مضامین ومقالات

مسلمانوں کو ایک بابائے قوم کی ضرورت ہے!

عمر فراہی

سن 2001 سے میں نے ایک میگزین زاد سفر سے لکھنا شروع کیا اور پھر کچھ ایک سال بعد ہی ممبی کے ایک موقر اخبار اردو ٹائمس کی جمعہ میگزین میں میرے مضامین مسلسل شائع ہونے لگے ۔عالم اسلام کے حالات کچھ بہت اچھے نہیں تھے خاص طور سے مغرب کی مکاری سے عالم اسلام جس طرح سسک رہا تھا 9/11 کے حادثے نے امریکہ اور مغرب کو اور بھی خونخوار بنا دیا ۔انہوں نے جس طرح افغانستان اور عراق کی حکومت کو تباہ کیا اہل ایمان کا مضطرب ہونا لازمی تھا ۔اس کے بعد جس طرح خود ملک عزیز میں بھی دہشت گردی اور بم دھماکوں کے الزام میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہونا شروع ہوئیں اور مسلمانوں کی بستیوں پر خوف و دہشت کا ماحول بنایا گیا اس حکومتی ناانصافی اور عصبیت کے خلاف ایک قلمکار بھی کیسے مطمئن رہ سکتا ہے ۔میری تحریروں کی شدت کو دیکھ کر والد محترم نے کہا کہ بیٹا لکھنا بند کردو ورنہ کہیں تم خطرے میں نہ پڑ جاؤ۔ان کی بات درست بھی تھی اور کئی بار کچھ مشتبہ فون کال سے یہ محسوس بھی ہوا کہ میری تحریروں پر نظر رکھا جارہا ہے ۔مگر میں اپنے طور پر چونکہ قانون کے دائرے میں تھا اس لئے مسلسل لکھتا رہا ۔ہاں میں نے اتنا ضرور کیا کہ جب والد صاحب دیر رات کو دروازے پر دستک دیتے اور میں لکھ رہا ہوتا تھا تو فوراً کاغذ اور قلم چھپا دیتا تھا تاکہ ان کو محسوس ہو کہ میں نے لکھنا بند کردیا ہے اور جمعہ کے اخبار سے جمعہ میگزین بھی چھپا دیتا تھا تاکہ وہ میرا مضمون نہ پڑھ سکیں ۔بچے جو اس وقت بہت چھوٹے تھے آج مزاق اڑاتے ہیں کہ آپ دادا سے ڈرتے تھے ۔میں جواب دیتا ہوں کہ بیٹا میں ان کا احترام کرتا تھا تاکہ وہ تکرار نہ کر بیٹھیں۔ویسے والد محترم کا میرے لکھنے کے خلاف غصہ ہونا بھی تو میرے حق میں تھا ۔آج وہ شفیق شخصیت میرے درمیان نہیں ہے جو کم سے کم میرے بارے میں فکر مند تو رہتی تھی لیکن باپ حقیقت میں کیا ہوتا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ شاید رسمی طور پر فادر ڈے منانے والے نہ سمجھ سکیں ۔فادر ڈے منانے کی شروعات غالباً سولہویں صدی ہجری میں یورپ سے ہوئی تھی اور اس کے بعد سے نئی نسل ہر سال اپنے زندہ اور مردہ باپ کی یاد میں جشن مناتی ہے ۔ویسے آجکل تمام ڈے اور فتنے کی شروعات مغرب سے ہی ہو رہی ہے اور دنیا ان کی اندھی تقلید بھی اس لئے کر رہی ہے کیوں کہ یورپ نے اٹھارہویں صدی کے بعد اپنی تہذیب وثقافت کو غالب کرنے کیلئے ہر ممکن ذرائع اور وسائل کا بخوبی استعمال کیاہے ۔یہ دنیا کا اصول بھی ہے کہ جب کوئی تہذیب غالب ہوتی ہے تو دیگر قومیں بھی اس کے رنگ میں رنگنا شروع ہوجاتی ہیں اور پھر لوگوں میں ان کے اثرات صدیوں تک دکھائی دیتے ہیں ۔کسی محفل اور تقریب میں جب باپ یا فادر کا تذکرہ آتا ہے تو ذہن میں یہ تصور آتا ہے کہ وہ شادی شدہ ہوگا اور ان کی اولادیں ہونگی ۔اس کے برعکس اگر ہم اس لفظ فادر کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں تو یہ کردار ہماری زندگی میں بہت ہی اہمیت کا حامل نظر آتاہے ۔بظاہر باپ ہونا ایک عام سی بات ہے اور دنیا کا تقریباً ہر مرد اس رتبے اور مرحلے سے کبھی نہ کبھی گزرتاہے جبکہ حقیقی معنوں میں اگر اس کردار کو قوموں اور قبیلوں کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو اسے ایک قوم اور خاندان کا سردار اور رہبر اور گارجین Guardian بھی کہا جاسکتا ہے ۔Guardian انگلش کے لفظ Guard سے وجود میں آیا ہے جس کے معنی محافظ کے ہوتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں اسے خلیفہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔جیسا کہ عربی کے اس لفظ خلیفہ کا قرآنی مفہوم بھی یہ ہے کہ جو محفوظ کر دے یا جو نائب رسول کا حق ادا کرے ۔دنیا میں بھیجا گیا ہر نبی اور رسول بھٹکے ہوۓانسانوں کا گارجین اور خلیفہ ہی مقرر کیا گیا تھا اسی لئے رسولوں کے بعد قوموں میں جو ان کے جانشین ہوۓ مغرب میں انہیں Godfather گاڈ فادر کہا گیا اور مسلمانوں میں انہیں خلیفہ کا درجہ حاصلِ ہے ۔آپ مغرب کے اس گاڈ فادر کی اصطلاح سے مراد آئیڈیل سے بھی لے سکتے ہیں ۔عیسائیوں میں کلیسا کے پادری کو اسی لفظ فادر کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ عیسائیوں کا یہ فادر شادی شدہ بھی نہیں ہوتا اور میں نے دیکھا ہے کہ چرچوں کے یہ فادر اپنی قوم کے باپ ہونے کی ذمداری ادا کرتے ہوۓ علاقے کے عیسائی خاندانوں کی خبر گیری بھی کرتے ہیں ۔قومی اصطلاح میں اس فادر کو آپ بابائے قوم کا بھی نام دے سکتے ہیں ۔خوش قسمتی سے یہ اصطلاح جدید تحریک آزادی ہند کے دور میں بھی استعمال ہوتی رہی ہے ۔آج مسلم قوم کو شدت کے ساتھ اسی ایک غیرت مند باباۓ قوم کی ضرورت ہے تاکہ مشکل اور خوف ودہشت کے حالات میں قوم کو اس کی رہنمائی حاصل ہو اور وہ اپنی قوم کیلئے آہنی دیوار کا کردار ادا کرتے ہوۓ حق اور انصاف کی آواز بلند کرسکے ۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker