظر ثانی کریں اور اس کو ملاحظہ کرلیں ۔ جس استاد کو جس فن سے دلچسپی ہو اور جس فن میں اختصاص ہو وہی فن اور مضامین ان کے سپرد کئے جائیں ۔ تعلقات اور رابطہ کی بنیاد پر کسی نااہل اور غیر صلاحیت مند استاد کو کوئ کتاب تدریس کے لئے ہرگز نہ دی جائے ۔

(۹ ) اساتذہ کی تقرری میں رشتے ناطے اور تعلقات کو نہ نبھایا جائے بلکہ علمی اور تدریسی ملکہ کو ترجیح دی جائے ۔ صلاحیت و لیاقت کے ساتھ ان کی صالحیت کو بھی دیکھا اور پرکھا جائے ۔ بعض اساتذہ بہت ذھین ہوتے ہیں اچھی صلاحیت اور استعداد کے مالک ہوتے ہیں لیکن ذہن معتدل اور ہموار نہیں ہوتا ،بڑوں کی صحبت میں نہیں بیٹھے ہوتے ہیں اور نہ ان سے براہ راست استفادہ کئے ہوتے ہیں بلکہ ایسے لوگ اس کو اپنے لئے کسر شان سمجھتے ہیں ۔ ایسے لوگ اور ایسے اساتذہ سے ان کی صلاحیت و استعداد کے باوجود مدرسہ کو فائدہ کم ،نقصان زیادہ پہنچتا ہے ۔ وہ طلبہ کی غلط اور منفی رہنمائی کرتے ہیں جس سے مدرسہ میں آئے دن ہنگامہ کھڑا رہتا ہے ایسے اساتذہ پس پردہ بہت کچھ گل کھلاتے رہتے ہیں ۔ بہت کم ادارے اور مدارس ان سے خالی ہیں ۔

( ۱۰ ) اساتذہ کرام کی ٹریننگ اور ان کے اندر تدریسی ملکہ اور صلاحیت پیدا کرنے کے لئے ماہرین تعلیم و تربیت کے محضرات اور لیکچرس رکھے جائیں ۔

لیسن پلان یعنی سبق کی پیشگی تیاری یہ طریقہ تدریس آج عصری اداروں میں مقبول ہے اور اس انداز تدریس کا فائدہ بھی زیادہ نظر آرہا ہے، مدارس کے اساتذہ کرام کو بھی اس سے واقف کرایا جائے اور اس کے مطابق تدریس کا پابند بنایا جائے ۔ تمام کتابوں اور فنون میں تو یہ ممکن نہیں ہے لیکن بعض فنون اور کتابوں میں مدارس میں بھی ایسا ممکن ہے ۔لیکن اس میں محنت زیادہ کرنی پڑے گی ۔

 

(۱۱ ) ارباب مدارس کو چاہئے کہ وقفہ وقفہ سے اساتذہ کرام سے تعلیم و تربیت کو مفید اور بہتر بنانے کے حوالے سے صلاح و مشورہ کرتے رہیں، نظام تعلیم کو بہتر اور مفید بنانے کے حوالے سے ان کی طرف سے جو آراء اور مشورے آئیں ان پر عمل کیا جائے اور ان کی رائے کو اہمیت دی جائے ۔

(۱۲ ) ہر درجہ کے لئے معلم درجہ کا انتخاب کیا جائے اور اس کلاس اور درجہ کی جملہ ذمہ داری اور طلبہ کو بنانے اور سنوارنے کی ذمہ داری ان کے سپرد کی جائے ۔ اور اس کے لئے معلم درجہ کو تنخواہ کے علاوہ خصوصی الاونس دیا جائے ۔ اور جس درجہ کے طلبہ مدرسہ میں نمایاں کامیابی حاصل کریں اس کلاس کے معلم درجہ اور کلاس کے طلبہ کو انعامات، طمغہ اور توصیفی اسناد سے نوازا جائے ۔

(۱۳ ) نمایاں کامیابی اور بہتر کارکردگی کرنے والے طلبہ کو سال کے اختام پر خصوصی انعام دیا جائے ،اسی طرح ان اساتذہ کرام کی حوصلہ افزائی کی جائے جنھوں نے کما حقہ تدریسی اور ثقافتی ذمہ داری کو نبھایا ،اور مدرسے کی شہرت اور نیک نامی کا ذریعہ بنے ۔

(۱۴ ) ہر بڑے مدرسہ میں تقریبا کتب خانہ کا نظام ہوتا ہے ،کہیں کا کتب بڑا ہوتا ہے اور معیاری بھی اور کہیں کا چھوٹا بھی ۔ لیکن آج زیادہ تر مدارس میں کتب خانہ مہمانوں کو دکھانے کے لئے شو پیش ہوتا ہے ،کتب خانہ سے استفادہ کا مزاج نہ طلبہ میں ہوتا ہے اور نہ ہی اساتذہ میں، الا ما شا ء اللہ

بہت سے مدارس کے ذمہ دار تو مالی فراہمی اور دیگر امور میں اتنے مصروف ہوجاتے ہیں کہ کتب خانہ کی طرف دیکھنے اور جھانکنے کی بھی ان کو فرصت نہیں ملتی ۔

ارباب مدارس کو چاہئے کے ان کے اندر بھی کتب بینی کا بھر پور ذوق ہو اور وہ بھی براہ راست کتب خانہ سے استفادہ کریں تاکہ طلبہ اور اساتذہ میں بھی ذوق و شوق پیدا ہو ۔

(۱۳ ) حضرات اساتذہ کو معاشی و اقتصادی پریشانی اور ذھنی ٹینشن سے آزاد رکھنے کے لئے مناسب اور ٹھوس لائحئہ عمل طئے کیا جائے اور وہ اساتذہ جو گھریلو حالات اور معاشی دقت کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں خاموشی سے ان کی مدد کی اور کرائ جائے اور اصحاب ثروت کی توجہ اس جانب مبذول کرائ جائے کہ وہ متمول اور اصحاب خیر ان اساتذہ کی خاموشی سے تعاون کردیا کریں ۔ الحمد للہ راقم الحروف سے اس سلسلے میں جو بن سکتا ہے کرتا ہوں اور اور اہل خیر احباب کو خاص طور پر اس جانب متوجہ کرتا ہوں ۔

(۱۴ ) ان اساتذئہ کرام کو جو مکمل طور پر تدریس سے جڑے رہتے ہیں اور تدریس ہی کے لئے سال بھر اپنے کو یکسو رکھتے ہیں ان کو وصولی اور چندہ پر مجبور نہ کیا جائے ،رمضان المبارک میں ان کو فرصت دے دی جائے کہ وہ اپنے گاوں اور علاقہ کے لوگوں کی خدمت کریں اور وہاں دعوتی اور تبلیغی کاوشوں میں مصروف رہیں تاکہ کچھ مدت اپنے علاقہ میں کچھ خدمت انجام دے سکیں ۔ اور آیت قرآنی اور حکم ربانی ثم رجعوا الی اھلہم لعلھم یحذرون پر بھی عمل کرسکیں۔ ہاں وہ اساتذئہ کرام اور حضرات معلمین جن کا پہلے سے حلقہ بنا ہے اور وہ خوشی خوشی اس فریضہ کو انجام دینا چاہتے ہیں ان کو اس مہم پر اور اس مقصد کے لئے بھیجنے میں کوئ حرج نہیں ایسے اساتذہ کو رمضان المبارک کی ڈبل تنخواہ کے علاوہ حق الخدمت اور اکرامیہ کے طور پر معقول رقم دینے کی بھی کوشش کرنی چاہیے ۔ تاکہ وہ اس کام کو بھی لگن اور دلچسپی کے ساتھ انجام دینے کی فکر کریں ۔

بعض مدارس کے ارباب اہتمام اور ذمہ داران نے جب اس فکر کو اوڑھ لیا کہ حضرات اساتذہ کو رمضان کے موقع پر عیدی کے نام پر کچھ رقم دیں گے اور بغیر سفارتی خدمت کے بھی ان کو رمضان کی ڈبل تنخواہ دیں گے اور اس کے لئے کچھ ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کو حضرات علماء کرام اور مدارس کے اساتذہ سے محبت و عقیدت ہے اور وہ ان کا دل سے احترام و اکرام کرتے ہیں تو یہ مہہم بھی ان کے لئے آسان ہوگیا اور یہ سلسلہ شروع ہو گیا ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ارباب اہتمام اور ذمہ داران مدارس حضرات اساتذہ کو ملازم اور خادم نہ سمجھ کر دین کا رہبر اور محافظ و ترجمان سمجھیں اور دل سے ان کی قدر کریں ۔

 

(۱۵ ) رمضان میں چونکہ کئ گنا اخراجات بڑھ جاتے ہیں اس لئے حضرات اساتذہ کے لئے رمضان بونس کا خصوصی انتظام کیا جائے اگر کسی وجہ سے رمضان سے قبل یہ۰۰ بونس ۰۰ نہ مل سکے تو عید کے بعد مدرسہ کھلنے پر یہ ۰۰بونس ۰۰ اساتذہ کو مل جایا کرے ۔

 

(۱٦) طلبہ میں آفاقیت، وسعت اور علمی تبحر اور گہرائ و گیرائ پیدا کرنے کے لئے دوران سال مختلف علمی و فقہی موضوعات پر ماہرین فن علماء اور ماہرین کے محاضرات رکھے جائیں اور اسلام پر جدید ذھنوں کے اعتراضات پر طلبہ کے درمیان مکالمہ اور مباحثہ کرایا جائے ، میں جب ندوہ میں فضیلت سال دوم میں تھا تو اس زمانہ میں ہمارے ساتھیوں نے ایک مباحثہ اور علمی مکالمہ کرایا تھا جس کا عنوان تھا ۰۰ یکساں سول کوڈ ملک کے لئے مفید یا غیر مفید ؟۰۰

اس مکالمہ کی تیاری کے لئے ایک مہینہ سے زیادہ کا وقت دیا گیا تھا ۔ ہم مفید والی ٹیم میں تھے اور ہماری ٹیم کے قائد اور امیر بھائ ذکی نور عظیم تھے ،مجھے نائب قائد اور امیر ہونے کا شرف حاصل تھا ۔ ندوہ میں اس مکالمہ کا بڑا چرچہ اور تذکرہ تھا ۔عباسیہ ہال میں حضرت مولانا برہان الدین سنبھلی مدظلہ العالی کی صدارت میں اس مکالمہ کا انعقاد ہوا اور حکم کے فرائض انجام دے رہے تھے ، مولانا سید سلمان حسینی ندوی صاحب، پروفیسر انیس چشتی صاحب مولانا عتیق احمد بستوی صاحب اور مولانا ظفر عالم ندوی صاحب، پارلیمانی انداز میں سب کو بحث کرنا لازمی تھا ورنہ تو مسلمانوں کا تو صاف اور واضح عقیدہ ہے. ان الدین عند اللہ الاسلام/ اصل اور قابل قبول دین اللہ کے نزدیک صرف اور صرف اسلام ہے ۔ ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ الخ(القرآن) جو کوئ بھی اسلام کے علاوہ کوئ اور دین اختیار کرے گا وہ ہرگز اس کی جانب سے قابل قبول نہیں ہوگا اور وہ یقینا آخرت میں نقصان اور گھاٹا اٹھانے والوں میں ہوگا ۔

مکالمہ بڑا زبردست اور علمی تھا،فریقین نے زبردست مضبوط دلائل پیش کئے لیکن میری ٹیم مفید والوں کے دلائل فریق ثانی پر سوئے اتفاق بھاری پڑ گئے اور ہماری ٹیم کی جیت کا اعلان کر دیا گیا ،صدر جلسہ کی خواہش اور منشاء تھا اور بالکل صحیح منشاء تھا کہ ہار جیت کا اعلان نہ کیا جائے بلکہ اس کو مبھم رکھ کر صرف یہ کہہ دیا جائے کہ فریقین میں سے دونوں کے دلائل مضبوط تھے اور دونوں فریق نے اچھی تیاری کی تھی ۔ مفید والوں کا یہ کہنا یہ تھا کہ اسلام خدا کا آخری مذہب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی اور رسول ہیں یہ برادران وطن کی مذہبی کتابوں میں بھی درج ہے اور دیگر آسمانی کتابوں میں کھل کر اس کی وضاحت ہے اور اللہ تعالی نے اس آخری دین کے بارے میں فرمایا : الیوم اکملت لکم الخ تو کیوں نہ پوری دنیا میں مذھب اسلام کا قانون نافذ ہو اور سب کے لئے اسلامی شریعت اور اسلامی قانون نافذ ہو ۔ ہم پوری دنیا میں اسلام کا آخری اور ابدی آسمانی مذہب کے طور پر تعارف کرائیں اور اس کی افادیت کو ثابت کریں ۔

خیر اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اس طرح کے پروگرام اور محاضرات سے ہمارے طلبہ کا علمی معیار بلند ہوگا اور جدید ذھنوں کے اعتراضات کا جواب دینا آسان ہوگا ۔

(۱۷ ) فرق باطلہ کے تعارف پر طلبہ کو آمادہ کیا جائے ،آج علمی پستی اور گرواٹ کا حال یہ ہے کہ طلبہ مدرسہ سے فارغ ہوجاتے ہیں اور ان کو ادیان و مذاہب کی حقیقت اور فرق باطلہ کے بارے میں بنیادی اور ابتدائی معلومات بھی نہیں ہوتی ۔ علم کلام کسے کہتے ہیں اس کی کیا حقیقت ہے اس سے بھی ناواقف ہوتے ہیں –

(۱۸ ) مدارس اسلامیہ میں علمی گراوٹ کی ایک اہم اور بنیادی وجہ ملٹی میڈیا موبائل کا بے لگام استعمال ہے ،اس کے مضر اور منفی پہلو کا تذکرہ اوپر بھی کیا گیا تھا ۔

آج ہم مدارس میں طلبہ پر اس موبائل کے استعمال پر پابندی لگانے میں ہر طرح سے ناکام ہیں اور ایک طرح سے ہمت ہار گئے ہیں اور اپنی شکست تسلیم کر چکے ہیں جب کہ یہ کام بہت مشکل اور دشوار نہیں ہے اسی ہندوستان میں بہت سے اسکولس اور کالیجیز ہیں جہاں موبائل پر ہر طرح سے پابندی ہے اور مواسلات اور طلبہ کے گھر سے خبر رسانی اور خیر و عافیت معلوم کرنے کے لئے اور کسی حادثہ اور واقعہ سے باخبر ہونے کے لئے متبادل بلکہ نعم البدل بھی تلاش کر لیا ہے اور طلبہ کی اس شکایت کو دور کر دیا ہے کہ ہمیں گھر کی خیر و خبر کیسے ملے گی ؟

ارباب مدارس ڈرتے اور گھبراتے ہیں کہ اگر ہم زیادہ سختی کریں گے تو طلبہ کم ہوجائیں ہمارا ہاسٹل خالی ہوجائے گا ۔ اور یہاں کے طلبہ دوسرے مدرسے چلے جائیں گے جہاں موبائل کے استعمال پر مکمل چھوٹ ہے ۔ بعض طلبہ نے راز دارانہ انداز میں احقر سے اکر کہا کہ مولانا صاحب ! جب تک اس موبائل پر پابندی نہیں لگے گی اور اس پر سختی نہیں ہوگی ہم میں سے اکثر طلبہ کامیاب اور صلاحیت مند نہیں بن پائیں گے، خدارا اس پر سخت قانون بنوائیے ،ان طلبہ کی وجہ سے جو ایسے موبائل استعمال کرتے ہیں، کمرہ کا ماحول گندہ رہتا ہے ،فیس بک اور واٹسیف پر عریاں تصوریں کثرت سے آتی ہیں جس کی وجہ سے طلبہ کا ذھن منتشر رہتا ہے اور پڑھنے میں ان کی طبیعت نہیں لگتی ہے ۔ اور اس ماحول کا اثر ہم لوگوں پر بھی پڑ رہا ہے ،یہ گھر کے فرد کی گواہی ہے ۔ اس لئے اس سلسلہ میں ٹھوس اور مضبوط قانون بنانے کی سخت ضرورت ہے ۔

(۱۹ ) دار الاقامہ (ہاسٹل) میں طلبہ کی رہائش اور قیام کے سلسلے میں اس بات کا خیال رکھنا بہت ہی ضروی ہے کہ ایک ہی ضلع اور صوبہ کے طلبہ کو ایک کمرہ میں نہ رکھا جائے بلکہ متعدد صوبے اور ضلع کے الگ الگ طلبہ کو ایک کمرہ میں جگہ دی جائے تاکہ علاقیت اور عصبیت کا ماحول نہ پنپنے پائے اور نہ اس کے جراثیم جنم لے سکیں ۔ اسی طرح علاقائی اور صوبائ سطح اور بنیاد پر کسی تنظیم، بزم اور تحریک و سوسائٹی بنانے کی اجازت نہ دی جائے ۔ الحمد للہ دار العلوم ندوة العلماء کو اس سلسلے میں امتیاز و تفوق حاصل ہے ۔ میں (راقم الحروف ) جب عالمیت کے آخری سال میں تھا تو میرے کمرے میں کئ صوبے کے بچے تھے ۔ کرناٹک، مہاراشٹر، یوپی آندھراپردیش، بہار اور مغربی بنگال، اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ طلبہ دوسرے صوبے اور خطے کے کلچر اور وہاں کی تہذیب و معاشرت بود و باش اور خورد و نوش سے واقف ہو جاتے ہیں ۔ نیز علاقیت و وطنیت اور عصبیت و تعصب جنم نہیں لے پاتا ۔ اور جہاں اس کا خیال نہیں رکھا جاتا وہاں آئے دن طرح طرح کے مسائل اور ہنگامے کھڑے رہتے ہیں ۔

(۲۰ ) طلبہ کو خارجی اور بیرونی سرگرمیوں اور مصروفیات سے روکا جائے اور کسی بھی ریلی، مظاہرہ اور سیاسی پروگرام میں طلبہ بغیر ادارے کی اجازت کے قطعا شریک نہ ہوں ۔ ( بعض وقت ملکی حالات اور مصلحت اور ملک و ملت کے وسیع تر فائدہ کے لئے اجازت دی جاسکتی ہے )

(۲۱ ) ارباب اہتمام اس بات بھی خیال رکھیں کہ جس استاد کو دار الاقامہ کا نگراں متعین کریں اس کے اندر نگرانی کی اہلیت ہو وہ بچوں کی نفسیات اور ان کے مزاج و رجحان سے واقف ہو نیز طلبہ کی تربیت کے اصول و آداب سے بھی واقفیت رکھتا ہو ۔ نگراں حضرات کو چاہئے کہ کبھی کبھی ذمہ دار قسم کے طلبہ کو بلا کر دار الاقامہ اور ہاسٹل کی صفائ ستھرائی کے بارے میں مشورہ کریں اور دار الاقامہ کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے ان کی رائے کو بھی جانیں ۔ کبھی کبھی ہاسٹل میں اجتماعی کھانے کا نظم بھی ہو اور نگراں حضرات اور ذمہ داران مدارس بھی اس میں شریک ہوں اور اس کے لئے کچھ رقم مختص ہو جس میں طلبہ بھی شریک ہوں ۔ اور انتظامی امور طلبہ کے ہی سپرد رہے تاکہ ان کو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے ۔

(۲۲ ) مدارس کے اساتذہ عام طور پر غریب یا متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ،گھریلو اور معاشی پریشانی ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے ،بہت سے اساتذہ کی طبیعت پڑھنے پڑھانے میں اس لئے نہیں لگتی ہے کہ وہ گھریلو حالات اور مسائل میں الجھے رہتے ہیں ،ایسے پریشان حال اساتذہ پر انتظامیہ کی نظر رہنی چاہیے اور ان کی معاشی پریشانی اور مسائل کے لئے کوئ تدبیر اور صورت نکانی چاہیے ۔

دوسری طرف مدارس کے اساتذہ کو بھی چاہیے کہ اپنے اندر احساس کمتری و احساس کہتری نہ پیدا ہونے دیں ۔ بلکہ اپنے اندر خودی ،خود داری اور خود اعتمادی کی دولت پیدا کریں ۔ مسائل ،مشکلات اور حالات کو جھیلنے ،انگیز کرنے اور برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں اور اس مصرعہ اور حقیقت پر خاص طور پر نظر رکھیں ۔ کہ

جس کو ہو جان ودل عزیز

وہ اس گلی میں جائے کیوں

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker