فقہ وفتاویٰ

قضیہ غائبانہ نماز جنازہ کا اور ہمارا رویہ

 

مفتی توقیر بدر آزاد القاسمی

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!

امید ھیکہ آپ خیریت سے ہونگے
مسئلہ یہ ھیکہ غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا صحیح ہے یا نہیں؟
شان الٰہی مئو یوپی انڈیا
__________________
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ!اللہ کا کرم ہے.

سب سے پہلے تو یہ کہدوں کہ ہمارا یہ رویہ واقعی قابل افسوس ہے،ساتھ ہی ساتھ ہماری فکری تربیت کا نقص بھی،کہ کونسی بات کب اور کیسے ہونی چاہیے،ہماری انرجی اور صلاحیت کہاں صرف ہونی چاہئے،ہم اس مظہر سے نا آشنا اور نکتے سے محروم ہیں.صرف آپ ہی نہیں آپ کے علاوہ بھی کیی احباب گروپ سے علیحدہ پرسنل نمبر پر یہی سوال پوچھتے نظر آرہے ہیں!
حالانکہ ابھی تو ہر حساس کو نفع انسانیت کے واسطے ظالم و مظلوم کی بحث کرکے سنت رسول کا احیاء کرنا تھا.ظالم کا انجام و حشر اس قدر بیان کرنا تھا،کہ کویی بھی ظلم کرنے سے قبل سو بار سوچے…مگر نہیں!

نجی مجلس سے لیکر سوشل میڈیا تک جہاں جسے دیکھیے،سبھی ایک ہی مشغلے میں سرگرداں نظر آرہے ہیں!وہ ہے “غایبانہ نماز جنازہ” یعنی اگر ایک غایبانہ جنازے کی نماز کی اپیل کرتا ہے،تو دوسرا اسکی تردید!!

اس طرح پھر سے ایک عجیب وغریب بحث کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے،آپ یہ سب سوشل میڈیا پر جاکر دیکھ سکتے ہیں،یہ اسکے گواہ ہیں.

خیر سوال غایبانہ نماز جنازے کا ہے تو سن لیجیے یہ مسیلہ”عین دین”نہیں کہ اس میں علمی اختلاف کا در آنا گویا دین کو ترک کردینا ہے،بلکہ یہ “تعبیر دین” کے ذیل میں آتا ہے،یعنی اسکی تعیین و تعبیر میں اکابر فقہاء رحمھم اللہ کا اختلاف ہوا ہے، چناچہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ نے اس طرح کی نماز جنازہ کی نفی کی ہے اور امام شافعی و امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ اسکے قایل ہیں.
ایسا کیسے؟تو اسکا جواب یہی ہے کہ اس بابت ان سبھی کے راہنما مستدلات دراصل قول نبی و فعل نبی وأفعال صحابہ ہیں.

مطلب صاف ہے کہ جو لوگ قایل ہیں وہ کہتے ہیں کہ حضور پرنور صلی اللہ علیہ و سلم کو نجاشی بادشاہ {جو کل کے ملک حبشہ أور آج کے ایتھوپیا میں اسلام لا چکے تھے}کی وفات کی خبر ملی،تو آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو ساتھ لیکر انکے حق میں غایبانہ نماز جنازہ اپنی جگہ یعنی مدنیہ میں رہتے ہوئے ادا کی اور دعائیں دیں! اس سے معلوم ہوتا ہے کہ “غایبانہ نماز جنازہ”اسلام میں قابل قبول ہے اور یہ عام ہے یعنی قیامت تک اس کو ہر ایک کے حق میں روا رکھا جا سکتا ہے،جبکہ دیگر ایمہ حضرات جو اسکی نفی کرتے ہیں،جیسا کہ اوپر کہا گیا،وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک خاص واقعہ تھا جس کی اجازت اس وقت ملی،یا پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ خصوصیت تھی،امت کے لیے اس میں تعمیم کی گنجایش نہیں،بطور دلیل انکا کہنا ہے کہ اگر یہ عام بات ہوتی تو پھر ایک بار نہیں کیی بار ایسا ہوتا،کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے لیکر عہد صحابہ تک دور دراز علاقے میں اموات ہوتی رہیں،خبریں بھی موصول ہوییں،مگر غایبانہ نماز جنازہ کا دوبارہ ایسا تصور،اہتمام یا عمل نجاشی رح کے علاوہ ہمیں کہیں نظر نہیں آتا.ظاہر ہے اس دلیل میں دَم بھی ہے.

تاہم جنہوں نے اجازت دی ہے، انکے پاس بھی حدیث تعمیم و تخصیص سے پرے فی نفسہ مطلق طور پر موجود ہے.

یہیں پر رک کر آداب اختلاف و تحمل سے متعلق مشہور وہ تربیتی جملہ بھی یاد کریں جو ہمیں اصول فقہ کے پہلے سبق میں پڑھایا جاتا ہے”ہم خود کو دلیل کی روشنی میں صواب پر جانیں،دوسروں کو خطأ پر محمول کرتے ہوئے،اس امکانی خطا والے احساس کے ساتھ کہ ممکن ہے فریق مقابل صواب پر ہو”

راقم یہاں پر ایک بات اور کہنا مناسب سمجھتا ہے.وہ یہ کہ نجاشی رح والی نماز جنازہ کے متعلق ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا نظریہ اور انکی تحقیق یہ رہی ہے کہ نجاشی کا حبشہ میں وفات پانا،وہاں کسی اور صاحب ایمان کا نہ ہونا،جس کے نتیجے میں نماز جنازہ کا نہ ہوپانا اور بالآخر اس وداعی سفر پر جانے والے کو دعا کے ساتھ رخصت کرنے کے لیے آقا صلی اللہ علیہ و سلم کادور رہ کر ہی سہی غایبانہ طور پر اسکا اہتمام کرنا،ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم ایسے افراد کے جنازے کا غایبانہ اہتمام کریں جنکا اہتمام کرنے والا انکے حاضرین میں سے کویی نہ ہو!

اب جس پس منظر میں سوال اٹھایا جارہا ہے،اپیل کی جارہی ہے أور پھر اسکی تردید میں فتاوی گردش کر رہے ہیں،ان سب کو مد نظر رکھتے ہوئے راقم کی ذاتی تجویز یہ ہے کہ مرحوم صدر مرسی کے حق میں نماز غایبانہ کا اہتمام ہونا چاہیے،یا نہیں، اس پر صاحب نظر علماء کو غور کرنا چاہیے،کیونکہ خبریں اس طرح موصول ہو رہی ہیں کہ انہیں گمنام جگہ منتقل کیا گیا ہے،فقط دو بیٹے اور ایک وکیل کو جنازے میں شرکت کی اجازت دی گیی ہے،ظاہر ہے وہ اس کے تو مستحق نہ تھے؟پتا نہیں یہ تینوں بھی کہاں تک اس میں شرکت کے مجاز ٹھہرے؟لہذا ہمیں یہاں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی تحقیق کے مطابق عمل کرنے کی گنجائش نظر آتی ہے.

باقی جنہیں غایبانہ نماز جنازہ والا عمل، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طرز زندگی سے میل کھاتا نظر نہیں آتا اور وہ اسے ناروا سمجھتے ہیں تو یہ انکا حق ہے، کیونکہ وہ بھی اپنی جگہ درست ہیں.ان سے الجھنا یا انہیں تنگ نظر کہنا یہ قطعا درست نہیں! ھذا عندی والصواب عنداللہ!
18/5/2019
توقیر بدر القاسمی ڈایریکٹرالمرکزالعلمی للافتا والتحقیق سوپول بیرول دربھنگہ بہار انڈیا

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker