مسلم دنیا

عظیم رہنما ڈاکٹر محمد مرسی اہل خانہ کی موجودگی میں سپرد خاک

اخوان المسلمون نے عظیم صدر کی موت کو ’قتل ‘ قرار دیا
پوری دنیا میں مقبول کی قائد کی وفات پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کا سلسلہ جاری
قاہرہ۔ ۱۸؍جون: گزشتہ روز عدالتی کارروائی کے دوران انتقال کر جانے والے مصر کے سابق صدر اور اخوان المسلمون کے عظیم سیاسی رہنما محمد مرسی کی تدفین قاہرہ کے مشرقی علاقے مدینۃ النصر میں کر دی گئی، ہے، تدفین کے وقت سابق صدر کا صرف خاندان موجود تھا۔عوام الناس کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ مرسی کے وکیل عبدالمنعم عبدالمقصود نے بتایا کہ آخری رسومات میں سابق صدر کے صرف اہل خانہ شریک ہوئے۔مرحوم کی نماز جنازہ طرہ جیل کی مسجد میں ادا کی گئی جبکہ انہیں مغربی قاہرہ میں دفن کیا گیا ۔محمد مرسی کے صاحبزادے احمد مرسی نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ مصر کی حکومت نے انہیں اپنے والد کی میت آبائی صوبے شرقیہ لے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد انہیں قاہرہ میں ہی اخوان المسلمین کے دیگر سینئر قائدین کے پہلو میں دفن کردیا گیا ہے۔احمد مرسی نے الزام لگایا کہ مصر کی حکومت نے لوگوں کو سابق صدر کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں شرکت سے بھی روکا اور صرف خاندان کے چند افراد کو ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت دی۔محمد مرسی کے اہلِ خانہ نے بھی ان کی موت کو قتل قرار دیا ہے۔ سابق صدر کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ 2013ء سے مسلسل قید میں تھے جس کے دوران انہیں کئی سال تک قیدِ تنہائی میں بھی رکھا گیا اور انہیں ڈاکٹروں تک رسائی نہیں دی گئی۔اخوان المسلمون نے محمد مرسی کی موت کو ’مکمل طور پر قتل‘ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر میں موجود مصر کے سفارت خانوں کے باہر مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔وہیں ۔ہیومن رائٹس واچ کی مشرقِ وسطیٰ کی ڈائریکٹر سارہ لی وٹسن نے محمد مرسی کی موت کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ محمد مرسی کو قید کے دوران صرف 3 بار اپنے رشتے داروں سے ملنے کی اجازت دی گئی جبکہ انہیں ان کے وکیل اور ڈاکٹر سے بھی ملنے نہیں دیا گیاترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے محمد مرسی کی موت کا الزام مصر کے ’غاصبوں‘ پر عائد کیا ہے جبکہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد ال ثانی نے ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔عظیم رہنما کی وفات پر امت مسلمہ میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے ہندوستان سے لے کر فلسطین تک، ترکی سے لے کر قطر تک ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہندوستان میں مختلف تنظیموں کی جانب سے کی گئی اپیل پرملک کے بڑے بڑے شہروں اور اداروں میں نماز جنازہ ادا کی گئی وہیں ایران، قطر، فلسطین، پاکستان، دوحہ ترکی وغیرہ میں نماز غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ محمد مرسی 1951ء میں مصر کے ضلع شرقیہ کے گاؤں ال ادوا میں پیدا ہوئے، انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ جبکہ امریکا سے پی ایچ ڈی کی۔مصری فوج نے 3 جولائی 2013ء کو مصر کی پہلی جمہوری حکومت کا اقتدار صرف ایک سال بعد اس کا تختہ الٹ کر ختم کر دیا تھا اور محمد مرسی کو ان کے سرکردہ وزراء اور اخوان المسلمون کے رہنماؤں سمیت گرفتار کر کے قید کر دیا تھا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر لیے تھے۔مرسی کو معزول کرنے کے فیصلے کے خلاف اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سخت احتجاج کیا تھا اور انہوں نے قاہرہ میں 2 مقامات پر تقریباً ڈیڑھ ماہ تک دھرنے دیے تھے۔ان دھرنوں کے خلاف مصری فورسز نے 14 اگست 2013ء کو سخت کریک ڈاؤن کیا تھا اور اخوان اور دوسری جماعتوں کے سینکڑوں کارکنوں کو شہید کر دیا تھا۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker